شیعان علی ع قاتلان امام حسین ع نہیں

شیعہ نہ تو قاتلِ حسینؑ میں سے ہے اور نہ ہی ان کی اولاد میں سے، کیونکہ شیعہ ہمیشہ قاتلِ حسینؑ سے بیزاری اختیار کرتا ہے اور ان پر فخر نہیں کرتا۔

 

لہٰذا اس کا مصداق صرف ناصبی لوگ ہیں،

جیسے وہ لوگ جو آج یزید پر "رضی اللہ عنہ" کہہ کر درود بھیجتے ہیں 

جو حجاز کے وہابی ہیں، یا ان جیسے لوگ شام، مصر اور دیگر علاقوں میں جو "وہابیت" کے مرض میں مبتلا ہیں۔

 

خاص طور پر وہ گروہ جو کہتا ہے کہ

"حسینؑ نے اپنے زمانے کے امام (یزید) کے خلاف خروج کیا تھا، لہٰذا ان کا قتل شرعی طور پر جائز تھا!"

 

مولا رضا ع کی روایت ہے

 

روایت: (شیخ) احمد بن زیاد بن جعفر ہمدانی (رضوان اللہ علیہ) نے کہا:

ہمیں علی بن ابراہیم بن ہاشم نے اپنے والد سے روایت کی،

انہوں نے عبدالسلام بن صالح ہروی سے،

انہوں نے کہا:

 

میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے عرض کی:

اے رسول اللہؐ کے فرزند!

آپ اس حدیث کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو امام صادقؑ سے روایت ہوئی ہے،

جس میں ہے کہ:

"جب قائم (امام مہدیؑ) ظہور کریں گے تو وہ قاتلانِ حسینؑ کی اولاد کو ان کے آباء کے اعمال کی وجہ سے قتل کریں گے؟"

 

تو امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

"ہاں، یہی درست ہے۔"

 

میں نے عرض کی:

تو پھر اللہ کا یہ قول

‘کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا’

(سورہ انعام: 164)

اس کا کیا مطلب ہے؟

 

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"اللہ نے ہر بات سچ فرمائی ہے۔

لیکن قاتلینِ حسینؑ کی اولاد،

اپنے آباء کے افعال پر راضی ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں۔

اور جو کسی فعل پر راضی ہو، وہ اس فعل کے کرنے والے کے مانند ہے۔

اگر کوئی شخص مشرق میں کسی کو قتل کرے

اور مغرب میں کوئی شخص اس قتل پر راضی ہو

تو اللہ کے نزدیک وہ راضی ہونے والا بھی قاتل کے برابر شریک ہے۔

اسی لیے قائم (امام مہدیؑ) ان کو ان کی رضامندی کی وجہ سے قتل کریں گے۔"

 

میں نے عرض کی:

جب قائم ظہور کریں گے تو سب سے پہلے کس سے آغاز کریں گے؟

 

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

"سب سے پہلے وہ بنی شیبہ سے آغاز کریں گے

اور ان کے ہاتھ کاٹیں گے

کیونکہ وہ اللہ کے گھر (کعبہ) کے چور ہیں۔"

 

✅ یہ روایت معتبر ہے۔

 

عیون الاخبار الرضا، ص ۲۴۷

 

منقول

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1