صحابی كثير بن شهاب قاتل امام حسین
🔴 مولا حسین ع کے قاتلیں میں صحابہ اور اولاد صحابہ شامل تھیں 🔴
1 . كثير بن شهاب الحارثي:
اس کے صحابی ہونے کے بارے میں:
قال ابن حجر:
📜 يقال ان له صحبة ... قلت ومما يقوي ان له صحبة ما تقدم انهم ما كانوا يؤمرون الا الصحابة وكتاب عمر اليه بهذا يدل على انه كان أميرا.
📃 میں کہتا ہوں کہ ان کی صحابیت کو تقویت دینے والی بات یہ ہے کہ اس وقت صرف صحابہ کو امیر مقرر کیا جاتا تھا اور عمر کا ان کو یہ خط لکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ امیر تھے۔
یعنی فقط صحابہ ہی کو جنگ کی سپہ سالاری دیتے تھے۔
📚 الإصابة في تمييز الصحابة ج 5 ص 571 نشر : دار الجيل – بيروت.
🔴 کثیر بن شهاب یزیدی لشکر میں شامل تھا 🔴
درج ذیل حوالہ جات میں کثیر بن شهاب کی یزید کے دور حکومت میں ان کی سرگرمیوں اور واقعہ کربلا میں ان کے کردار کی تفصیلات موجود ہیں۔ جن میں ان کی جنگی مہمات اور ان کی یزید کی حمایت شامل ہے۔
📚 طبری، تاریخ الامم والملوك (تاریخ طبری) جلد 5، صفحہ 206-207، اور جلد 6، صفحہ 219-220۔
📚 ابن اثیر، الكامل في التاريخ ، جلد 4، صفحہ 66-67۔
📚 ابن سعد، الطبقات الكبرى جلد 6، صفحہ 17-18۔
تعلیماتِ اہلبیتؑ
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen