Back to امام باقر ع

حضرت امام محمد باقر ع کے نام کا مطلب کیا ہے ؟؟؟

حضرت امام محمد باقر ع کے نام کا مطلب کیا ہے ؟؟؟

 

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رض سے ایک تفصیلی روایت مروی ہے جس میں آپ رسول اللہ ص سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ص ایک مرتبہ بیٹھے ہوئے تھے اور بار بار کہتے تھے:

 

وكان ينادي يا باقر العلم، يا باقر العلم۔ ۔ ۔

 

"اے باقر العلم اے باقر العلم (اے علم کے شگافتہ کرنے والے)"

 

اس کے بعد حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے فرمایا:

 

 *إنك ستدرك رجلا مني اسمه اسمي وشمائله شمائلي، يبقر العلم بقرا*

 

 تم ایک شخص سے ملاقات کرو گے جس کا نام میرا نام پر ہو گا جس کے خصائل میرے خصائل ہونگے، وہ علم کے سرچشموں کو شگافتہ کرے گا

 

(الکافی، شیخ کلینی، جلد 1، صفحہ # 469، طبع بیروت)

 

شیخ عباس قمی رح لکھتے ہیں:

 

*علما گفتہ اند کہ آن حضرت را باقر گفتند، لتبقرہ فی العلم و ھو تفجرہ و توسعہ چہ آن حضرت شکافندہی علوم اولین و آخرین و دلش بحر پھناور و چشمہ ی جو شندہ ی علم دانش بود*

 

"علماء کہتے ہیں کہ حضرت ع کو باقر اس لئے کہتے ہیں چونکہ آپ علوم اولین و آخرین کو شگافتہ کرینگے اور آپ کا دل وسیع سمندر اور جاری چشمہ ہے علم و دانش کا۔"

 

(منتھی الآمال، شیخ عباس قمی، جلد # 2، صفحہ # 771، طبع قم)

 

🌹 *باقر کی وجہِ تسمیہ*🌹

 

☑✍ *باقر*, بقرہ سے مشتق اور اسی کا اسم فاعل ھے اِس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ھیں-

 

المنجد/ص:۴۱

 

حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کو اِس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سربستہ خزانے ظاھر فرمادئیے جو لوگوں پر ظاھر و ھویدا نہ تھے-

 

صواعق محرقہ/ص۱۲۰

 

 ☑⬅جوھری نے اپنی صحاح میں لکھا ھے کہ " *توسع فی العلم*" کو بقرہ کھتے ھیں-اسی لئے امام محمد ابن علی (ع) کو *باقر* سے مُلقب کیا جاتا ھے-

 

چودہ ستارے/ص:۳۱۲

 

علامہ سبط جوزی کا کھنا ھے کہ کثرت سجود کی وجہ سے چونکہ آپ (ع) کی پیشانی وسیع تھی اس لیے آپ (ع) کو باقر کھا جاتا ھے اور وجہ یہ بھی ھے کہ جامعیت علمیہ کی وجہ سے آپ (ع) کو یہ لقب دیا گیا ھے-

 

چودہ ستارے/ص:۳۱۲

 

شھید ثالث علّامہ نُور اللہ شوشتری علیہ الرّحمہ کا کھنا ھے کہ آنحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا ھے کہ 

 

 " *امام محمد باقر علیہ السّلام علُوم و معارف کو اس طرح شگافتہ کر دیں گے...جس طرح زراعت کے لیے زمین شگافتہ کی جاتی ھے

 

مجالس المومنین/ص:۱۱۷