جب یزید واصل جہ/نم ہوا تو اُسی دن اسکا بیٹا خلیفہ بنا
20 سال کی عمر میں معاویہ بن یزید مسند خلافت پر بیٹھا اپنے باپ دادا کے کرتوتوں کا 40 دن تک جائزہ لینے کے بعد خطبہ دیا
📜 وَمن صَلَاحه الظَّاهِر أَنه لما ولي الْعَهْد صعد الْمِنْبَر فَقَالَ إِن هَذِه الْخلَافَة حَبل الله وَإِن جدي مُعَاوِيَة نَازع الْأَمر أَهله وَمن هُوَ أَحَق بِهِ مِنْهُ عَليّ بن أبي طَالب وَركب بكم مَا تعلمُونَ حَتَّى أَتَتْهُ منيته فَصَارَ فِي قَبره رهينا بذنوبه ثمَّ قلد أبي الْأَمر وَكَانَ غير أهل لَهُ وَنَازع ابْن بنت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فقصف عمره وانبتر عقبه وَصَارَ فِي قَبره رهيبا بذنوبه ثمَّ بَكَى وَقَالَ إِن من أعظم الْأُمُور علينا علمنَا بِسوء مصرعه وبئيس منقلبه وَقد قتل عترة رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وأباح الْحرم وَخرب الْكَعْبَة وَلم أذق حلاوة الْخلَافَة فَلَا أتقلد مرارتها فشأنكم أَمركُم وَالله لَئِن كَانَت الدُّنْيَا خيرا فقد نلنا مِنْهَا حظا وَلَئِن كَانَت شرا فَكفى ذُرِّيَّة أبي سُفْيَان مَا أَصَابُوا مِنْهَا ثمَّ تغيب فِي منزله حَتَّى مَاتَ بعد أَرْبَعِينَ يَوْمًا على مَا مر
📃 'یہ خلافت اللہ کی رسی ہے اور میرے دادا معاویہ نے اس معاملے میں جھگڑا کیا جو اس کے اہل تھے، اور جو اس سے زیادہ مستحق تھے، یعنی علی بن ابی طالب۔ اس نے تمہارے ساتھ وہ کیا جو تم جانتے ہو، یہاں تک کہ اس کی موت آگئی اور وہ اپنی قبر میں اپنے گناہوں کے ساتھ قیدی بن گیا۔
پھر میرے والد نے اس کام کی ذمہ داری سنبھالی، حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں تھے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے (حضرت حسینؓ) سے جھگڑا کیا، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے اور ان کی نسل کو شہید کیا گیا، اور وہ بھی اپنے گناہوں کی وجہ سے قبر میں قیدی ہوگئے۔'
پھر وہ (یزید کا بیٹا) رویا اور کہا: 'ہمارے لیے سب سے بڑا معاملہ یہ ہے کہ ہمیں ان کے برے انجام اور بدترین واپسی (موت) کا علم ہے۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی عترت کو قتل کیا، حرام کو حلال کیا، اور کعبہ کو تباہ کیا۔ میں نے خلافت کی مٹھاس کا ذائقہ نہیں چکھا، تو میں اس کی کڑواہٹ بھی نہیں برداشت کر سکتا۔ لہٰذا تمہارا معاملہ تمہارے سپرد ہے۔
اللہ کی قسم! اگر دنیا میں بھلائی ہے تو ہم نے اس میں سے اپنا حصہ لے لیا ہے، اور اگر یہ شر ہے تو بنی سفیان کی اولاد کے لیے اتنا ہی کافی ہے جتنا انہوں نے اس میں سے حاصل کیا۔" پھر وہ اپنے گھر میں چالیس دن تک گوشہ نشین رہا اور پھر وفات پا گیا۔
📚 کتاب البدء والتاریخ ج۲ ص ۲۴۵ ۔
📚 حیوة الحیوان الکبری للدمیری ج۱ ص ۸۸ ۔ حجج الکرامة فی آثارالقیامة للصدیق حسن خان ۔
📚 الصواعق المحرقة ص۲۲۴ طبع مصر ۔ دول السلام للذھبی اشارتا ۔
📚 تاریخ الخمیس ج۲ ص ۳۰۱ ۔
📚 مروج الذھب ج۲ ص ۹۷ مختصرا ۔
📚 تاریخ الیعقوب ج ۲ ص ۲۴۰ ۔
📚 النجوم الزاھرة فی ملوک مصر والقاھرة ج۱ ص ۱۶۳،۱۶۴ ۔ خلافة معاویة بن یزید الاموی ۔
📚 البراھین القاطعة ترجمہ فارسی الصواعق المحرقة ص ۳۸۱ ۔
📚 السیف المسلول قاضی ثناء اللہ پانی پتی ص۲۱۳ طبع دہلی ۔
📚 الکوکب الدری شرح جامع الترمذی ج۲،ص۵۵ حاشیہ ۳ حواشی مولانامحمدیحی کاندھلوی ۔
ان کے علاوہ بھی کتابوں میں حضرت معاویہ بن یزید کا خطبہ موجود ہے۔ علامہ دمیری نے پورا خطبہ تقریبا نقل کیا ہے،
جب معاویہ بن یزید کی بات یہاں تک پہنچی تو اس کا گلا رُندھ گیا ۔ کافی دیر تک وہ بلند آواز سے روتا رہا ۔ اس کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوا :
’’ اے لوگو! میں تمہارے گناہوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر نہیں اٹھا سکتا اور نہ تمہاری دوستی کا طوق اپنے گلے میں ڈالوں گا ۔ اب تم خود جو بہتر سمجھو کرو، یا وہ حکومت کرے جس کا تم انتخاب کرو ۔ میں اپنی بیعت تم لوگوں پر سے اٹھاتا ہوں اور اس خلافت کو ٹھکراتا ہوں ‘‘
معاویہ بن یزید کے ان جملوں نے محفل میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ سب حیرت اور اضطراب سے ایک دوسرے کو تکنے لگے ۔ اور پھر زور زور سے شور مچانے لگے ۔ ہر شخص اپنی رائے دے رہا تھا ۔
مروان بن حکم, جو منبر کے نزدیک ہی بیٹھا تھا, اس نے کھڑے ہوکر معاویہ پر اعتراض کرنا چاہا ۔ جس پر معاویہ نے غصے سے چیخ کر مروان سے کہا :
مجھ سے دور ہوجا ! کیا تو حیلے اور بہانے سے میرے ذہن میں داخل ہونا چاہتا ہے ۔ میں نے تمہاری خلافت کا مزہ نہیں چکھا ہے کہ تمہارے گناہوں کی ذمہ داری اٹھاؤں ۔ اگر یہ خلافت فائدہ مند چیز ہے تو افسوس کہ میرے باپ نے اس کے ذریعہ صرف اپنے گناہوں اور بدبختی میں اضافہ کیا ہے ۔ اور اگر یہ نقصان دہ چیز ہے, تو جو بدبختی اس سے میرے باپ نے سمیٹی ہے، وہی کافی ہے ۔ میں اپنے آپ کو اس سے آلودہ نہیں کروں گا ۔‘‘
یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا اور پھر منبر سے نیچے اتر آیا ۔
📚 حیوة الحیوان
باقی اسکین میں دیکھیں 👇🏼
👈🏼 معاویہ بن یزید کا خطبہ سن کر مروان بولا یہی سنت عمر ہے جس کے جواب میں معاویہ بن یزید بولے تم مجھے دین سے ہٹانا چاہتے ہو ؟ (مطلب سمجھ رہے ہیں؟)
👈🏼 اسکی ماں بولی کاش میں حالت حیض میں ہوتی یعنی تمہیں پیدا ہی نہ کیا ہوتا
👈🏼 یزید کے بیٹے نے بنو امیہ کی خلافت کو چھوڑا اور بولا جس تخت کے نیچے اہل بیت کا خون ہو اس تخت پے میں نہیں بیٹھ سکتا ۔ اب پتہ نہیں اس دور کے مُلا یزید کو اس کے بیٹے سے زیادہ جانتے ہیں یا صرف بغض اھل بیت
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen