آیہ " ثُمَّ أَوْرَثْنَا الکتب " کی تفسیر امام حسن عسکری ع کی زبانی
آیہ " ثُمَّ أَوْرَثْنَا الکتب " کی تفسیر امام حسن عسکری ع کی زبانی
🖋 سید علی حیدر شیرازی
روایت کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ ابو ہاشم نے حضرت ابو محمد امام حسن عسکری علیہ السّلام سے مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر دریافت کی :
ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡکِتٰبَ الَّذِیۡنَ اصۡطَفَیۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۚ فَمِنۡہُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ۚ وَ مِنۡہُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ
پھر ہم نے جنھیں اپنے بندوں میں سے منتخب کر لیا ، انھیں کتاب کا وارث بنا دیا۔ پس اُن میں سے کچھ تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ اللہ کے حکم سے نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں
سورہ فاطر آیت 32
آپ ع نے فرمایا
اس آیت میں " ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ " سے مراد وہ ہیں جو امام کا اقرار نہیں کرتے ۔
" مُّقۡتَصِدٌ " سے وہ مراد ہیں جو امام کی معرفت رکھتے ہیں
اور
" سَابِقٌۢ بِالۡخَیۡرٰتِ " سے مراد خود امام ہیں۔
یہ سن کر میں اپنے دل میں سوچنے لگا کہ یہ بڑی چیز ہے جو آل محمد ع کو اللہ نے عطاکی ہے اور یہ سوچ کر میں رونے لگا۔
آپ ع نے میری طرف دیکھا اور فرمایا سنو !
" آل محمد کی عظمت شان جو تمھارے میں ہے اس سے ایک بڑی چیز ہے اور وہ یہ کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو اُس نے تمھیں آل محمد ع کے دامن سے متمسک رہنے کی توفیق عطا فرمائی۔ قیامت کے دن جب تمام لوگ اپنے اپنے امام و سردار کے ساتھ بلائے جائیں گے تو تم آل محمد کے ساتھ بلائے جاؤ گے۔ تمھارا انجام بخیر ہے ۔
بحار الانوار ، ج۵۰ ، ص ۲۵۸
الخرائج و الجرائح ، ج ۲ ، ص۶۸۷