Back to امام باقر ع

اما م باقر (ع) اپنے بعض شیعوں کو نصیحت

🔴 اما م باقر (ع) اپنے بعض شیعوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں، 

 

اے میرے شیعو ! سنو اور سمجھو ! ان وصیتوں کو جو ہمارے دوستوں کے لئے ہمارے عہد کی حیثیت رکھتی ہیں۔

دیکھو ، قول میں صداقت سے کام لو معاملات میں دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، آپس میں لوگوں کے ساتھ مالی ہمدردی کرو، دلوں سے ایک دوسرے کو دوست رکھو، فقراء پر مال خرچ کرو،امور میں اتحاد و اتفاق رکھو، کسی کے بارے میں خیانت اور فریب سے کام نہ لو، یقین کے بعد شک پیدا مت کرو، اقدام کے بعد بزدلی کا مظاہرہ مت کرو، خبردار کوئی اہل مودت سے پیٹھ نہ پھرائے ، اغیار کی محبت کی خواہش مت رکھو اور نہ ان سے دوستی کی فکر کرو، اللہ کے علاوہ کسی کے لئے عمل نہ کرو اور نبی کے علاوہ کسی پر ایمان نہ رکھو اور نہ اس کا قصد کرو، اللہ سے مدد طلب کرو اور پھر صبر کرو“ زمین اللہ کی ہے وہ جس کو چاہتاہے اپنے بندوں میں سے اس کا وارث بنادیتاہے اور عاقبت صرف صاحبان تقویٰ کے لئے ہے، یاد رکھو خدا اپنی زمین کا وارث نیک بندوں کے علاوہ کسی کو نہ بنائے گا۔

دیکھو ہمارے شیعوں میں اللہ اور رسول کا دوست وہی ہے جو بات میں سچاہو، وعدہ کو وفا کرتاہو، امانت کو پہونچا دیتاہو، حق کا بوجھ اٹھا لیتاہو واجب مطالبات پر عطا کرتاہو، حق کے احکام پر عمل کرتاہو، ہمارا شیعہ وہی ہے جس کی سماعت اس کے علم سے آگے نہیں جاتی ہے۔ہمارے بارے میں عیب لگانے والوں کی تعریف نہیں کرتاہے، ہمارے دشمن سے تعلقات نہیں رکھتاہے، ہم سے بیزار رہنے والوں کے ساتھ بیٹھتا نہیں ہے،مومن سے ملاقات کرتاہے تو اس کا اکرام کرتاہے۔ جاہل سے ملتاہے تو اسے نظر انداز کردیتاہے ہمارا شیعہ کتوں کی طرح شور نہیں مچاتاہے اور نہ کوّوں کی طرح لالچی ہوتاہے، ہمیشہ صرف اپنے برادران ایمانی سے سوال کرتاہے اور اغیار سے سوال نہیں کرتاہے چاہے بھوکا ہی کیوں نہ مرجائے، ہمارا شیعہ ہماری جیسی بات کرتاہے اور ہمارے معاملہ میں اپنے دوستوں کو بھی چھوڑ دیتاہے اور ہماری محبت میں دور والوں کو قریب بنالیتاہے اور ہماری دشمنی کی بنا پر قریب والوں کو بھی دور کردیتاہے۔

 

حوالہ : (دعائم الاسلام 1 ص 64)۔

 

🔴 شیعوں کے اکھٹے ہونے کا مقصد کیا ہونا چاہئے ؟ (بمناسبت ولادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام)* ***

 

حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

 

*تزاور روا فی بیوتکم، فان ذلک حیاتہ لامرنا، رحم اللہ عبدا احیی امرنا*

 

"ایک دوسرے کے پاس ملاقات کے لئے جایا کرو کیونکہ اس کام سے ہمارا امر (دین/ راستہ/ احکامات) زندہ رہتے ہیں، اللہ اس شخص پر رحمت نازل کرے جو ہمارے امر کو زندہ کرتا ہے۔"

 

(خصال، شیخ صدوق، جلد 1، صفحہ 22، طبع قم)

 

*درس:*

 

اس روایت میں امام (ع) ہمیں ہماری محافل و مجالس و ملاقاتوں کا مقصد بتا رہے ہیں۔ امام ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ جب آپ لوگ اکھٹے ہوں تو اس کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس سے آل محمد کا راستہ زندہ ہو۔ لوگوں کے سامنے آل محمد کے آثار نمایاں ہوں۔ لوگوں کو قرآن و حدیث صحیح طرح سننے و سمجھنے کو ملے۔ تا کہ کوئی بھی شخص بدعقیدتی کا شکار نہ ہو۔

 

کیونکہ جب امام کا امر زندہ ہو گا تو منحرفین کا امر مردہ ہو جائے گا۔ لوگوں میں شعور و بیداری پیدا ہو جائے گی اور ان کے اندر احساس ذمہ داری آ جائے گا۔ لیکن یہ سب صرف تب ہی ممکن ہے جب آل محمد کا امر زندہ ہو اور ایسے خوش نصیب افراد کو امام دعا بھی دے رہے ہیں۔۔۔۔۔

 

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج ہماری مجالس و محافل و ایام مبارکہ و مقدسہ میں آل محمد کا امر زندہ ہونا تو دور بلکہ ڈسکس ہی نہیں ہوتا اور آل محمد کے کتنے ہی اوامر آج ہمارے ہی ہاتھوں بدلے جا چکے ہیں اور مردہ ہونے کے قریب ہیں۔ آج محافل و مجالس میں جو مزاق ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے جب کہ امام نے محافل و مجالس کا جو مقصد بیان کیا تھا وہ کس طرح پاوں تلے روندھا جا رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔۔۔۔۔۔ 

 

معصومین کا امر زندہ نہ کرنے کی آج اللہ نے ہمیں یہ سزا دی ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کو ہم اپنی مجالس میں شریک کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ معصومین کے پاس ہر انسان بلا تفریق آتا تھا۔

 

سوال یہ ہے کہ معصومین کے یہ فرامین کب بیان ہونگے اور ان پر عمل کب کیا جائے گا ؟ کب تک معصومین کے اوامر کو عوام سے چھپایا جاتا رہے گا ؟ ؟ ؟

 

یہ ایام ولادت و شہادت بھی اگر آئمہ کے امر کو زندہ نہیں کر پا رہے تو پھر ہم یہ کام کب کریں گے اور کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ ایام ولادت پر بھی ہم لوگ ان ہستیوں کے آثار کو زندہ کرنے کی بجائے عجیب و غریب کاموں میں پڑے ہوئے ہیں ؟

 

🔴 امام محمد باقر علیہ السلام کی وصیت سے اقتباس

 

أُوصیکَ بِخَمْس.

🍀إِنْ ظُلِمْتَ فَلا تَظْلِمْ

🍀وَ إِنْ خانُوکَ فَلا تَخُنْ

🍀وَ إِنْ کُذِّبْتَ فَلا تَغْضَبْ

🍀وَ إِنْ مُدِحْتَ فَلا تَفْرَحْ

🍀وَ إِنْ ذُمِمْتَ فَلا تَجْزَعْ.

 

امام محمد باقر علیہ السلام جناب جابر بن یزید جعفی کو وصیت کرتے ہوئے فرماتا ہے.

میں تجھے پانچ چیزوں کی وصیت کرتا ہوں

1: اگر تمھارے اوپر ظلم کیا جائے تب بھی تم ظلم مت کرو.

2: اگر تمھارے ساتھ خیانت کرے تم کسی کے ساتھ خیانت نہ کرو.

3: اگر تجھے جھٹلائے تو تم غصہ میں مت آجاو.

4: اگر تمھاری تعریف کیا جائے تو خوشحال مت ہوجاو

5: اور اگر کوئی تیری مذمت کرے تو بیتابی نہ کرو.

 

📚میزان الحکمت ج 4 ص 3540

 

🔴 امام باقرٴ مختلف طريقوں سے لوگوں کو حکمرانوں پر اعتراض اور ان کو نصيحت کرنے کي ترغيب دلايا کرتے تھے

 

آپٴ سے منقول ايک روايت ميں آيا ہے کہ:

من مشيٰ اليٰ سلطان جائرٍ فامرہ بتقوي اللہ و وعظہ و خوّفہ کان لہ مثل اجر الثقلين من الجن و الانس و مثل اجورھم۔

جو ظالم حاکم کے پاس جاکر اسے خدا سے ڈرائے اور نصيحت کرے اور اسے قيامت کا خوف دلائے، اس کے لئے جن و انس کا اجر ہے

 

دعائم الاسلام ج١ ص٩٥

 

تبصرہ : جب حکمران پر تنقید جاتی ھے تو اسکے چاھنے والے کو تکلیف شروع ھو جاتی ھے