Back to حضرت ابوبکر

کیا خدا حضرت ابوبکر سے حیا کرتا ھے ؟

کیا خدا حضرت ابوبکر سے حیا کرتا ھے ؟ 

 

علامہ عبدالرحمٰن صفوری کی کتاب نزھت المجالس میں میں نے صفحہ نمبر 184 جلد 2 میں انس بن مالک سے ایک روایت پڑھی جو کہ آپ کی خدمت میں پیش ھے 

 

ایک انصاری عورت رسول خدا (ص) کے پاس آئی اور عرض کی یا رسول اللہ (ص) میرا شوھر سفر میں ھے اور میں نے خواب میں دیکھا ھے کہ میرے گھر کا درخت گرکیا ھے رسول خدا (ص) نے فرمایا صبر کرو تمہارا شوھر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ وہ عورت روتی ھوئی واپس چلی گئی راستے میں ابوبکر ملے تو ان سے خواب بیان کیا لیکن رسول اللہ کی تعبیر بیان نہیں کی ۔ حضرت ابوبکر نے کہا جاؤ آج رات تمہارا شوھر واپس آ جائے گا ۔ وہ رسول اللہ (ص) کی بات کو سوچتی ھوئی واپس آگئی ۔ رات کو اس کا شوھر واپس آ گیا ۔ رسول اللہ (ص) نے اس پر ایک طویل نگاہ ڈالی اتنے میں جبرئیل نازل ھوئے اور کہا اے محمدؐ تم نے جو کہا تھا سچ تھا لیکن ابوبکر نے کہہ دیا تھا کہ اسی رات تمہارا شوھر واپس آ جائے گا خدا کو شرم محسوس ھوئی کہ اس کی زبان جھوٹی ھو جائے کیونکہ وہ صدیق ھے اسی وجہ سے وہ مردہ شوھر زندہ ھو کے واپس بھیجا گیا۔

 

تبصرہ : ان راویوں کو کیا ھوگیا ھے کہ حضرت ابوبکر کو صدیق ثابت کرنے کے لیے کیا کیا باتیں بناتے ھیں اور ھر حد پار کر جاتے ھیں ۔ کیا خدا کو صداقت رسول اللہ (ص) کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔ رسول خدا (ص) تو ھمیشہ واپس آنے کی خبر دی ھے ۔ ابوبکر نے اندھیرے میں تیر چلایا تو خداکو شرم دامن گیر ھوگیا ۔ سوال یہ ھے کہ خدا کو آبروئے ابوبکر کی پاسداری کرنی چاھیے تھی یا آبروئے رسول خدا (ص) کی ؟ پھر کہا گیا چونکہ ابوبکر صدیق تھے ۔ کیا رسول خدا صدیقوں کے سردار نہیں ؟ روایت گھڑنے والا مقام نبوت سے قطعی نا آشنا تھا ۔ اور جوعلما ایسی روایتیں اپنی کتابوں میں درج کرتے ھیں وہ بھی اسی زمرے میں آتے ھیں