امام حسن العسکری علیہ السلام کا سفر جرجان :-
٣ ربیع الثانی وہ دن ہے کہ جس دن امام العسکری (ع) اپنے ایک محب سے کے گئے وعدہ پر سامرہ سے جرجان با اعجاز امامت تشریف لے گئے-
جعفر بن شریف کہتے ہیں کہ میں نے حج بیت الله کا قصد کیا اور راستے میں امام کی زیارت سے سرفراز ہونے کے لئے ان کی خدمت میں سمرہ حاضر ہوا - میرے پاس مومنین کے دے ہوے اموال تھے جو میں نے امام کی خدمت میں پیش کرنے تھے- زیارت کے ساتھ ساتھ میں نے یہ بھی دریافت کرنا تھا کہ میں ان اموال کو کس کے حوالے کروں - ابھی این نے یہ بات عرض نہیں کی تھی کہ میرے دل کی کیفیت بھانپتے ہوے امام نے خود ہی ارشاد فرمایا کہ یہ اموال اور امانتیں میرے خادم ''مبارک'' کے حوالے کردو- میں نے امانتیں مبارک کے حوالے کیں اور امام کو ان کے جرجان میں قیام پذیر محبین کا سلام پہنچایا - امام نے پوچھا کہ کیا تم حج کے بعد واپس جرجان نہیں جاؤ گے؟- میں نے عرض کیا کہ، جی میں واپس جرجان جاؤں گا - امام نے فرمایا کہ تم اب سے ٹھیک ١٧٠ روز بعد ٣ ربیع الثانی کو جرجان میں اعلان کر دینا کہ آج شام میں (امام حسن العسکری علیہ السلام) جرجان آ رہا ہوں - اب تم جاؤ، خدا تمہیں سلامتی کے ساتھ تمہارے گھر والوں میں واپس پہنچاے گا-
تمہارے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے تم اس کا نام ''صلت'' رکھنا- خدا اسے ایک کامل انسان بناے گا اور وہ ہمارا محب ہو گا- میں نے عرض کیا کہ اے فرزند رسول (ص) ابراہیم بن اسمٰعیل جرجانی آپ کے محب ہیں اور ہر سال آپ کے محبین پر ایک لاکھ درہم سے زائد خرچ کرتے ہیں، وہ جرجان کے متمول حضرات میں سے ایک ہیں- امام نے فرمایا ''خداوند تعالیٰ ابو اسحاق ابراہیم بن اسماعیل کو جزا خیر عطا فرماے کہ وہ ہمارے محبوں پر احسانات کرتے ہیں اور خداوند تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرماے، خداوند تعالیٰ نے اس کو ایک صحیح و سلام فرزند عطا فرمایا ہے جو حق کہنے والا ہو گا - ابراہیم سے کہنا کہ تمہارے امام حسن بن علی (ع) نے اس بچے کا نام احمد تجویز کیا ہے -
جعفر بن شریف کہتے ہیں کہ پھر میں نے امام سے رخصت لی اور سفر حج کیا اور وہاں سے میں واپس جرجان چلا گیا اور جس دیں آپ نے وعدہ فرمایا تھا میں جرجان آیا اور جو لوگ مجھے مبارک بعد دینے آرہے تھے میں نے ان سے سارا حال بیان کر دیا کہ آج امام اپنے وعدے کے مطابق یہاں آنے والے ہیں پاس تیار ہو جو اور اپنے مسائل اور حاجات تیار کر لو-
جرجان کے مومنین اپنی نماز ظہرین سے فارغ ہو کر میرے گھر پر (جعفر کے گھر پر) اکٹھا ہونا شروع ہو گئے کہ اچانک امام حسن العسکری علیہ السلام تشریف لاے اور ہم پر سلام بھیجا ، ہم ان کے استقبال کے لئے دوڑے اور انکے ہاتھوں کے بوسے لئے- امام نے فرمایا '' میں نے جعفر بن شریف سے وعدہ کیا تھا کہ اس دن کے آخر میں میں تمہارے پاس آؤں گا، میں نے نماز ظہرین ابھی سامرہ میں پڑھی ہے اور اب تمہارے پاس آ گیا ہوں تاکہ تجدید عہد کروں- تم اب اپنے مسائل اور حاجات بیان کرو'' -
سب سے پہلے جس نے امام (ع) سے سوال کیا وہ نضر بن جابر تھے - جنہوں نے درخوست کی تھی کہ ''اے فرزند رسول (ص) ، میرا ایک بیٹا ہے جو کہ نابینا ہے - آپ دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ اس کو بینا کر دے '' - امام نے فرمایا ''اسے حاضر کرو'' جب وہ آیا تو آپ نے اپنا دست مبارک اس کی آنکھوں پر پھیرا تو وہ بینا ہو گیا-
لوگ باری باری اپنی حاجات امام (ع) سے بیان کرنے لگے - آپ نے ہر آدمی کی حاجات پوری فرمائیں اور اسی دن واپس سامرہ تشریف لے گئے-
ایک دوسری روایت میں جعفر بن شریف حج سے واپسی پر امام کی خدمت میں حاضر ہوے تھے اور امام نے ان سے فرمایا تھا کہ تم ایک سو ستر دن یا بروایت ایک سو نوے دیں میں جرجان پہنچو گے - اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سامرہ سے جرجان کا سفر تقریباً تین ماہ پے محیط تھا-
جرجان آج کے گیلان میں واقع تھا جو کہ بحیرہ کیسپین کے قریب ہے- یہ آزربائیجان کے زیر انتظام علاقوں میں شمار ہوتا تھا- بہ روایت معجم البلدان ،مؤلف: شہاب الدين ابو عبد الله ياقوت بن عبد الله رومی حموی، اور اٹلس فتوحات اسلامیہ، احمد عادل کمال, صفحہ 142، دارالسلام الریاض- جرجان، طبرستان اور خراسان کے درمیان مشہور شہر ہے۔ اس کا قدیم نام ''ورکانا'' اور پھر گرگان تھا جو معرب ہو کر جرجان ہو گیا ۔ يزيد بن مہلّب بن ابو صفرة نے اسے آباد کیا قرون وسطی کا گرگان اور موجودہ شہر گرگان (استرآباد) کے شمال میں واقع ہے۔ آج کل یہ ایران کے صوبے گلستان کا دار الحکومت شہر ہے
١- کشف الغمہ ص ۱۲۸-
٢- تقویم الشیعہ