حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے شیعہ جنتی ہیں یہ بات متواتر ہے
┄┄┅━༅𖣔﷽𖣔༅━┅┄┄
✅ حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے شیعہ جنتی ہیں یہ بات متواتر (کثرتِ روایات سے ثابت) ہے
▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬
❶ امام علی ع
❷ عبداللہ ابن عباس
❸ معاذ ابن جبل
❹ ام سلمہ (زوجۂ نبی)
❺ ابو ہریرہ
❻ ابو سعید خدری
❼ جابر بن عبداللہ انصاری
❽ نضلہ الاسلمی (ابو برزہ)
❾ ابو بریدہ
❿ ابو مریم السلولی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❶ ابن مردویہ نے حضرت علیؑ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
"کیا تم نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا:
{بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وہی بہترین مخلوق ہیں}
یہ تم ہو اور تمہارے شیعہ ہیں، اور میرا اور تمہارا وعدہ حوضِ کوثر پر ہے، جب تم حساب کے لیے آنے والی امتوں کے ساتھ آؤ گے، تمہیں سفید چہروں اور چمکتے اعضاء کے ساتھ بلایا جائے گا۔"
📚 الدر المنثور، ج 8، ص 589
📚 مجمع الزوائد، ج 9، ص 131
https://shamela.ws/book/61/2774
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❷ ابن عباسؓ سے آیت
{بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہی بہترین مخلوق ہیں}
کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"اس سے مراد علیؑ اور ان کے شیعہ ہیں۔"
📚 شواہد التنزیل، ج 2، ص 472
/topic/1438
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❸ معاذ بن جبلؓ سے اسی آیت کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"اس سے مراد علی بن ابی طالبؑ ہیں، اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔"
📚 شواہد التنزیل، ج 2، ص 472
/topic/1438
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❹ ام سلمہؓ (زوجۂ نبی) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
"بے شک علیؑ اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہوں گے۔"
📚 انساب الاشراف، ج 2، ص 182
https://shamela.ws/book/9773/879
📚 تاریخ دمشق، ج 42، ص 333
https://shamela.ws/book/71/19319
📚 تذکرۃ الخواص، ج 1، ص 56
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❺ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علیؑ نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! آپ کو مجھ سے زیادہ فاطمہؑ محبوب ہیں یا میں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"فاطمہؑ مجھے تم سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن تم ان سے زیادہ معزز ہو۔
اور گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم میرے حوض (کوثر) پر کھڑے لوگوں کو دور کر رہے ہو،
اور اس پر برتن آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے۔
میں، تم، حسنؑ، حسینؑ، فاطمہؑ، عقیل اور جعفر جنت میں بھائیوں کی طرح آمنے سامنے تختوں پر ہوں گے۔
تم میرے ساتھ اور تمہارے شیعہ جنت میں ہوں گے۔"
پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{بھائی بھائی آمنے سامنے تختوں پر ہوں گے}
📚 مجمع الزوائد، ج 9، ص 173
https://shamela.ws/book/61/2816
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❻ ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ:
نبی اکرم ﷺ نے علیؑ کی طرف دیکھا اور فرمایا:
"یہ (علیؑ) اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہونے والے ہیں۔"
📚 شواہد التنزیل، ج 2، ص 467
/topic/1438
📚 تذکرۃ الخواص، ج 1، ص 56
📚 الدر المنثور، ج 8، ص 589
https://shamela.ws/book/12884/7209
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❼ فرات نے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: ہمیں احمد بن عیسیٰ بن ہارون نے حدیث بیان کی...
جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں علی بن ابی طالبؑ تشریف لائے۔
جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا:
"تمہارے پاس میرا بھائی آ گیا ہے۔"
پھر آپ نے کعبہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
"اس گھر (کعبہ) کے رب کی قسم! یہ (علیؑ) اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہونے والے ہیں۔"
📚 شواہد التنزیل، ج 2، ص 467
/topic/1438
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❽ ابو برزہ (نضلہ الاسلمی) سے بھی روایت ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وہی بہترین مخلوق ہیں}
اور فرمایا:
"اے علیؑ! اس سے مراد تم اور تمہارے شیعہ ہیں، اور میرے اور تمہارے درمیان ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے۔"
📚 شواہد التنزیل، ج 2، ص 463
/topic/1438
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❾ ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وہی بہترین مخلوق ہیں}
پھر آپ نے علیؑ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:
"اے علیؑ! یہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔
تم اور تمہارے شیعہ قیامت کے دن سیراب ہو کر (حوض کوثر پر) آؤ گے،
اور تمہارے دشمن پیاسے اور رسوا ہو کر آئیں گے۔"
📚 شواہد التنزیل، ج 2، ص 464
/topic/1438
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❿ ابو مریم السلولی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمار بن یاسرؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو علی بن ابی طالبؑ سے فرماتے ہوئے سنا:
"اللہ نے تمہیں ایسا بنایا کہ نہ تم دنیا کے پیچھے پڑتے ہو اور نہ دنیا تم پر غالب آتی ہے۔
اور اس نے تمہیں مسکینوں کی محبت عطا کی،
اور وہ تمہیں اپنا امام مان کر راضی ہوئے اور تم انہیں اپنا پیروکار مان کر راضی ہوئے۔
پس خوشخبری ہے اس کے لیے جو تم سے محبت کرے اور تمہارے بارے میں سچ کہے،
اور ہلاکت ہے اس کے لیے جو تم سے دشمنی رکھے اور تم پر جھوٹ باندھے۔
پس جو لوگ تم سے محبت رکھتے ہیں اور تمہارے بارے میں سچے ہیں،
وہ تمہارے گھر میں تمہارے پڑوسی اور تمہارے محل میں تمہارے ساتھی ہوں گے۔
اور جو لوگ تم سے بغض رکھتے ہیں اور تم پر جھوٹ باندھتے ہیں،
اللہ پر حق ہے کہ وہ قیامت کے دن انہیں جھوٹوں کے مقام پر کھڑا کرے۔"
📚 اسد الغابہ، ج 4، ص 87
https://shamela.ws/book/1110/1946#p1