Back to قاد/یانی جماعت کا رد

سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب

سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب
سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب

🔴 سورج اور چاند گرہن والی روایت پر قادیانیوں کا دھوکا اور انکو جواب 🔴

 

مرزا غلام احمد کی بیشمار غلطیوں اور جہالتوں کو چھپانے کے لئے اکثر قادیانی حضرات کچھ بھونڈے قسم کے دلائل سے مرزا صاحب کو نبی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں. 

 

اسی میں ایک دلیل سورج اور چاند گرہن والی روایت ہے جو دار القطنی میں ہے 

 

حدیث کے الفاظ یہ ہیں

 

📜 حدثنا أبو سعيد الأصطخري، ثنا محمد بن عبد الله بن نوفل، ثنا عبيد بن يعيش، ثنا يونس بن بكير، عن عمرو بن شمر، عن جابر، عن محمد بن علي قال: " إن لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السماوات والأرض، تنكسف القمر لأول ليلة من رمضان، وتنكسف الشمس في النصف منه، ولم تكونا منذ خلق الله السماوات والأرض

 

📃 عمرو بن شمر ( جعفی کوفی ) نے جابر ( بن یزدی جعفی ) سے اور اس نے " محمد بن علی " سے روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ : ہمارے مہدی کی دو ایسی نشانیاں ہیں کہ جب سے زمین و آسمان بنے ہیں یہ دونوں کبھی واقع نہیں ہوئیں ( پہلی نشانی ) رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا اور ( دوسری نشانی ) رمضان کے نصف میں سورج گرہن ہوگا ، اور یہ دونوں ( گرہن ) جب سے زمین و آسمان بنے ہیں کبھی نہیں لگے ۔ 

 

📚 سنن الدارقطني - الدارقطني - ج ٢ - الصفحة ٣١٩ ، ٣٢٠

 

🔴 حدیث کی سند 🔴

 

حدیث میں ایک راوی ہے "عمرو بن شمر کوفی" جو شیعہ و سنی دونوں کے ہاں ضعیف راوی ہے۔

 

خود امام دارقطنی نے اپنی کتاب " الضعفاء والمتروکون " ( یعنی وہ روای جو ضعیف اور متروک ہیں ) میں عمرو بن شمر کوفی کا تذکرہ بھی کیا ہے

 

📜 کذاب، منکر الحدیث، متروک الحدیث 

 

📚 الضعفاء والمتروکون للدارقطنی ، صفحہ 308

📚 میزان العتدال جلد 5 ص 322 (اردو) 

📚 میزان العتدال جلد 5 ص 323 (عربی)

📚 لسان المیزان جلد 5 ص 210 

 

👈🏻 عمرو بن شمر خود شیعہ کے ہاں ضعیف راوی ہے 👉🏻

 

📜 ضعیف جداً

 

📚 رجال النجاشی ص ٢٨٧

📚 معجم رجال الحديث - السيد الخوئي - ج ١٤ - الصفحة ١١٦

📚 الاحتجاج - الشيخ الطبرسي - ج ١ - الصفحة ١٩٢

 

شیعہ کتب میں بھی اس کا تذکرہ میں اس روایت کا تذکرہ موجود ہے 

 

👈🏻 لیکن تواریخ سے تو کہیں بھی کوئی بھی قادیانی ثابت نہیں کر سکتا کہ پہلی اور درمیان کی تاریخ میں کوئی ایسا کوئی چاند و سورج گرہن لگا ہوا اور پھر اس کی صحت ہمارے ہاں بھی قابل بحث ہے. 

 

جس میں سب سے اہم بات وہ سیکنڑوں احادیث ہیں جس میں امام مہدی علیہ سلام کے نسب اور انکے ظہور کی متفقہ احادیث ہیں. جس کے متعلق بہت مواد موجود ہے. 

 

🔴 اب دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کے دور میں کب چاند اور سورج گرہن لگا 🔴

 

🗓 ١٨٩٤ میں

 

🌓 چاند گرہن تیرھویں تاریخ کو لگا

🌅 سورج گرہن اٹھائیسویں تاریخ تاریخ کو لگا

 

جب کہ روایت کے عربی الفاظ میں صاف طور پر یہ بیان ہے کہ

 

📜 لَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ

📃 چاند گرہن رمضان کی پہلی رات کو

اور

📜 وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ

📃سورج گرہن ماہ رمضان کے نصف میں لگے گا

 

اور واقعی رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور ماہ رمضان کے نصف میں سورج گرہن آج تک نہیں لگا، 

 

📢 واضح رہے کہ یہاں یہ الفاظ نہیں کہ

"چاند گرہن والی راتوں میں سے پہلی رات میں چاند گرہن اور سورج گرہن والے دنوں میں سے درمیان والے دن میں سورج گرہن لگے گا" جیسے مرزا صاحب نے کئی جگہ اپنی طرف سے یہ الفاظ اس روایت میں اضافہ کیے ہیں 

 

(اس کی جہالت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے اس نے " النِّصْفِ مِنْهُ " کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانے دن سورج گرہن ہوگا "

جب کے عربی میں " نصف " کہتے ہیں آدھے کو نہ کہ درمیانے کو بلکہ درمیانے کے لئے عربی میں " وسط " کا لفظ آتا ہے)

 

✅ تو حدیث کے الفاظ ہی اس کو غلط ثابت دیتے ہیں. اور اس پر مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں بلفرض ہم حدیث کی صحت پر بات نہیں کرتے تو حدیث یہیں سے مرزا صاحب کے دعوے کو غلط ثابت کر دیتی ہے.

 

نیز اس روایت میں دو بار یہ ذکر ہے کہ

 

"ایسا گرہن جب سے زمین و آسمان بنے ہیں کبھی نہیں لگا" 

 

یہاں ہرگز ایسا کوئی زکر نہیں کہ " کسی مدعی مہدیت کے زمانے میں ایسا چاند یا سورج گرہن نہیں لگا " بلکہ مطلقاََ ایسا گرہن نہ لگنے کا ذکر ہے، 

 

✅ مگر جیسا گرہن مرزا قادیانی صاحب کی زندگی میں بتایا جاتا ہے ویسا گرہن مرزا سے پہلے کئی بار لگ چکا ہے اور مرزا کے بعد بھی جب تک یہ نظام فلکی موجود ہے لگتا رہے گا 

 

سنہ 1851ء بمطابق 1267ھ میں بھی رمضان المبارک کی انہی تاریخوں میں یعنی 13 رمضان کو چاند گرہن اور 28 رمضان کو سورج گرہن لگا تھا اور اس وقت " محمد احمد سوڈانی " موجود تھا جس نے بعد میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا ، 

 

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AF%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%81%D8%AF%D9%88%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%DB%8C_%D9%81%DB%81%D8%B1%D8%B3%D8%AA

 

یہ وضاحت ہم نے اس لئے کر دی کہ مرزا قادیانی نے انتہائی چالاکی کا ثبوت دیتے ہوئے اس روایت کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا تھا :۔

 

📜 " ترجمہ حدیث کا یہ ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں جب سے زمین و آسمان کی بنیاد ڈالی گئی وہ نشان کسی مامور اور مرسل اور نبی کے لئے ظہور میں نہیں آئے " 

 

📚 خزائن جلد 17 صفحہ 132

 

ایک اور جگہ یوں لکھا :۔

 

" اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں ، اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں دونوں گرہن رمضان میں کبھی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے "

 

📚 خزائن جلد 22 صفحہ 203

 

❓کون سے سال میں رمضان میں سورج اور چاند گرہن ہوا تھا اور ہو گا؟

 

قادیانی حضرات نے اس حدیث کو بنیاد بنا کر بہت بلند و بانگ دعوے کیے. لیکن الله کو کچھ اور ہی منظور تھا. آج کے دور میں ہر چیز کی آپ تصدیق کر سکتے ہیں. سورج اور چاند گرہن رمضان میں نہ صرف مرزا صاحب کے دور میں ہوا بلکے اس سے پہلے بھی ہوا اور اس کے بعد بھی .

 

مثلا ١٩٨١ اور ١٩٨٢ میں سورج اور چاند گرہن ہوے. اور یہ مرزا صاحب کے دور سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ مسلسل دو سال گرہن رمضان میں لگا اور سورج اور چاند گرہن دونوں واقعہ ہویے .

 

١٩٨١ میں پندرہ رمضان اور انتیس رمضان کو چاند اور سورج گرہن لگا. 

 

اور یہ وہ دور تھا جب *ریاض احمد شاہ* المعروف گوہر شاہی نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا .

 

اب قادیانی حضرات کے اصول کے مطابق تو پھر گوہر شاہی کو بھی امام مہدی تسلیم کر لینا چاہیے. حالانکہ مرزا صاحب نے جب سورج اور چاند گرہن لگا اس وقت نبوت کا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا. جب کہ گوہر شاہ نے تو یہ کام بھی کر لیا تھا. 

 

اس کے بعد

 

سن ٢٠٠٢ اور ٢٠٠٣ میں بھی رمضان میں سورج اور چاند گرہن لگا. اور اس دور میں بھی پاکستان کے شہر گجرات میں ایک عبد الرحمن نامی بندے نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعد میں وہ صاحب بھی قادیانیوں کے خلیفہ گروپ کی طرح انگلینڈ رفو چکر ہو گئے .

 

٢٠٢٤ میں پھر وہ سال ہو گا جب سورج اور چاند گرہن رمضان کے مہینے میں لگا

 

میری یہ تحریر حق پرست قادیانی حضرات کے لئے ہے کہ یہ جو دلیل ہے اس پر اگر آپ مرزا صاحب کو نبی مان بیٹھے ہیں اس اصول پر تو بہت مہدی ہونے کے دعویٰ دار آ چکے ہیں اور آتے رہیں گے 

 

اور اتنے زیادہ سورج اور چاند گرہن کے رمضان کے مہینے میں واقعاتا خود اس حدیث کے ضعیف ہونے پر نا قابل تردید ثبوت ہے .

 

یہ تحریر صرف سورج اور چاند گرہن والی دلیل کے رد میں ہے. 

 

امام مہدی علیہ سلام عجل تعالیٰ فرجہ شریف کے ظہور کے متعلق صحیح السند بے حساب احادیث ہیں 

 

آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے 

 

🖋 خاکسار :سید فرزند مصطفیٰ 🌹

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19