ابن حجر و ذھبی کح نزدیک قاتلین شیعہ نہیں
ابن حجر و ذھبی کح نزدیک قاتلین شیعہ نہیں

❌ کیا شیعہ امام حسینؑ کے قاتل تھے؟

 

▪️ ابن حجر عسقلانی، صحیح بخاری کے شارح، کہتے ہیں:

 

📜 سبئیہ (ایک فرقہ) عبد اللہ بن سبا کی طرف منسوب ہیں، جو رافضیوں کے سرداروں میں سے تھا۔ مختار بن ابی عبید اسی کے نظریے پر تھا۔ جب مختار کوفہ پر غالب آیا تو اس نے امام حسینؑ کے قاتلوں کی تلاش شروع کی اور انہیں قتل کیا، جس سے شیعہ اس کی طرف مائل ہو گئے۔

 

📚 فتح الباری، شرح صحیح بخاری، جلد 9، صفحہ 167

 

✔️ اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ شیعہ اور امام حسینؑ کے قاتل ایک ہی گروہ نہیں تھے، کیونکہ مختار ثقفی نے قاتلانِ امام حسینؑ کو قتل کیا اور اس عمل کی وجہ سے شیعوں کی ہمدردی حاصل کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیعہ پہلے سے ہی قاتلانِ امام حسینؑ کے مخالف تھے، اور ان قاتلان کے قتل پر خوش ہوئے۔ لہٰذا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شیعہ امام حسینؑ کے قاتل نہیں تھے، بلکہ وہ ان سے نفرت رکھتے تھے اور مختار کی حمایت کرتے تھے۔

 

۔

 

 ▪️ذہبی نقل کرتے ہیں:

 

📜 مختار ثقفی اپنے ساتھیوں کو جھوٹ اور فریب کے ذریعے جمع کرتا تھا، اور ہر ممکن طریقے سے انہیں اپنے ساتھ مائل کرتا تھا، اور وہ شیعوں کو بھی امام حسینؑ کے قاتلوں کو قتل کر کے اپنی طرف مائل کرتا تھا۔

 

📚 تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، جلد 5، صفحہ 52

 

✔️ اس عبارت سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ امام حسینؑ کے قاتل ایک الگ گروہ تھے، اور شیعہ ان میں شامل نہیں تھے، کیونکہ مختار نے جب قاتلانِ حسینؑ کو قتل کیا تو شیعہ اس کی طرف مائل ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ قاتلوں کے ساتھ نہیں تھے بلکہ ان کے مخالف تھے اور مختار کے ساتھ شامل ہوئے۔

 

آخر جھوٹے ناص/بی کہیں نہ کہیں پھنستے ضرور ہے 😂

 

📑 بدر علی

 

#تبدیلی_ممنوع 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2