امام غزالی لوگوں کو واقعہ کربلا سنانے کے کیوں مخالف تھے ؟
امام غزالی اعتراف کرتے ہیں کہ واقعہ کربلا عوام کو نہیں سنانا چاہیے، کیونکہ:
📜 "ويحرم على الواعظ وغيره رواية مقتل الحسين ... فإنه يهيج على بغض الصحابة والطعن فيهم"
📃 "یہ صحابہ پر طعن کا باعث بنے گا اور عوام ان سے بغض رکھنے لگے گی۔"
📚 الصواعق المحرقة، ج2، ص640، ابن حجر الہیثمی
الحمد اللہ اہل سنت امام غزالی نے ہمارے موقف کی تائید کی
یقیناً کچھ افراد جو اہل سنت کے نزدیک "صحابہ" میں شمار ہوتے ہیں، واقعہ کربلا میں یزیدی لشکر میں شریک تھے۔
1️⃣ زرہ بن قیس الأحمسی
📜 ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب الاصابہ (جو صرف صحابہ کے حالات پر ہے) میں ان کا ذکر کیا ہے:
📚 الاصابہ فی تمییز الصحابة
ج5، ص125، رقم 6431
🗡 یہ شخص امام حسینؑ کے خلاف یزیدی لشکر میں سوار فوج کا سردار تھا:
📜 "وَجَعَلَ عمر بن سعد ... وَعَلَى الْخَيْلِ زُرْعَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَحْمَسِيّ"
📚 أنساب الأشراف، ج1، ص419
💀 اسی نے امام حسینؑ کے شہداء کے سروں کو ابن زیاد کے پاس لے جانے میں کردار ادا کیا:
📜 "وَاحْتُزَّتْ رُؤُوسُ الْقَتْلَى ... وَعَزْرَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَحْمَسِيّ"
📘 أنساب الأشراف، ج1، ص424
2️⃣ حجار بن أبجر العجلي
📜 ابن حجر: "له إدراك" یعنی صحابہ میں شمار کیا گیا ہے۔
📚 الاصابہ، ج2، ص167، رقم 1957
🛡 کربلا میں ایک ہزار کا لشکر لے کر امام حسینؑ کے مقابل آیا:
📜 "ووجه أيضًا إلى الحسين حجار بن أبجر العجلي في ألف"
📚 أنساب الأشراف، ج1، ص416
3️⃣ عبدالله بن حصن الأزدی
📜 ابن حجر کے مطابق: "ذکره الطبراني في الصحابة"
📚 الاصابہ، ج4، ص61، رقم 4630
🚫 پانی بند کرنے والوں میں شامل تھا۔ امام حسینؑ کو آواز دی:
📜 "يا حسين ألا تنظر إلى الماء... والله لا تذوق منه قطرة حتى تموت عطشاً"
📚 أنساب الأشراف، ج1، ص417
4️⃣ عبدالرحمن بن أبي سبرة الجعفي
📜 صحابی
📚 الاصابہ، ج4، ص308، رقم 5129
🗡 اس شخص کو قبیلہ اسد کے لشکر کا کمانڈر بنایا گیا جو امام حسینؑ کے خلاف لڑا:
📜 "وعلى ربع مذحج وأسد عبد الرحمن بن أبي سبرة الجعفي"
📚 الكامل في التاريخ، ج3، ص417
5️⃣ عبدالرحمن بن أبزى الخزاعي
📜 ابن حجر: "له صحبة"
📚 الاصابہ، ج4، ص282
⚔ امام حسینؑ کے خلاف جنگ میں موجود تھا۔ جب مختار ثقفی نے قاتلینِ حسینؑ کو ڈھونڈا تو یہ شخص بھی بھاگ گیا:
📜 "وكان ممن حضر قتال الحسين"
📚 الأخبار الطوال، ج1، ص298
6️⃣ عمرو بن حريث
📜 الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ "له صحبة" یعنی یہ بھی صحابہ میں شمار ہوتا ہے۔
📚 الاصابہ فی تمییز الصحابہ
🛑 ابن زیاد کا نائب تھا کوفہ میں، اور لوگ اسے قتل حسینؑ کا شریک سمجھتے تھے:
📜 "فإن شئت وثبنا على عمرو بن حريث، وكان خليفة ابن زياد على الكوفة، ثم أظهرنا الطلب بدم الحسين وتتبعنا قتلته"
📚 الکامل فی التاریخ، ج2، ص206
7️⃣ عمرو بن حجاج الزبیدی
📜 الاصابہ میں اس کے صحابی ہونے کا ذکر موجود ہے:
📚 الاصابہ فی تمییز الصحابہ
🔻 کربلا میں جرم:
یزید کے حکم پر پانی بند کرنے والوں میں شامل تھا۔ عبیدالله ابن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کو پانی نہ ملے، تو اس نے عمرو بن حجاج کو 500 سواروں کے ساتھ شریعه پر بھیجا۔
📜 "فبعث عمر بن سعد، عمرو بن حجاج علی خمسمائة فارس، فحلوا بين الحسين وأصحابه وبين الماء"
📚 تاریخ طبری، ج3، ص311
8️⃣ شبث بن ربعی التمیمی
📜 الاصابہ میں موجود ہے کہ اس کا "إدراك" ہے (یعنی نبیﷺ کا زمانہ پایا)۔
📚 الاصابہ فی تمییز الصحابہ
🔻 اس کا جرم:
امام حسینؑ سے جنگ میں شریک ہوا۔
ابن حجر ہی لکھتے ہیں:
📜 "...كان فيمن قاتل الحسين"
(یہ ان میں سے تھا جنہوں نے حسینؑ سے جنگ کی)
📚 الاصابہ، ش3959
مزید ایسے یزیدی صحابہ کے بارے میں جاننے کیلئے یہ لنک دیکھیں 👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼
✍️ نتیجہ:
یہ تمام حوالہ جات واضح کرتے ہیں کہ:
کچھ افراد جو اہل سنت کے نزدیک صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے یزید کے لشکر میں شامل ہوکر امام حسینؑ کے خلاف جنگ میں شرکت کی۔
ان میں سے بعض پانی بند کرنے، سر کاٹنے، یا کمانڈر بننے جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہے۔
📌 یہ حقیقت نہ صرف تاریخ کو جھٹلانے والوں کے لیے دلیل ہے بلکہ یزید کی حمایت کو ایک تاریخی جرم ثابت کرتی ہے۔
📢 پیغام:
اگر ان سب حوالہ جات کے بعد بھی کوئی کہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں، اور ان میں کوئی امام حسینؑ کا دشمن نہیں ہو سکتا، تو وہ تاریخ کو جھٹلا رہا ہے۔
🕊 ہم ان حقائق کو آشکار کرتے رہیں گے، تاکہ باطل کا چہرہ بے نقاب ہو، اور امام حسینؑ کے قاتل صحابی کہلانے کے لائق نہ رہیں۔
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen