ولدنی ابو بکر مرتین کی حقیقت
شیعہ مآخذوں میں سے اربلی نے کشف الغمہ میں ولدنی ابوبکر مرتین کے الفاظ حضرت امام جعفر صادق کے حوالے سے نقل کئے ہے:
عبد العزیز جنابذی کہتے ہیں : ابو عبد اللہ جعفر بن محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب عليہم السلام الصادق ہیں ، انکی والدہ ام فروہ ہے اور ان کا نام قریبہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر ہے اور ام فروہ کی والدہ کا نام اسماء بنت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق ہے ۔ اسی وجہ(یعنی ماں اور نانی کی طرف سے ابو بکر تک نسب پہنچنے کی وجہ) سے جعفر صادق نے کہا :ولقد ولدنی ابو بکر مرتین۔
یہ روایت کسی سند کے بغیر مرسلہ صورت میں منقول ہے کیونکہ
عبد العزیز جنابذی 524ق میں پیدا اور 611ق میں فوت ہوا[1]۔ اس نے سند کے بغیر امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے لہذا یہ روایت مرسلہ ہے ۔
یہ سنی مسلک پر کار بند تھا ۔ اسکی واضح دلیل کشف الغمہ کی روایت میں جنابذی کی طرف سے ابو بکر کیلئے لفظ "صدیق" کا استعمال کرنا ہے جبکہ شیعہ حضرات کے نزدیک یہ لقب حضرت علی ؑ سے مخصوص ہے ۔نیز ذہبی کا اسے اپنے شیوخ میں سے شمار کرنا اس کی تائید کرتا ہے [2]
کشف الغمہ کے علاوہ شیعہ کے دیگر مصادر میں اسکا تذکرہ موجود نہیں ہے ۔
اہل سنت مآخذوں میں ذہبی،مزی اور ابن عساکر نے اسے نقل کیا ہے لیکن
ذہبی نے اسے کسی سند کے بغیر ذکر کیا ہے[3]
مزی نے تہذیب الکمال میں سند کے ساتھ ذکر کیا ہے[4] لیکن اس سند میں حفص بن غیاث مذکور ہے جس کی روایات کو کتاب بنام تعدیل و تراجیح میں قبول نہیں کیا گیا[5] ۔
ابن عساکر اسے اس اسماعیل بن محمد بن فضل سے نقل کرتا ہے[6] کہ جس کے متعلق ذہبی نے کہا ہے کہ ابن عساکر نے جب اسماعل کو دیکھا تو وہ بوڑھا ہو چکا تھا اور اس کا حافظہ اچھا کام نہیں کرتا تھا[7] ۔نیز ابن عساکر کی سند میں معاذ بن مثنی ہے جس کی عدالت احمد بن حنبل کے نزدیک ساقط ہے[8] ۔
پس ان وجوہات کے پیش نظر اس روایت کی بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ امام جعفر صادق اپنے نسب میں ابوبکر کا نام دو دفعہ آنے کی وجہ سے فخر کیا کرتے تھے ۔
حوالہ جات
1: ذہبی، سیر اعلام النبلاء ج 22 ص31۔
2: ذہبی، سیر اعلام النبلاء ج 22 ص31۔
3: سیر أعلام النبلاء، ج ۶،ص۲۵۵
4: تہذیب الکمال،المزی، ج۵، ص۷۱
5: التعدیل و الترجیج، ج۱، صص۵۱۳
6: تاریخ مدینہ دمشق، ج۴۴، ص۴۵۳-۴۵۴
7: سیر اعلام النبلاء،ج۲۰،ص۸۶
8: المقصد الأرشد فی ذکر اصحاب الامام احمد، ج۳، ص۳۵