Back to واقعہ کربلا

وہ صحابہ جو ابن زیاد کے پاس موجود تھے

وہ صحابہ جو ابن زیاد کے پاس موجود تھے
وہ صحابہ جو ابن زیاد کے پاس موجود تھے
وہ صحابہ جو ابن زیاد کے پاس موجود تھے
وہ صحابہ جو ابن زیاد کے پاس موجود تھے

🔴 عادل یا ظالم؟

 

▪️ابو مخنف روایت کرتے ہیں کہ سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم سے نقل کیا:

 

📜 عمر بن سعد نے مجھے بلایا اور اپنے گھر والوں کے پاس بھیجا تاکہ انہیں اپنی کامیابی اور سلامتی کی خوشخبری دوں۔ چنانچہ میں کوفہ آیا اور اس کے گھر والوں کو یہ خبر دی۔ پھر میں دارالامارہ میں داخل ہونے کے لیے گیا، وہاں ابن زیاد لوگوں کے لیے مجلس لگائے بیٹھا تھا۔ وفود اس کے پاس آ رہے تھے، اس نے لوگوں کو اجازت دی، تو میں بھی داخل ہونے والوں کے ساتھ اندر چلا گیا۔

 

میں نے دیکھا کہ امام حسینؑ کا سر مبارک اس کے سامنے زمین پر رکھا ہوا تھا اور وہ اپنی چھڑی سے آپؑ کے دندانِ مبارک کے درمیان چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا (یہ عمل اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے تھا)۔

 

جب زید بن ارقم نے یہ منظر دیکھا اور اسے اس حرکت سے باز نہ آتے دیکھا تو کہا:

"اس چھڑی کو ان ہونٹوں سے ہٹا لو! اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے رسول خدا ﷺ کے ہونٹوں کو انہی ہونٹوں کو بوسہ دیتے دیکھا ہے!"

 

پھر وہ رونے لگے۔ اس پر ابن زیاد نے کہا:

"اللہ تیری آنکھوں کو رلائے! کیا تو اللہ کی فتح پر روتا ہے؟ خدا کی قسم! اگر تو بوڑھا نہ ہوتا اور تیرا دماغ خراب نہ ہو چکا ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا!"

 

حمید کہتے ہیں: زید بن ارقم وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔ جب باہر آئے تو میں نے لوگوں کو کہتے سنا:

"خدا کی قسم! زید بن ارقم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر ابن زیاد سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا۔"

 

میں نے پوچھا: اس نے کیا کہا؟

انہوں نے بتایا: وہ کہتے ہوئے گزرے:

 

"ایک غلام نے ایک غلام کو بادشاہ بنا دیا اور اس نے لوگوں کو کھیل بنا لیا۔

اے عرب کے لوگو! آج کے بعد تم غلام ہو گئے ہو!

تم نے فاطمہؑ کے بیٹے کو قتل کیا اور مرجانہ کے بیٹے کو حکومت دی،

وہ تمہارے اچھوں کو قتل کرے گا اور تمہارے بُروں کو غلام بنائے گا،

پس تم نے ذلت کو قبول کر لیا اور ذلت قبول کرنے والوں پر لع/نت ہو!"

 

📚 تاریخ طبری ۵/۴۵۶

 

▪️شیخ مفید بھی لکھتے ہیں:

 

📜 جب سرِ مبارک کو ابن زیاد کے پاس لایا گیا تو وہ بانس کی چھڑی سے امام حسینؑ کے لب اور دندانِ مبارک پر ضرب لگا رہا تھا۔ زید بن ارقم نے اعتراض کرتے ہوئے کہا:

"اپنی چھڑی ان ہونٹوں سے ہٹا لو، خدا کی قسم میں نے رسول خدا ﷺ کو ان ہونٹوں کو بارہا چومتے دیکھا ہے۔"

 

ابن زیاد نے جواب دیا:

"اگر تو بوڑھا اور بے عقل نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا!"

 

📚 الارشاد ۲/۱۱۵

 

✍🏻 نوٹ:

 

👈 مخالفین زید بن ارقم کو صحابہ میں شمار کرتے ہیں. اگرچہ اس کا اعتراض یزید اور ابن زیاد دونوں کے خلاف نقل ہوا ہے، 

 

⁉️ مگر سوال یہ ہے کہ وہ ان کے دربار میں موجود ہی کیوں تھا؟

 

⁉️ کیا اس نے رسول خدا ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا تھا کہ:

"میرا یہ بیٹا عراق کی سرزمین میں قتل کیا جائے گا، جو اسے پائے وہ اس کی مدد کرے"؟

 

⁉️ اگر وہ کسی وجہ سے امام حسینؑ کی مدد نہ کر سکا، تو پھر ظالم کے دربار میں کیوں گیا؟

 

⁉️ کیا اس نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی:

 

📜 "اور ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا، ورنہ تمہیں آگ چھو لے گی" 

📚 (ہود: ۱۱۳)

 

⁉️ کیا اس دن ابن زیاد کے پاس اس کی موجودگی اسے اس آیت کا مصداق نہیں بناتی؟

 

⁉️ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ وہ عاشورا کے دن امام کو تنہا نہ چھوڑتا؟

 

👈 افسوس کی بات یہ ہے کہ قاتلانِ سیدالشہداءؑ کے دربار میں حاضر ہونا صرف زید بن ارقم تک محدود نہ تھا، بلکہ صحابی انس بن مالک بھی ابن زیاد کے پاس موجود تھا۔

 

▪️خود انس کہتا ہے:

 

✍️ انس بن مالک سے روایت ہے:

جب امام حسین علیہ السلام کا سر ابن زیاد (لعنۃ اللہ علیہ) کے پاس لایا گیا اور اس کے سامنے ایک طشت میں رکھا گیا، تو وہ اپنی چھڑی سے آپ کے رخسار مبارک کو چھیڑنے لگا اور کہنے لگا:

"میں نے آج تک اس جیسا خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا۔"

 

میں (انس بن مالک) نے کہا:

"وہ رسولِ خدا ﷺ سے مشابہت رکھتے تھے۔"

 

📚 کتاب: انساب الاشراف

✍️ مصنف: بلاذری

📑 جلد: 3

📄 صفحات: 222-223

 

⭕ راویوں کا جائزہ:

 

احمد بن ابراہیم الدورقی — ثقہ، حافظ

وہب بن جریر — ثقہ

ان کے والد — ثقہ

ہشام بن حسان — ثقہ، حافظ

ابن سیرین — مقبول

انس بن مالک — صحابی

 

⁉️ واقعی کیا ان صحابہ کو معلوم نہیں تھا کہ اس وقت کے حکمران ایسے مواقع پر اپنے اعمال کو جائز دکھانے کے لیے صحابہ کے نام کا سہارا لیتے تھے؟

 

۔

 

🔴 مزید دیکھیں سیدالشہداء علیہ السلام کی مظلومیت کے کچھ مناظر / بخاری میں!

 

1️⃣ صحیح بخاری میں (تحریف شدہ عبارت):

 

📜 "... عبید اللہ بن زیاد کے پاس امام حسین علیہ السلام کا سر لایا گیا، اسے ایک طشت میں رکھا گیا، پھر وہ اسے چھیڑنے لگا اور اس کی خوبصورتی کے بارے میں کچھ کہا..."

 

2️⃣ صحیح ترمذی میں (بغیر تحریف عبارت):

 

📜 "... میں ابن زیاد کے پاس تھا کہ امام حسین کا سر لایا گیا، تو وہ اپنی چھڑی سے آپ کے ناک (یا چہرے) پر چھیڑتا تھا اور کہتا تھا: میں نے اس جیسی خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی..."

 

👈 ان دونوں عبارتوں کے موازنہ سے یہ سمجھ آتا ہے کہ:

 

⚫️ بخاری نے عبید اللہ بن زیاد کے جرم کو چھپانے کے لیے امام حسین علیہ السلام کے چہرۂ مبارک پر چھڑی مارنے کا ذکر حذف کر دیا۔

 

⚫️ اسی طرح بخاری نے امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کی خوبصورتی بیان کرنے والا جملہ بھی حذف کر دیا:

"میں نے اس جیسی خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی!"

 

invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4