Back to امام حسن عسکری ع

امام حسن عسکری علیہ السلام علماے اھل سنت کی نظر میں

امام حسن عسکری علیہ السلام علماے اھل سنت کی نظر میں

 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام 8 ربیع الثانی سن 232 ہجری قمری بروز جمعہ مدینہ منورہ میں جناب حدیثہ خاتون کے بطن مبارک سے متولد ہوئے۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے والد حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رکھے ہوئے نام، حسن بن علی سے موسوم کیا۔

 

شواہدالنبوت ص 210

 

صواعق محرقہ ص 124

 

نور الابصار ص 110

 

ینابع المودة

 

آپ کی کنیت ابو محمد تھی اور آپ کے بہت سے القاب تھے۔ جن میں عسکری، ہادی، زکی خالص، سراج اور ابن الرضا زیادہ مشہور ہیں۔

حوالہ جات....

نور الابصار ص 150

 

شواہد النبوت ص 210

 

دمعہ ساکبہ ج 3 ص 122

 

مناقب ابن شہر آشوب ج 5 ص 124

 

امام حسن عسکری علیہ السلام اور کمسنی میں عروج فکر:

 

آل محمد جو تدبر قرآنی اور عروج فکر میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک بلند مقام بزرگ حضرت امام حسن عسکری ہیں۔ علمائے فریقین نے لکھا ہے کہ:

 

ایک دن آپ ایک ایسی جگہ کھڑے تھے کہ جہاں کچھ بچے کھیل میں مصروف تھے۔ اتفاقا ادھر سے عارف آل محمد جناب بہلول دانا گزرے، انہوں نے یہ دیکھ کر کہ سب بچے کھیل رہے ہیں اور ایک خوبصورت سرخ و سفید بچہ کھڑا رو رہا ہے، ادھر متوجہ ہوئے اور کہا اے نونہال مجھے بڑا افسوس ہے کہ تم اس لیے رو رہے رہو کہ تمہارے پاس وہ کھلونے نہیں ہیں، جو ان بچوں کے پاس ہیں سنو ! میں ابھی ابھی تمہارے لیے کھلونے لے کر آتا ہوں۔ یہ کہنا تھا کہ اس کمسنی کے باوجود بولے، ایسا نہ سمجھ ہم کھیلنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، بلکہ ہم علم و عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ بہلول نے پوچھا کہ تمہیں یہ کیونکر معلوم ہوا ہے کہ غرض خلقت علم و عبادت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف قرآن مجید رہبری کرتا ہے، کیا تم نے نہیں پڑھا کہ خداوند فرماتا ہے کہ:

 

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکمْ عَبَثا

 

کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تم کو عبث (کھیل کود) کے لیے پیدا کیا ہے اور کیا تم ہماری طرف پلٹ کر نہ آؤ گے۔

 

سورہ مؤمنون آیت 115

 

یہ سن کر بہلول حیران رہ گیا، اور کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اے فرزند تمہیں کیا ہو گیا تھا کہ تم رو رہے تھے، گناہ کا تصور تو ہو نہیں سکتا کیونکہ تم بہت کم سن ہو، آپ نے فرمایا کہ کمسنی سے کیا ہوتا ہے میں نے اپنی والدہ کو دیکھا ہے کہ بڑی لکڑیوں کو جلانے کے لیے چھوٹی لکڑیاں استعمال کرتی ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں جہنم کے بڑے ایندھن کے لیے ہم چھوٹے اور کمسن لوگ استعمال نہ کیے جائیں۔

 

صواعق محرقہ ص 124

 

نور الابصار ص 150

 

جامی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ اس نے اپنے شوق کے مطابق ایک نہایت زبردست گھوڑا خریدا، لیکن اتفاق سے وہ کچھ اس درجہ سرکش نکلا کہ اس نے بڑے بڑے لوگوں کو سواری نہ دی اور جو اس کے قریب گیا اس کو زمین پر دے مار کر ٹاپوں سے کچل ڈالا، ایک دن خلیفہ مستعین باللہ کے ایک دوست نے رائے دی کہ امام حسن عسکری کو بلا کر حکم دیا جائے کہ وہ اس پر سواری کریں، اگر وہ اس پر کامیاب ہو گئے تو گھوڑا رام ہو جائے گا اور اگر کامیاب نہ ہوئے اور کچل ڈالے گئے تو تیرا مقصد حل ہو جائے گا چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا لیکن اللہ رے شان امامت جب آپ اس کے قریب پہنچے تو وہ اس طرح بھیگی بلی بن گیا کہ جیسے کچھ جانتا ہی نہیں۔ بادشاہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور اس کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا کہ گھوڑا حضرت ہی کے حوالے کر دے۔

 

شواہد النبوت ص 210

 

محمد بن طلحہ (متوفی 652 ہج):

 

 

محمد بن طلحہ شافعی نے کتاب مطالب السؤول میں امام عسکری علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

أبی محمد الحسن بن علی (ع) الإمام الحسن الخالص ... و أما مناقبه : فاعلم أن المنقبة العليا و المزية الكبرى التی خصه الله عز و جل بها ، و قلده فريدها ، و منحه تقليدها ، و جعلها صفة دائمة لا يبلى الدهر جديدها، و لا تنسى الألسن تلاوتها و ترديدها ، أن المهدی محمد نسله ، المخلوق منه ، و ولده المنتسب إليه، و بضعته المنفصلة عنه.

 

ابو محمد حسن ابن علی، امام حسن عسکری.....

 

انکے فضائل و مناقب ایسے بلند و عالی تھے کہ جو خداوند نے ان عطا کیے ہوئے تھے۔ وہ ایسے زندہ فضائل تھے کہ زمانہ بھی ان کو پرانا نہ کر سکا اور اپنوں و غیروں کی زبانوں سے وہ فضائل فراموش نہ ہو سکے۔ (امام) مہدی علیہ السلام باسی امام کی نسل سے ہیں، انکے بیٹے اور انکے بدن کا ٹکڑا ہیں۔

 

الشافعی، محمد بن طلحة (متوفی652هـ)، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول 475-476، تحقيق : ماجد ابن أحمد العطية. 

 

سبط ابن الجوزی (متوفی 654 ہج):

 

 

سبط بن جوزی حنفی نے امام عسکری علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

هو الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی الرضا بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسين بن علی بن ابی طالب… و کان عالماً ثقة.

 

حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی الرضا بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسين بن علی بن ابی طالب، ایک عالم اور مورد اعتماد انسان تھے۔

 

سبط بن الجوزی الحنفی، شمس الدين أبو المظفر يوسف بن فرغلی بن عبد الله البغدادی (متوفی654هـ)، تذكرة الخواص، ص 362، ناشر: مؤسسة أہل البيت ـ بيروت، 1401هـ ـ 1981م.

 

 ابن صباغ (متوفی 855 ہج):

 

 

ابن صباغ مالکی نے بھی امام حسن عسکری علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں بیان کیا ہے کہ:

 

أبو محمد الحسن الخالص بن علی العسكری... الإمام القائم بعد أبی ‌الحسن علی بن محمد ابنه أبو محمد الحسن لاجتماع خلل الفضل فيه و تقدمه علی كافة أهل عصره فيما يوجب له الإمامة و يقضی له بالمرتبة من العلم و الورع و النزاهة و كمال العقل و كثرة الأعمال المقربة الی الله تعالی ثم لنص أبيه عليه و اشارته الخلافة اليه.

 

ابو محمد حسن بن علی عسكری، اپنے والد ابو الحسن علی الہادی کے بعد امام بنے۔ ان کے فضائل و مناقب حد سے زیادہ تھے۔ منصب امامت اور حکومت کے لیے تمام شرائط جیسے علم، شجاعت، زہد، عقل، عصمت، سخاوت سب ان میں پائی جاتی تھیں اور بہت سے نیک اعمال کہ جو ایک انسان کو خداوند کے نزدیک کرتے ہیں، وہ امام عسکری علیہ السلام میں دوسرے انسانوں کی نسبت بطور کامل موجود تھے اور اسکے علاوہ انکے والد محترم امام ہادی کی طرف سے، انکی امامت اور جانشینی کے بارے میں واضح طور پر نص اور انکے کلام میں اشارے بھی موجود تھے۔

 

المالكی، علی بن محمد بن أحمد المالكی المكی المعروف بابن الصباغ (متوفی885هـ)، الفصول المهمة فی معرفة الأئمة، تحقيق: سامی الغريری، ناشر: دار الحديث للطباعة و النشر مركز الطباعة و النشر فی دار الحديث – قم، الطبعة الأولى: 1422.

 

 فضل الله بن روزبهان (متوفی 927 ہج):

 

 

فضل بن روزبهان خنجی شافعی کہ جو اھل سنت کا ایک بھت بڑا عالم تھا، اس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں صلوات کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

 

اللهم صل و سلم علی الإمام الحادی عشر، المقتدی الرضی المجتبی الوفی المقتفی فی العبادة آثار النبی و الولی و المسخر لعسكر الملائكة بالعزم القوی النور الجلی، البدر الوضی ذی القدر العلی و المجد البهی و العز السنی وارث الإمامة من الوصی والد الحجة الصفی و ولد النبی الزكی أبی محمد الحسن العسكری ابن علی النقی المتوفی فی شبابه بالبلاء المدفون عند أبيه بسر من رأی.

 

خدایا گیارویں امام پر سلام اور صلوات بھیج، کہ جو پیشوا، خداوند ان سے راضی، خدا کے انتخاب شدہ، اپنے عہد پر وفا کرنے والے، اپنی عبادت میں رسول خدا کے آثار کی پیروی کرنے والے، خداوند کے ولی، پختہ و قوی عزم و ارادے کے ساتھ ملائکہ کے لشکر کو تسخیر کرنے والے، نور واضح خداوند، بلند و بالا مقام و مرتبہ رکھنے والے، انکی عزت و بزرگی انتہائی جلال و کمال والی ہے، اور وہ حضرت اپنے وصی کی طرف سے امامت کے عہدے کے وارث تھے، اور وہ برگزیدہ حجت خدا کے والد گرامی اور پاکیزہ رسول خدا کے فرزند ہیں، اور انکی کنیت حضرت ابو محمد اور انکا لقب عسکری ہے، وہ جوانی میں مصائب و بلا میں مبتلا ہو کر وفات پا گئے اور وہ اپنے والد کے ساتھ شہر سامرا میں دفن ہیں۔

 

خنجی اصفهانی، فضل بن روزبهانی، وسيلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چهارده معصوم عليهم السلام، 265-270، به کوشش: رسول جعفريان، دار النشر: انتشارات انصاريان، الطبعة الاولی، مطبعة: صدر، قم، مهر 1375 شمسی.

 

ابن حجر ہيثمی (متوفی 973 ہج):

 

 

ابن حجر ہيثمی نے اپنی کتاب الصواعق محرقہ میں لکھا ہے، اس کتاب میں امام عسکری علیہ السلام کے بارے میں اور امام کی بھلول کے ساتھ گفتگو کو اس طرح لکھا ہے کہ:

 

أبو محمد الحسن الخالص و جعل ابن خلكان هذا هو العسكری ولد سنة اثنتين و ثلاثين و مائتين و وقع لبهلول معه أنه رآه و هو صبی يبكی و الصبيان يلعبون فظن أنه يتحسر على ما فی أيديهم فقال اشتری لك ما تلعب به فقال يا قليل العقل ما للعب خلقنا فقال له فلماذا خلقنا قال للعلم و العباد فقال له من أين لك ذلكت قال من قول الله عز و جل (أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا و أنكم إلينا لا ترجعون) المؤمنون 115. ثم سأله أن يعظه فوعظه بأبيات ثم خر الحسن مغشيا عليه فلما أفاق قال له ما نزل بك و أنت صغير لا ذنب لك فقال إليك عنی يا بهلول إنی رأيت والدتی توقد النار بالحطب الكبار فلا تتقد إلا بالصغار و إنی أخشى أن أكون من صغار حطب نار جهنم.

 

ابو محمد حسن خالص..... ان اور بھلول کے درمیان یہ واقعہ ہوا کہ بھلول نے امام کو جب دیکھا تھا تو وہ بہت چھوٹے بچے تھے، بھلول نے دیکھا کہ دوسرے بچے کھیل رہے ہیں اور وہ رو رہے ہیں۔ بھلول نے سوچا کہ بچوں کھلونوں سے کھیل رہے ہیں اور امام کے پاس کھلونے نہیں ہیں، اسلیے وہ رو رہے ہیں۔ بھلول نے کہا میں تمہارے لیے بھی وہی کھلونے خریدوں گا۔ ابو محمد حسن نے فرمایا: اے بھلول خداوند نے ہمیں کھیلنے کے لیے خلق نہیں کیا۔ بھلول نے کہا: تو پھر خدا نے ہمیں کس لیے خلق کیا ہے ؟ امام نے فرمایا: خداوند نے ہمیں علم اور عبادت کرنے کے لیے خلق کیا ہے۔ بھلول نے کہا: اس بات کو تم کیسے اور کہاں سے کہہ رہے ہو ؟ امام نے فرمایا: خداوند نے قرآن میں فرمایا ہے کہ:

 

 أ فحسبتم أنما خلقناكم عبثا و انكم إلينا لا ترجعون۔

 

کیا تم نے گمان کیا ہے کہ ہم نے تم کو بیہودہ خلق کیا ہے اور تم نے ہماری طرف پلٹ کر نہیں آنا ؟

 

سورہ مؤمنون آیہ 115

 

پھر نے اس چند نصیحتیں کیں، بھلول نے بھی امام کو اس آیت کے بارے میں چند اشعار پڑھ کر سنائے، ان اشعار کو کہ جو قیامت و آخرت کے بارے میں تھے، امام عسکری نے سنے تو وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے اور جب ہوش میں آئے تو بھلول نے امام سے کہا کہ آپ تو ابھی چھوٹے ہیں، یہ آيات آپ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی، بچے تو کوئی گناہ نہیں کرتے، آپ اس آیت کو سن کر کیوں پریشان ہوتے ہیں ؟ امام نے اس سے کہا: اے بھلول کیسی باتیں کر رہے ہو ؟ میں نے اپنی والدہ کو دیکھا ہے کہ جب وہ بڑی لکڑیوں کو آگ لگانا چاہتی ہیں تو وہ پہلے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کو جلاتی ہے تا کہ بڑی لکڑی کو بھی آگ لگ جائے، اور میں اس سے ڈرتا ہوں کہ میں جھنم کی ان چھوٹی چھوٹی لکڑیوں میں سے نہ ہوں۔

 

الهيثمی، ابو العباس أحمد بن محمد بن علی ابن حجر (متوفی973هـ)، الصواعق المحرقة علی أهل الرفض و الضلال و الزندقة، ج 2 ص 599-600، تحقيق: عبد الرحمن بن عبد الله التركی - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة: الأولى، 1417هـ - 1997م.

 

۔

 

امام حسن عسکری علیہ السلام

اہل سنت مشاہیر کی نظرمیں:

فضل الله بن روزبهان (متوفی 927 ہج):

 

فضل بن روزبهان خنجی شافعی کہ جو ایک متعصب عالم تھا، اس نے امام حسن عسکری (ع) کے بارے میں صلوات کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

 

اللهم صل و سلم علی الإمام الحادی عشر، المقتدی الرضی المجتبی الوفی المقتفی فی العبادة آثار النبی و الولی و المسخر لعسكر الملائكة بالعزم القوی النور الجلی، البدر الوضی ذی القدر العلی و المجد البهی و العز السنی وارث الإمامة من الوصی والد الحجة الصفی و ولد النبی الزكی أبی محمد الحسن العسكری ابن علی النقی المتوفی فی شبابه بالبلاء المدفون عند أبيه بسر من رأی.

 

خدایا گیارویں امام پر سلام اور صلوات بھیج، کہ جو پیشوا، خداوند ان سے راضی، خدا کے انتخاب شدہ، اپنے عہد پر وفا کرنے والے، اپنی عبادت میں رسول خدا کے آثار کی پیروی کرنے والے، خداوند کے ولی، پختہ و قوی عزم و ارادے کے ساتھ ملائکہ کے لشکر کو تسخیر کرنے والے، نور واضح خداوند، بلند و بالا مقام و مرتبہ رکھنے والے، انکی عزت و بزرگی انتہائی جلال و کمال والی ہے، اور وہ حضرت اپنے وصی کی طرف سے امامت کے عہدے کے وارث تھے، اور وہ برگزیدہ حجت خدا کے والد گرامی اور پاکیزہ رسول خدا کے فرزند ہیں، اور انکی کنیت حضرت ابو محمد اور انکا لقب عسکری ہے، وہ جوانی میں مصائب و بلا میں مبتلا ہو کر وفات پا گئے اور وہ اپنے والد کے ساتھ شہر سامرا میں دفن ہیں۔

 

خنجی اصفهانی، فضل بن روزبهانی، وسيلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چهارده معصوم عليهم السلام، 265-270، به کوشش: رسول جعفريان، دار النشر: انتشارات انصاريان، الطبعة الاولی، مطبعة: صدر، قم، مهر 1375 شمسی.

 

اللہ کی لعنت ھو امام حسن عسکری علیہ السلام کے قاتلوں پر ....