فاطمہ بنت حسن ؑ، حضرت امام سجاد ؑ کی زوجہ، حضرت امام محمد باقر ؑ کی والدہ اور واقعہ کربلا میں اسیر ہونے والی خواتین میں سے ہیں۔

 

تعارف

 

ام محمد[1] ،ام عبد اللہ[2] یا ام عبدہ[3] ہے اور ایک حدیث میں ان کا لقب صدیقہ مذکور ہے[4] ۔ایک روایت کے مطابق جابر کہتے ہیں کہ میں نے صحیفۂ فاطمہ ؑ میں آئمہ طاہرین ماؤوں کے نام دیکھے۔ اس روایت میں ام عبد اللہ بنت حسن بن علی بن ابی طالب کو حضرت امام محمد باقر ؑ کی والدہ کہا ہے [5]۔

 

حضرت امام محمد باقر کہتے ہیں: ایک مرتبہ ان کی والدہ نے اشارے کے ذریعے دیوار کو گرنے سے روک دیا۔[6]

 

کربلا میں موجودگی

 

تاریخی مصادر میں ام عبد اللہ کی والدہ کا تذکرہ نہیں ہوا ہے نیز نہ ہی ان کا مقام دفن بیان ہوا ہے۔ فاطمہ بنت حسن واقعۂ کربلا میں موجود تھیں اور دوسری خاندان عصمت کی خواتین کے ساتھ اسیر ہوئیں ۔[7]

 

حضرت امام سجاد کی ان سے شادی کے باعث حضرت امام محمد باقر ؑ کے بعد والدہ کی طرف سے حضرت امام حسن اور والد کی طرف سے حضرت امام حسین ؑ تک پہنچتی ہے۔ یہی شادی حضرت امام محمد باقر ؑ کو ہاشمیوں کے درمیان ہاشمی بین الہاشمیین، علوی بین العلویینیا فاطمی بین الفاطمیین کا لقب دینے کا باعث بنی۔[8]

 

حوالہ جات

 

1: تاریخ مدینہ دمشق، ج۷۰، ص۲۶۱

2: بحارالانوار، ج۴۶، صص۲۱۵

3: اعیان الشیعہ، ج۸، ص ۳۹۰

4: اصول کافی، ج۲، صص۴۴۶

5: بحارالانوار، ج۳۶، ص۱۹۴

6: بحارالانوار، ج۴۶، ص۲۱۵۵ ؛ منتهی الامال ج۲، ص۱۷۳

7: تاریخ مدینہ دمشق، ج۷۰، ص۲۶۱

8: اعیان الشیعہ، ج۸، ص ۳۹۰ ؛ بحارالانوار، ج۴۶، ص۲۱۵ ؛ منتہی الامال ج۲، ص۱۷۳