نواصب نے واقعہ کربلا کے ظلم کو شرعی اقدام میں بدل دیا
✅ حدیث: "جب دو خلیفہ کے لیے بیعت کی جائے تو دوسرے کو قتل کرو"
(صحیح مسلم میں روایت موجود ہے)
اسلام ویب (وهابی فتویٰ ویب سائٹ) اس حدیث کی تشریح میں کہتا ہے:
❓أريد معرفة معنى الحديث الشريف: (إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما)؟
🔷الإجابــة
الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه، أما بعد: فحديث: إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما. ومثله حديث: إنه ستكون هنات، فمن أراد أن يفرق أمر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف كائناً من كان. ومثله حديث: من أتاكم وأمركم جميع على رجل واحد يريد أن يشق عصاكم أو يفرق جماعتكم فاقتلوه. روى ذلك كله مسلم في صحيحه. قال الإمام النووي: فيه الأمر بقتال من خرج على الإمام أو أراد تفريق المسلمين ونحو ذلك، ونهي عن ذلك فإن لم ينته قوتل، وإن لم يندفع شره إلا بقتله قتل. وفي الحديث دليل على منع إقامة إمامين أو خليفتين لأن ذلك يؤدي إلى الشقاق والمخالفة، وحدوث الفتن وزوال النعم، وقد نقل الإجماع على ذلك النووي في شرح مسلم فقال: اتفق العلماء على أنه لا يجوز أن يعقد لخليفتين من عصر واحد سواء اتسعت دار الإسلام أم لا، وقال إمام الحرمين في كتابه الإرشاد: قال أصحابنا لا يجوز عقدها لشخصين، قال: وعندي أنه لا يجوز عقدها لاثنين في صقع واحد، وهذا مجمع عليه، قال: فإن بعد ما بين الإمامين وتخللت بينهما شسوع فللاحتمال فيه مجال، قال: وهو خارج من القواطع، وحكى المارزي هذا القول عن بعض المتأخرين من أهل الأصل وأراد به إمام الحرمين، وهو قول فاسد مخالف لما عليه السلف والخلف ولظواهر إطلاق الأحاديث. انتهى. والله أعلم.
امام نووی کے مطابق:
اس حدیث میں حکم ہے کہ جو شخص موجود خلیفہ کے ہوتے ہوئے دوسرا خلیفہ بننے کی کوشش کرے یا مسلمانوں کی جماعت کو توڑنے کی کوشش کرے،
اس سے قتال کیا جائے گا، اور اگر اس کا شر صرف قتل سے ہی روکا جا سکتا ہو تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
مزید لکھا ہے:
> یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ایک وقت میں دو امام یا خلیفہ بنانا جائز نہیں،
کیونکہ یہ تفرقہ، فتنہ اور نعمتوں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔
امام نووی اور امام الحرمین سمیت کئی علماء نے اس پر "اجماع" نقل کیا ہے کہ:
اسلام میں ایک وقت میں صرف ایک خلیفہ جائز ہے۔
اگر کوئی دوسرا بنے اور اس پر اصرار کرے تو وہ "باغی" ہے، اور اس سے قتال (بلکہ قتل) واجب ہے۔
🖇لینک
🌐https://isla.mw/abav2o
اس کا مقصد درحقیقت ظالم حکمرانوں کی حمایت، اور مظلوموں کے خلاف مذہبی جواز تراشنا ہے
❗ تجزیہ:
یہ پوری فقہی تشریح صرف ایک مقصد کے لیے کی جا رہی ہے:
🟥 یزید کی خلافت کو جائز ثابت کرنا
🟥 امام حسینؑ کے قیام کو "بغاوت" کہنا
🟥 کربلا کے قتل کو ایک شرعی "سزا" بنا کر پیش کرنا
یہی وہ خطرناک منطق ہے جس نے:
یزید جیسے فاسق و فاجر کو امیر المؤمنین کہلایا،
امام حسینؑ کو امت کا توڑنے والا کہا،
اور اسلام کے روشن ترین شہید کو ایک "فتنہ گر" بنا کر پیش کیا۔
🔥 مگر حقیقت کیا ہے؟
1. یزید خلیفہ "شرعی" نہیں تھا بلکہ:
شراب خوار تھا
فسق و فجور میں ڈوبا ہوا
زبردستی بیعت لی
رسول کے نواسے کو قتل کروایا
2. امام حسینؑ نے امت کو جوڑنے اور دین کو بچانے کے لیے قیام کیا، کیونکہ:
> "مثلی لا یبایع لمثله"
"میرا جیسا کسی جیسے (یزید جیسے) کی بیعت نہیں کر سکتا"
3. حدیث کو سیاق و سباق سے کاٹ کر یوں پیش کرنا کہ "دو خلیفہ بنے تو دوسرے کو قتل کرو"، ایک انتہائی سطحی، سیاسی، اور گمراہ کن تعبیر ہے —
خاص طور پر جب "پہلا خلیفہ" یزید جیسا مجرم ہو اور "دوسرا" حسینؑ جیسا معصوم ہو!
📌 نتیجہ:
📛 اسلام ویب اور اس جیسے وہابی و ناصبی مکتب فکر کی ویب سائٹس دراصل:
اسلام کی روح کو مسخ کر رہی ہیں،
ظالموں کو اولیاء بنا رہی ہیں،
اور حق پرستوں کو فتنہ گر دکھا رہی ہیں۔
📣 ہم پر لازم ہے کہ اس فکری دھوکے کے خلاف آواز اٹھائیں اور لوگوں کو واضح بتائیں کہ:
حسینؑ حق پر تھے، یزید باطل پر تھا
کربلا قربانی تھی، بغاوت نہیں
اور یہ حدیث کسی بھی صورت امام حسینؑ پر لاگو نہیں ہو سکتی — بلکہ یزید پر ہوتی ہے
۔
۔
۔
✅ شرح حديث إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخِرَ مِنْهُمَا
✅ حدیث کی تشریح: "جب دو خلیفہ کے لیے بیعت کی جائے تو دوسرے کو قتل کر دو"
ڈاکٹر محمد خلدون احمد نورس المالکی اپنی پی ایچ ڈی تحقیق میں اس حدیث کو یوں بیان کرتا ہے:
🔶عقوبة من يطلب الخلافة مع وجود خليفة:إذا بويع لرجل آخر مع وجود الخليفة الأول وأصر على بيعته فهو من البغاة يجب أن يُقاتل حتى يرجع إلى الحق أو يقتل. والقتل يكون:- إمَّا حِسَّاً كما قال - صلى الله عليه وسلم -: «إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما»وكما قال - صلى الله عليه وسلم - أيضاً: «إنه ستكون هنات وهنات فمن أراد أن يفرق أمر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف كائنا من كان» هذا إذا لم يندفع إلا بقتله .- أو يقتل معنى أي بعزله كما قال الشافعية ويعزر الخليفة الثاني هو ومبايعوه إن علموا ببيعة السابق،لارتكابهم محرماً، فإن جهلوا فلا يعزرون، وأوَّلوا ما ورد في مسلم: «إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخرمنهما» بأن معنى الحديث لا تطيعوه وأعرضوا عنه أو اخلعوه،فيكون كمن قُتل، وكذا قال الخطابي في قول عمر - رضي الله عنه - يوم السقيفة في حق سعد: اقتلوه. أي اجعلوه كمن قتل . وقيل: معناه أنه إن أصر فهو باغ يقاتل .وقال السيوطي: «معنى قوله - صلى الله عليه وسلم -: (فاقتلوا الآخر) أي أنه يقاتل ولو أدى ذلك إلى قتله» . وسببُ تشددِ الشرع في حكم من يطلب الخلافة مع وجود خليفة، أنه لو تُرك وما يريد فسيؤدي إلى فتنة كبيرة وإلى شق صف المسلمين وضعفهم، لهذا كان قتله أفضل من سفك دم آلاف معه، ممن أيَّده أو ممن عارضه، إذا استفحل أمره.
اگر کسی وقت ایک خلیفہ موجود ہو اور کسی دوسرے شخص کے ساتھ بیعت کی جائے، اور وہ اس پر قائم رہے، تو وہ "باغی" ہے، اور اس سے لڑنا واجب ہے، یہاں تک کہ وہ حق کی طرف پلٹے یا قتل ہو جائے۔
قتل کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
1. جسمانی قتل — جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
> "جب دو خلیفہ کے لیے بیعت کی جائے، تو دوسرے کو قتل کرو۔"
نیز فرمایا:
"فتنے آئیں گے، اور جو شخص اس امت کے اتحاد کو توڑنا چاہے، اسے تلوار سے مارو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔"
2. معنوی قتل (برطرفی) — یعنی اسے معزول کیا جائے، جیسے امام شافعی اور دوسرے علماء نے کہا۔ اگر دوسرا خلیفہ اور اس کے پیروکار جانتے ہوں کہ ایک خلیفہ پہلے ہی موجود ہے، تو وہ گناہگار ہیں۔ اگر لاعلم ہوں تو معذور۔ بعض نے حدیث کا مطلب یوں لیا کہ: "اس کی اطاعت نہ کرو، اسے چھوڑ دو، یا معزول کرو" — یعنی وہ شخص ایسا ہو جائے جیسے قتل کر دیا گیا ہو۔
خطابی نے حضرت عمرؓ کی بات (سقیفہ کے دن) کے بارے میں کہا: "سعد کو قتل کرو" — یعنی: "اسے ایسے بنا دو جیسے وہ قتل کر دیا گیا ہو۔"
سیوطی کہتے ہیں:
> "اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس سے لڑا جائے، چاہے یہ لڑائی اس کی موت تک چلی جائے۔"
🔷 شریعت کی سختی کی وجہ:
اگر ایسے شخص کو آزاد چھوڑ دیا جائے جو موجود خلیفہ کے ہوتے ہوئے خلافت کا دعویٰ کرے، تو یہ شدید فتنہ، تفرقہ، اور امت کی کمزوری کا سبب بنے گا۔ اس لیے ایک شخص کا قتل ہزاروں کے خون سے بہتر ہے۔
📚تعدد الخلفاء ووحدة الأمة فقها وتاريخا ومستقبلا ، محمد خلدون مالكي جلد 1 صفحه 202
https://shamela.ws/book/96234/205
❗ تجزیہ:
یہی وہ بنیاد ہے جس پر یزید لعنت اللہ علیہ کے امام حسینؑ کے قتل کے حکم کو جواز دینے کی کوشش کی گئی، اور پھر اہل سنت کے کچھ علماء نے اس ظالمانہ اقدام کی فقہی تاویلات پیش کر کے قاتل کو خلیفہ راشد اور مظلوم کو باغی بنادیا۔
اس فکری جرم کے چند پہلو:
1. یزید جیسے فاسق و فاجر کو "خلیفہ" ماننا — حالانکہ وہ شراب خوار، قاتل، زانی، دین فروش تھا، جس کی خلافت خود اسلامی اصولوں کے خلاف تھی۔
2. امام حسینؑ کو "باغی" کہنا — جو نہ صرف رسول ﷺ کے نواسے تھے، بلکہ سراپا عدل، تقویٰ اور حق پرست۔
3. دین کو سیاست کے تابع بنانا — تاکہ ظالم حکمرانوں کے جرائم کو "حدیث" اور "فقہ" کی آڑ میں جائز کہا جا سکے۔
💔 نتیجہ:
یہی وہ سوچ ہے جس نے:
کربلا جیسے ظلم کو شرعی اقدام میں بدلا،
یزید جیسے شخص کو امیر المؤمنین بنانے کی کوشش کی،
اور امام حسینؑ جیسے مظلوم کو "فتنہ گر" کہنے کی جسارت کی۔
📢 حقیقت یہ ہے کہ:
> ✨ امام حسینؑ "امت کو جوڑنے" کے لیے نکلے تھے،
🔥 اور یزید "امت کو بگاڑنے" کے لیے مسند پر بٹھایا گیا تھا۔
🩸 امام حسینؑ کا خون اسلام کے ضمیر کو زندہ کر گیا — اور یزید کا تخت تاریخ کے لعنت زدہ صفحے میں دفن ہو گیا۔
Invisible islam