🔴 امام حسن عسکری علیہ السلام کے کرامات
جب قحط نے سامرہ (سرّ مَن رَأی) کو شدید طور پر گھیر لیا تو خلیفہ معتمد بن متوکل نے تین دن تک لوگوں کو بارش کے لیے دعا (استسقاء) کے لیے نکلنے کا حکم دیا، لیکن بارش نہ ہوئی۔ پھر عیسائی لوگ ایک راہب کے ساتھ باہر نکلے، اور جب بھی وہ راہب اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا تو بارش ہونے لگتی۔ دوسرے دن بھی یہی ہوا، جس سے کچھ جاہل لوگ شک میں پڑ گئے اور کچھ مرتد ہو گئے۔
یہ بات خلیفہ پر سخت گراں گزری، تو اس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو بلوا کر کہا:
"اپنے نانا رسول اللہ ﷺ کی امت کو ہلاکت سے بچا لیجیے۔"
امام نے فرمایا:
"وہ لوگ کل بھی باہر نکلیں گے، اور میں ان شاء اللہ اس شک کو دور کر دوں گا۔"
پھر آپ نے خلیفہ سے اپنے قیدی ساتھیوں کو آزاد کرنے کے لیے کہا، تو خلیفہ نے انہیں رہا کر دیا۔
جب اگلے دن لوگ بارش کے لیے دعا کرنے نکلے اور راہب نے عیسائیوں کے ساتھ ہاتھ اٹھایا تو آسمان پر بادل چھا گئے۔ اس پر امام حسن عسکری علیہ السلام نے حکم دیا کہ راہب کا ہاتھ پکڑا جائے۔ جب اس کا ہاتھ پکڑا گیا تو اس میں ایک انسانی ہڈی ملی۔ امام نے وہ ہڈی اس کے ہاتھ سے لے لی اور فرمایا:
"اب دعا کرو۔"
جب اس نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا تو بادل چھٹ گئے اور سورج نکل آیا۔ لوگ اس پر حیران رہ گئے۔
خلیفہ نے امام سے کہا:
"یہ کیا معاملہ ہے، اے ابو محمد؟"
امام نے فرمایا:
"یہ ایک نبی کی ہڈی ہے، جو اس راہب کو کسی قبر سے ملی تھی، اور آسمان کے نیچے جب بھی کسی نبی کی ہڈی ظاہر کی جاتی ہے تو بارش برسنے لگتی ہے۔"
پھر اس ہڈی کو آزمایا گیا تو وہ ویسا ہی نکلا جیسا امام نے فرمایا تھا، یوں لوگوں کا شک ختم ہوا اور امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے گھر واپس تشریف لے گئے۔
📚 حوالہ: الصواعق المحرقة، جلد 2، صفحات 600-601، طبع مؤسسۃ الرسالۃ
🔴 امام حسن عسکری علیہ السلام کے ایک دشمن کا حال صحبت کے بعد بدل جانا!
🌷 امام حسن عسکری علیہ السلام کو علی بن نارمش کے پاس قید کیا گیا، جو اولادِ ابو طالب کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اسے کہا گیا کہ امام پر سختی کرو اور جتنا ہو سکے اذیت دو۔ لیکن امام علیہ السلام وہاں ایک دن سے زیادہ نہ رہے تھے کہ علی بن نارمش کے دل میں امام کی اتنی عظمت اور احترام پیدا ہوگیا کہ وہ ان کے سامنے اپنا چہرہ خاک پر رکھتا اور نظر بھی اوپر نہ اٹھاتا۔ جب امام وہاں سے روانہ ہوئے تو وہ شخص بصیرت اور عقیدت میں سب سے آگے اور امام کی تعریف میں سب سے بہتر ہو گیا۔
📓 الکافی، ج ۱، ص ۵۰۸ (اسکین)
#بدر_علی
#طالب_دعا
#تعلیمات_اہلبیتؑ
اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
یاک شبہہ کا جواب
إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أجْسَادَ الْأنْبِيَآءِ، فَنَبِیُّ اﷲِ حَیٌّ يُّرْزَقُ.
اللہ تعالی نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیاء کے اجسام کو کھائے۔ پس اَنبیاء علیھم السلام زندہ ہیں اور اُنہیں رِزق بہم پہنچایا جاتا ہے۔
(سنن النسائی، کتاب الجمعه، 1 : 204)
(سنن اَبوداؤد، کتاب الصلوٰة، 1 : 157)
(سنن اِبن ماجه، کتاب الجنائز : 119)
اگر اس کو دوسرے نکتہ نظر سے دیکھیں تو یہ ممکن بھی ہے کیوں کہ بہت سے انبیاء کو شہید کیا گیا ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا گیا یہاں تک کہ آروں سے چیرا گیا شاید کسی نبی کی جسم مبارک کی کوئی ہڈی اس طرح سے عیسائی راہبوں کے ہاتھ لگی ہو جسے چهپا لیا گیا ہو جو پھر نسل در نسل چلتی ہوئی اس عیسائی شخص تک پہنچی ہو
باقی واللہ اعلم
۔
🔴 مؤمنین کی نیند اور امام حسن عسکریؑ کا اعجاز
محمد بن یحییٰ نے احمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
میں ابو محمد، امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔
میں نے عرض کیا:
مولا! میں اپنے اندر پیش آنے والی ایک چیز کی وجہ سے غمگین ہوں۔ میں چاہتا تھا کہ اس بارے میں آپ کے والد، امام ہادی علیہ السلام سے پوچھوں، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
امام حسن عسکریؑ نے فرمایا:
اے احمد! وہ کیا چیز ہے؟
میں نے عرض کیا:
اے میرے آقا! ہمیں آپ کے آباؤ اجداد سے روایت پہنچی ہے کہ انبیاء علیہم السلام چِت لیٹ کر سوتے ہیں، مؤمن دائیں کروٹ پر سوتے ہیں، منافق بائیں کروٹ پر سوتے ہیں، اور شیاطین منہ کے بل (اوندھے) سوتے ہیں۔
امامؑ نے فرمایا:
ہاں، اسی طرح ہے۔
میں نے عرض کیا:
اے میرے آقا! میں دائیں کروٹ پر سونے کی بہت کوشش کرتا ہوں، لیکن میرے لیے ایسا ممکن نہیں ہوتا اور مجھے اس کروٹ پر نیند نہیں آتی۔
امامؑ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا:
اے احمد! میرے قریب آؤ۔
میں قریب گیا۔
آپؑ نے فرمایا:
اپنا ہاتھ اپنے لباس کے نیچے لے جاؤ۔
میں نے اپنا ہاتھ لباس کے نیچے کیا۔ پھر امامؑ نے اپنا ہاتھ اپنے لباس کے نیچے سے نکالا اور میرے لباس کے اندر داخل کیا، اور اپنے دائیں ہاتھ سے میرے بائیں پہلو پر اور اپنے بائیں ہاتھ سے میرے دائیں پہلو پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرا۔
احمد بن اسحاق کہتے ہیں:
اس واقعے کے بعد سے، جب امامؑ نے میرے ساتھ ایسا کیا، میں اپنی بائیں کروٹ پر سو ہی نہیں سکتا اور بالکل بھی اس کروٹ پر مجھے نیند نہیں آتی۔
📚 الکافی، ج ۱، ص ۵۱۳
Gallery
Tap any image to view full screen