Back to واقعہ کربلا

وہ صحابہ جو امام حسین ع کے لشکر میں موجود تھے

وہ صحابہ جو امام حسین ع کے لشکر میں موجود تھے
وہ صحابہ جو امام حسین ع کے لشکر میں موجود تھے
وہ صحابہ جو امام حسین ع کے لشکر میں موجود تھے
وہ صحابہ جو امام حسین ع کے لشکر میں موجود تھے

✅ وہ صحابہ جنہوں نے رسولِ خدا ﷺ کی وصیت پر عمل کیا

 

چند صحابۂ رسولِ خدا ﷺ ایسے تھے جو کربلا میں سیدالشہداء علیہ السلام کے دفاع میں شہید ہوئے:

 

1. انس بن الحارث الکاہلی الاسدی

2. عبدالرحمان بن عبد رب الانصاری الخزرجی

3. حبیب بن مظاہر الاسدی

4. مسلم بن عوسجہ الاسدی

5. عمار بن ابی سلامہ ہمدانی

 

▪️ یہ عظیم صحابہ عاشورا کے دن میدانِ جنگ میں حاضر ہوئے اور اپنے امامِ زمان (امام حسین علیہ السلام) کی مکمل نصرت کی، اور "ہل من ناصر ینصرنی" کی صدا پر لبیک کہا۔ ان کے نام ہمیشہ تاریخِ کربلا میں روشن رہیں گے۔

 

▪️ انس بن الحارث کے امام کے ساتھ ہونے کی ایک اہم وجہ وہ معروف حدیث تھی جو انہوں نے رسولِ خدا ﷺ سے سنی تھی۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:

 

📜 "میرا یہ بیٹا یعنی حسین اس سرزمین میں شہید کیا جائے گا جسے کربلا کہا جاتا ہے، پس تم میں سے جو کوئی اس وقت موجود ہو، اسے چاہیے کہ اس کی مدد کرے۔"

 

📚 تاریخ مدینہ دمشق ۱۴/۲۲۴

📚 الاصابہ، ج ۱، ص ۲۷۱

📚 اسد الغابہ، ج ۱، ص ۱۴۶

 

چنانچہ انس بن الحارث کربلا گئے اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے۔

 

اسی طرح ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب دلائل النبوہ میں اس حدیث کو رسولِ خدا ﷺ کے معجزات میں شمار کیا ہے:

 

📜 "میرا یہ بیٹا عراق کی سرزمین میں قتل کیا جائے گا، پس تم میں سے جو اسے پائے وہ اس کی مدد کرے۔"

 

📚 دلائل النبوہ، ج ۲، ص ۵۵۴، حدیث ۴۹۳

 

❓ سوالات

 

کیا رسولِ خدا ﷺ کا یہ فرمان ان لوگوں پر حجت نہیں تھا جو کوفہ میں رہتے تھے اور امام کی مدد نہ کر سکے؟

 

کیا وہ صحابہ جو امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے یا یزید اور عبیداللہ بن زیاد کے درباروں میں موجود تھے، انہوں نے یہ حدیث نہیں سنی تھی؟

 

کیا انہوں نے رسولِ خدا ﷺ کی یہ تمام تاکیدات نہیں سنیں؟

 

یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سنت کے حافظ کہلائیں، مگر سبطِ نبی ﷺ اور سیدِ جوانانِ جنت کے ساتھ ایسا سلوک کریں اور انہیں شہید کر دیں؟

 

کیا ان کے پیروکاروں کے لیے کوئی عذر باقی رہ جاتا ہے؟

 

لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں "تمام صحابہ عادل ہیں" کے نظریے کے حامیوں جیسے غزالی وغیرہ نے ایسے اعمال کے باوجود عزاداریِ سیدالشہداء کو حرام قرار دیا، تاکہ لوگوں کو صحابہ کی کوتاہیوں کا علم نہ ہو۔ چنانچہ انہیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت کے تقاضے کے طور پر لازم عزاداری کو بھی ممنوع قرار دینا پڑا۔

 

Invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4