امام باقر کے شاگردان
♦️ محمد بن مسلم کوفے کے ایک دولتمند سردار اور حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کا صحابی تھا
ایک دن امام باقرؑنے اس سے فرمایا:اے محمد!تمہیں عاجزی کرنا چاہیے ۔جب محمدمدینے سے کوفہ پہنچے توچھوہاروں کی ٹوکری اور ترازو اٹھالی اور کوفے کی جامع مسجد کے دروازے پر جابیٹھا اور آواز لگانے لگا ۔جوکوئی چھوہارے چاہتا ہے آئے اور مجھ سے خریدے ۔(یہ کام نفس کا غرور دُور کرنے کے لئے کررہاتھا)اس کے رشتے دارآئے اور کہنے لگے کہ ۔تونے ہمیں اپنی اس حرکت سے بدنام کردیا۔اس نے کہا ۔میرے مولا ؑ نے مجھے جس بات کا حکم دیا ہے میں اس کے خلاف نہیں کروں گا اور اس مجمع کے مقام سے اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک کہ اس ٹوکری کے تمام چھوہارے نہ بیچ لوں۔اس کے رشتے دار وں نے کہا ۔اب جو تو خرید و فروخت کرنا ہی چاہتا ہے تو اس مقام پر چلا جا جہاں گیہوں پیستے ہیں ۔اس نے منظور کرلیا ۔اُونٹ اور چکی کے پتھر خرید لئے اور گیہوں پیسنے لگا ۔(تاکہ اس کام سے اپنے نفس کا غرور دُور کرے اور اپنے آپ کو ایک عام آدمی کے برابر سمجھے )۔
📚 گناہانِ کبیرہ آیت اللہ دستغیب:ج2:ص176
♦️ محمدبن مسلم
آپ کو فقیہ اہل بیت علیہم السلام کے نام سے یادکیا جاتا ہےاور آپ امام محمد باقر اور امام جعفرصادق علیہماالسلام کے سچے چاہنے والے اور حقیقی محب تھے . جیساکہ گذر چکا ہے آپ کاشمار ان چار عظیم ہستیوں میں ھوتا ہے جن کے ذریعہ آثار نبوی محفوظ ہیں. آپ کی زندگی اسلامی تعلیمات کامکمل نمونہ تھی.
آپ کوفہ کےرہنے والے تھے اور وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ ، امام محمدباقرع کی خدمت میں حاضرھوئے تھے تاکہ امام کےچشمہ فیوض سے اپنی علمی تشنگی بجھا سکیں. آپ چار سال تک امام علیہ السلام کی خدمت میں رہے اور علم و دانش کسب کرتے رہے.
"عبداللہ بن یعفور،، نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: مولی ! بعض اوقات ایسے مسائل پیش آتے ہیں جن کا حل میں نہیں جانتا ، اور ان مواقع پر آپ کی خدمت میں حاضری بھی ممکن نہیں ھوتی، تو اس صورت میں کیاکروں؟،
امام علیہ السلام نے فرمایا: ----------- ' محمد بن مسلم کی طرف کیوں رجوع نہیں کرتے اور ان سے اپنے مسائل کا حل کیوں دریافت نہیں کرتے؟--،1
ایک شب محمد بن مسلم کی خدمت میں ایک عورت آئی اور کہنےلگی :" میری بہو کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے شکم میں ایک بچہ زندہ ہے اس صورت میں ہم کیا کریں؟؟،،
محمدبن مسلم نے کہا: '' اس موقع پر امام محمد باقر علیہ السلام کا حکم یہ ہے کہ آپریشن کرکے بچہ کو نکال لیا جائے گا اور بعد میں عورت کو دفن کردیا جائے گا.،،
اس کےبعد محمدبن مسلم نے اس عورت سے دریافت کیاکہ " تم مجھ تک کیونکر پہنچیں.؟؟،
عورت کہنےلگی -- " میں اس مسئلہ کو.لےکر امام ابوحنیفہ کے پاس گئی اور ان سے اس مسئلہ کا حل دریافت کیا-- وہ کہنےلگے اس مسئلہ کےبارے میں مجھے علم نہیں، محمدبن مسلم کےپاس جاؤ اور ان سے اس مسئلہ کا حل دریافت کرو اور وہ جو جواب تمھیں دیں ، اس سے مجھے بھی آگاہ کرو-- ،
محمدبن مسلم ایک روز مسجد کوفہ میں تشریف فرما تھے اور اس وقت ابوحنیفہ نے مسجد میں اسی گذشتہ مسئلہ کو عنوان کیا تھا اور اس کا حل اپنی طرف منسوب کرکے بیان کردیا.!
جب محمدبن مسلم نے یہ دیکھاتوایک مرتبہ کھکھارے -- ابوحنیفہ کی نگاہ جیسے ہی محمدبن مسلم پر پڑی سارا مطلب سمجھ گئے - محمد بن مسلم سے کہنے لگے:--
" خدا تمھارے گناہ معاف کرے، اس کی رحمتیں تمھارے شامل حال ہوں، ذرا ہم لوگوں کو بھی زندہ رہنے دو--،، 2
📚 تحفة الاحباب محدث قمی ص125اور
📚 جامع الرواة . ج2ص164.
📚 رجال کشی.ص 163.طبع دانشگاہ مشھد.
♦️ کمیت اسدی
بہت ہی مشہور و معروف شاعر آپ ہمیشہ مدح اہلبیت علیہم السلام میں رطب اللسان رہتے تھے. آپ کے اشعار اہلبیت علیہم السلام کے فضائل سے بھر پور رہتے تھے . آپ اپنے اشعار کے ذریعہ ہمیشہ اہلبیت ع کی طرف سے دفاع کرتے تھے اور دشمنان اہلبیت کو ہمیشہ ذلیل و رسوا کیا کرتے تھے اور ان کی قلعی کھولا کرتے تھے جس کی بناء پر اموی دربارسے برابر آپ کوڈرایا دھمکایا جاتا اور کبھی تو موت کی بھی دھمکی دی جاتی.
اس پر آشوب دور میں جہاں زبان و قلم پر پابندی عائد ہو، خصوصا" اہلبیت ع کے فضائل و مناقب بیان کرنا کس قدر دشوار کام تھا، ایسا زمانہ تھا جب اہل بیت علیہم السلام کی مدح کرنا موت کو دعوت دینے کے برابر تھا اسی بناءپر بہت لوگ ایسے تھے جن کے قلوب تو اہل بیت ع کی محبت سے سرشار تھے مگر اس کا اظہار نہیں کرپاتے تھے اور ایسے افراد بہت کم تھے جواہلبیت کی محبت کا اظہار بھی کرسکیں اور ان کے فضائل و مناقب بیان کرسکیں، ان لوگوں میں کمیت اسدی کا نام سرفہرست نظرآتا ہے . آپ کو جس قدر دربار سے دھمکی دی جاتی اتناہی زیادہ آپ کے عزم و ارادہ میں اضافہ ہوتا جاتا، اور جس قدر سختی بڑھتی اتنا ہی زیادہ آپ کا دل بڑھتا اور آپ کے اشعار میں حق کاعکس نظرآتاہے، آپ نے کبھی بھی باطل کی حمایت نہیں کی بلکہ ہمیشہ حکومت کے کارناموں سے پردے اٹھاتے رہتے. اور عوام کو حکومت کی نیرنگیوں سے آگاہ کرتے رہے.
کمیت نے اپنے بعض اشعار میں ائمہ ھدی کی مدح ان الفاظ میں کی ہے:
یہ ہیں وہ رہنما عدل و انصاف جن کی سرشت میں داخل ہے.
یہ لوگ بنی امیہ کی طرح نہیں ہیں کہ حیوان اور انسان میں فرق نہ کر پاتے ہوں. !!!
یہ حضرات عبدالملک، ولید، سلیمان اور ہشام جیسے نہیں ہیں کہ جو منبر پر بیٹھ کر ایسی باتیں کرتے ھو جن پر خود کبھی عمل نہ کرتے ھوں.!
یہ اموی بادشاہ باتیں تو پیغمبر اسلام کے زمانے کی کرتے ہیں مگر خود ان کے عمل سے زمانہ جاہلیت کے آثار نمایاں ہیں. 1
کمیت امام باقر علیہ السلام کو دل سے دوست رکھتے تھے. اور انہیں کبھی اپنا خیال نہیں رہتا تھا.
کمیت نے امام کی مدح میں اشعار لکھے تھے. اور اشعار کو امام کی خدمت میں پیش کیا . جب کمیت اپنا قصیدہ تمام کرچکے تو امام نے روبقبلہ ہوکر ارشاد فرمایا.
،، خدا کمیت پر رحمتیں نازل فرمائے. اس کے بعد ایک لاکھ درھم کمیت کوعطا کئے اور فرمایا:
یہ رقم ھمارے خاندان والوں نے جمع کرکے تمھیں دی ہے .
کمیت نے کہا! خدا کی قسم میں سیم و زر کا خواہاں نہیں ھوں، اگر آپ مجھے اپنا ایک پیراہن عطا کریں تو یہ میرے لئے سب سے زیادہ قیمتی ہے. '' امام علیہ السلام نے اپنا ایک پیراھن کمیت کو عطا کردیا. 2.
📚الشیعہ والحاکمون. تالیف جواد مغنیہ.ص129
📚 سفینتہ البحار. ج1 ص496.