Back to امام باقر ع

سیرتِ امام محمد الباقر ع

سیرتِ امام محمد الباقر ع

 

[٢/١٢٩٥] ثواب الأعمال: عن أبيه عن الحميري عن أحمد بن محمد عن ابن محبوب عن أبي محمد الوابشي و ابن بكير و غيره رووه عن أبي عبدالله ﷺ قال: كان أبي أقل أهل بيته مالا و أعظمهم مؤنة، قال: وكان يتصدق كل جمعة بدينار، وكان يقول: الصدقة يوم الجمعة تضاعف لفضل (يوم) الجمعة على غيره من الأيام.

 

امام جعفر صادق ع نے فرمایا میرے والد امام باقر ع کے پاس ایک وقت پیسے کم تھے اور ان کے اخراجات بڑھ رہے تھے تو انہوں نے جمعہ کو صدقہ کرنا شروع کر دیا ۔ وہ کہتے تھے کہ جمعہ کے دن صدقہ کا ثواب دو گناہ ہے کیونکہ جمعہ دوسرے دنوں سے افضل ہے ۔

 

[٦/١٢٩٩] الکافی : وعن علي عن أبيه عن ابن محبوب عن ابن رئاب عن زرارة قال: حضر أبو جعفر جنازة رجل من قريش و أنا معه وكان فيها عطاء فصرخت صارخة فقال عـطاء: لتسكين أو لنرجعن قال: فلم تسكت، فرجع عطاء قال: فقلت لأبي جعفر : إن عطاء قد رجع قال: ولم؟ قلت: صرخت هذه الصارخة فقال لها: لتسكين أو لنرجـعـن فـلم تسكت فرجع فقال: امض بنا فلو أنا إذا رأينا شيئاً من الباطل مع الحق تركنا له الحق، لم نقض حق مسلم، قال: فلما صلى على الجنازة قال وليها لأبي جعفر : ارجع مأجوراً رحمک الله فإنك لا تقوى على المشي فأبى أن يرجع، قال فقلت له: قد أذن لك في الرجوع ولي حاجة أريد أن أسألك عنها فقال: امض فليس باذنه جئنا و لا باذنه نرجع، إنما هو فضل و أجر طلبناه فبقدر ما يتبع الجنازة الرجل يؤجر على ذلك.

 

زرارہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام باقر ع قریش کے ایک شخص کے جنازے میں شامل ہوئے ، عطاء بھی ادھر موجود تھے ۔ ایک عورت ادھر زور سے رونے لگی . عطا نے کہا تم چپ ہو جاؤ ورنہ میں ادھر سے چلا جاؤں گا ، وہ عورت خاموش نہ ہوئی اور عطاء ادھر سے چلے گئے ۔ میں نے امام باقر ع سے کہا کہ عطا اس وجہ سے واپس چلا گیا تو امام نے فرمایا ہم آگے تک جائیں گے ۔ جب نماز جنازہ ہوگئی تو مرحوم کے لواحقین نے امام باقر ع سے درخواست کی ہے آپ میں آگے تک چلنے کی طاقت نہیں آپ واپس لوٹ جائیے اللہ آپ کو آپ کے احسانات کے بدلے نوازے ، لیکن امام باقر ع نے آگے تک جانے پر اصرار کیا ۔ میں نے امام سے کہا کہ مرحوم کے لواحقین نے آپ کو اجازت دے دی کہ آپ واپس گھر لوٹ سکتے ہیں ۔ میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ، امام نے فرمایا ہم آگے تک جائیں گے ۔ ہم اس جنازے میں مرحوم کے لواحقین کی اجازت سے شامل نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی ان کی اجازت سے واپس جائیں گے ، یہ تو خالصتاً ثواب اور نیکی کا معملہ ہے ، اور جو جتنا چلتا ہے اسے اتنا ثواب ملے گا ۔

 

[۹/۱۳۰۲] فروع الكافي: محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد عن ابن فضال عن ابن بكير عن زرارة قال: قلت لأبي جعفر : قد أدركت الحسين قال: نعم أذكر وأنا معه في المسجد الحرام و قد دخل فيه السيل.

 

زرارہ کہتے ہیں میں نے ایک مرتبہ امام الباقر ع سے پوچھا کیا آپ امام حسین ع سے ملے ہوئے ہیں ؟ امام نے فرمایا ہاں مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا میں مسجد الحرام میں ان کے ساتھ تھا جب اس میں پانی داخل ہوا تھا ۔

 

[٣/١٢٩٦] فروع الكافي: عن محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد عن العباس بن موسى الوراق عن أبي الحسن قال: دخل قوم على أبي جعفر (صلوات الله عليه) فرأوه مختضبا فسألوه فقال: إني رجل أحب النساء فأنا (أتصنع) لهن.

 

امام ابو الحسن ع فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ امام باقر ع کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے اپنے بالوں پر سیاہ خضاب لگایا ہوا تھا تو انہوں نے اس کے بارے میں پوچھا ، امام نے جواب دیا کہ میں ایک مرد ہوں اور خواتین سے محبت کرتا ہوں اور مجھے ان کے سامنے سنوارنا پسند ہے ۔

 

[1297 / 4] الکافی : عن علي عن أبيه عن ابن أبي : عمير عن حماد عن الحلبي قال: سألت أباعبدالله عن خضاب الشعر فقال: قد خضب النبي ﷺ والحسين بن علی و ابوجعفر بالكتم

 

حلبی کہتے ہیں میں نے امام جعفر صادق ع سے خضاب لگانے کے متعلق پوچھا ، آپ نے جواب دیا رسولِ خدا ﷺ ، امام حسین ع اور امام باقر ع کتم کے ساتھ خضاب لگایا کرتے تھے ۔

 

[۱۲۹۸ / ٥] و بالاسناد عن ابن أبي عمير عن معاوية بن عمار قال: رأيت أبا جعفر ﷺ مخضوبا بالحناء.

 

معاویہ بن عمار کہتے ہیں میں نے امام باقر ع جو دیکھا انہوں نے الحناء سے خضاب لگایا تھا ۔

 

الکافی : حَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْوَشَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ (عليه السلام) لَيْلَةً وَ أَنَا عِنْدَهُ وَ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَذِهِ قُبَّةُ أَبِينَا آدَمَ (عليه السلام) وَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ سِوَاهَا تِسْعَةً وَ ثَلَاثِينَ قُبَّةً فِيهَا خَلْقٌ مَا عَصَوُا اللَّهَ طَرْفَةَ عَيْنٍ.

 

ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں امام باقر ع کے ساتھ تھا آپ نے آسمان کی طرف نگاہ کر کے فرمایا اے ابو حمزہ ، یہ گنبد ہمارے جد امجد آدم ع کا ہے ، اور اللہ نے اس جیسے مزید 39 گنبد پیدا کیے ہیں جن میں ایسی مخلوق ہے جو ایک پلک جھپکنے میں بھی خدا کی نافرمانی نہیں کرتے ۔

 

سند : صحیح - مراۃ العقول 6 / 167

 

الکافی : ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عليه السلام) قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَعْطَى الْمُؤْمِنَ ثَلَاثَ خِصَالٍ الْعِزَّ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ الْفَلْجَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ الْمَهَابَةَ فِي صُدُورِ الظَّالِمِينَ

 

امام باقر ع نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومن کو تین خصلتیں عطا کی ہیں، دنیا و آخرت میں عزت، دنیا و آخرت میں کامیابی، اور ظا----لموں کے سامنے عزت۔

 

سند : حسن - مراۃ العقول 6 / 177