امام باقر ع کی امام جعفر ع کو شہادت سے پہلے دفین کے متعلق وصیتیں
[۱۳۰۳ / ۱] فروع الكافي: علي بن إبراهيم عن أبيه عن ابن أبي عمير عن حماد بن عثمان عن أبي عبدالله ﷺ قال: إن أبي قال لي ذات يوم في مرضه: يا بني أدخل أناسا من قريش من أهل المدينة حتى أشهدهم، قال: فأدخلت عليه أناساً منهم فقال: يا جعفر إذا أنا مت فغسلني وكفني وارفع قبري أربع أصابع ورشه بالماء فلما خرجوا قلت: يـا أبـة لو أمرتني بهذا لصنعته ولم ترد أن أدخل عليك قوما تشهدهم؟ فقال: يا بني أردت أن لا تنازع.
امام جعفر ع نے فرمایا میرے والد امام باقر ع نے اپنی آخری ایام میں مجھے کہا کہ اے بیٹا مدینہ کے قریشی خاندان کے کچھ لوگوں کو بلا کر لاؤ تاکہ میں انہیں گواہ بنا سکوں ، جب وہ آگئے تو امام باقر نے ان کے سامنے مجھ سے فرمایا میرے فوت ہوجانے کے بعد مجھے غسل دینا ، کفنانا اور میرے قبر کو چار انگلی بلند کرنا اور پانی چھڑکنا ۔ جب وہ لوگ چلے گئے میں نے کہا اے والد جان ، آپ نے اس کام کے لئے لوگوں کو کیوں بلایا آپ مجھے بتا دیتے تو میں حکم بجا لاتا ۔ آپ نے فرمایا اس لئے تاکہ تم سے کوئی جھگڑا نہ کرے ۔
[۲/۰] روضة الكافي: عن عدة من أصحابه عن البرقي عن أبيه عن النـضـر عـن الحلبي عن ابن مسكان عن زرارة عن أبي جعفر ﷺ قال: رأيت كأنـي عـلى رأس جبل و الناس يصعدون (إليه) من كل جانب حـتى إذا كثروا عـلـيـه تـطـاول بـهـم فـي السـماء و جعل الناس يتساقطون عنه من كل جانب حتى لم يبق منهم أحـد إلا عصابة يسيرة ففعل ذلك خمس مرات في كل ذلك يتساقط عنه الناس و تبقي تلك العصابة أمـا إن قيس بن عبدالله بن عجلان في تلك العصابة، (قال): فـما مكث بعد ذلك إلا نحوا من خمس حتی هلک.
زرارہ کہتے ہیں امام باقر ع نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک پہاڑ کے کنارے کھڑا ہوں اور لوگ ہر طرف سے اس پہاڑ پر چڑھے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب کافی لوگ جمع ہو گئے تو وہ پہاڑ آسمان کی طرف بلند ہو گیا اور لوگ اس کے اطراف سے نیچے گرنے لگے یہاں تک کہ ایک آدمیوں کا گروہ جو چھوٹا سا تھا اس کے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہا اور یہ کام پانچ دفعہ ہوا اور ہر دفعہ ان ہی لوگوں کو نیچے گراتا رہا اور یہ چھوٹا گروہ ہی باقی رہتا تھا اور جان لو کہ قیس بن عبداللہ بن عجلان اس گروہ میں تھا جو چھوٹا سا اپنی جگہ پر رہتا تھا ۔ زرارہ کہتے ہیں کہ اس خواب کو پانچ دن گزرے تھے کہ امام باقر ع اس دنیا سے چل بسے
[3/1304] وعن البرقي عن البزنطي عن حماد بن عثمان قال: حدثني أبو بصير قال: سمعت أبا عبداللہ ﷺ يقول: إن رجلا كان على أميال من المدينة فرأى في منامه، فقيل له: انطلق فصل على أبي جعفر! فان الملائكة تغسله في البقيع، فجاء الرجـل فـوجـد أبـا جعفر ال قد توفي.
امام جعفر صادق ع نے فرمایا کہ ایک شخص مدینہ سے کچھ فاصلے پر تھا تو اس نے خواب میں دیکھا کہ اسے کہا جارہا ہے کہ امام جعفر ع کی نماز جنازہ پڑھو انہیں بقیع میں غسل دیا گیا ہے۔ جب وہ شخص مدینہ پہنچا تو اسے پتا چلا کہ امام باقر دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
[4/1305] الکافی :عن العدة عن أحمد بن محمد عن علي بن الحكم عن يونس بن يعقوب عن أبي عبداللہ ﷺ قال: قال لي أبي: يا جعفر أوقف لي من مالي كذا وكذا لتوادب تندبني عشر سنين بمنى أيام منى.
امام باقر ع امام جعفر ع کو وصیت کی کہ جب دنیا میں رخصت ہوجاؤں تو میری فلاں فلاں جائیداد میں سے خاص رقم منا میں میرے لئے عزاداری کے واسطے خرچ کرنا۔
[1307 / 6] الکافی :عن علي عن أبيه عن ابن أبي عمير عن حماد عـن الـحـلـبـي عـن أبـي عبداللہ ﷺ قال: كتب أبي في وصيته أن أكفنه في ثلاثة أثواب أحدها رداء له حبرة كان يصلي فيه يوم الجمعة وثوب آخر و قميص، فقلت لأبي: لم تكتب هذا؟ فقال: أخاف أن يغلبك الناس و أن قالوا: كفنه في أربعة أو خمسة فلا تفعل و عممني بعمامة وليس تعد العمامة من الكفن إنما يعد ما يلف به الجسد.
امام جعفر ع نے فرمایا امام باقر ع نے وصیت نامہ لکھا کہ مجھے تین پارچوں میں کفن دیا جائے ۔ ایک وہ جس میں جمعہ کی نماز پڑھتے تھے ایک کپڑا اور ایک قمیض ، میں نے پوچھا آپ یہ سب لکھ کیوں رہے ہیں ، آپ نے فرمایا مجھے ڈر ہے لوگ تم پر دباؤ ڈالیں گے کہ چار یا پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے تم ایسا نہ کرنا ۔ میرے سر پر عمامہ باندھنا اور کفن ایسا ہو کہ پورے جسم کو لپیٹ لے ۔
🖋 علی بن ابراھیم قمی
Gallery
Tap any image to view full screen