ابن تیمیہ اور ان کی دشمنی امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ
❌ ابن تیمیہ اور ان کی دشمنی امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ ❌
🔵 ابن تیمیہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
📜 "اکثر ائمہ حدیث جیسے مالک، شعبہ، سفیان ثوری اور احمد بن حنبل — جو شخص ان کے حالات سے آگاہ ہو، اسے یقینِ قطعی ہوتا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں جھوٹ کا سہارا نہیں لیا۔ یہ حضرات اگر غلطی کرتے بھی تو محض ایک یا دو لفظ میں۔ بلکہ بعض تو ایسے ہیں جن سے سرے سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی، جیسے احمد بن حنبل، سفیان ثوری اور زہری وغیرہ۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جن سے غلطی سرزد ہوئی ہے، جیسے حماد بن سلمہ اور جعفر بن محمد (یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام)۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ ان کی غلطیاں محدود اور معلوم مقامات پر تھیں۔"
📚 جواب الاعتراضات المصریة علی الفتیا الحموية ص 42
👈🏼 یعنی ابن تیمیہ امام صادق علیہ السلام کو ان افراد کی فہرست میں رکھتا ہے جنہیں وہ غلطی کرنے والے راوی شمار کرتا ہے، جبکہ احمد بن حنبل، سفیان ثوری اور دیگر اہل سنت ائمہ کو ہرگز خطا نہ کرنے والا کہتا ہے۔
⁉️ سوال یہ ہے:
کیا اس سے بڑھ کر اہل بیت علیہم السلام کی دشمنی کوئی اور دلیل ہو سکتی ہے؟
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام وہ ذات ہیں جن سے ہزاروں احادیث نقل ہوئیں اور جن کے شاگردانِ کبار میں ابو حنیفہ، مالک بن انس، جابر بن حیان اور دیگر شامل ہیں۔ پھر بھی ابن تیمیہ نے انہیں خطاکار راوی کے طور پر پیش کیا، لیکن اہل سنت کے متاخر علما کو معصوم عن الخطا قرار دے دیا۔ یہ ابن تیمیہ کی اہل بیت علیہم السلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔
🔴 اسکے علاوہ اہل سنت کے علماء کی امام جعفر صادق علیہ السلام سے دشمنی 🔥
إبراهيم سليمان الجبهان، ناصبی ملعون اور اہل سنت کے متاخر علماء میں سے، امام صادق علیہ السلام کو فراماسونری اور شیطان پرستی کا بانی قرار دیتے ہیں۔
✍ وہ لکھتے ہیں:
"میں نے بہت سے مقامات پر جب بھی امام صادق کا نام لیا، اس کے آگے سوالیہ نشان لگایا تاکہ عام غلط فہمی کو درست کیا جا سکے جو بہت سے مصنفین کرتے ہیں کہ وہ لفظ 'صادق' امام کے نام کے ساتھ لگا دیتے ہیں اور اسے لقب سمجھ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نام یا تزکیہ امام صادق کے لیے مناسب نہیں تھا کیونکہ ان کے گرد شک و شبہات تھیں اور ان پر متعدد اقوال منسوب کیے گئے جو کفر یا الحاد کے قریب ہیں۔ اگر یہ اقوال ان کی طرف سے صحیح بھی ہوں (جو امید ہے نہیں ہیں) تو 'صادق' کہنے کا مطلب ہر بات کو سچ سمجھنا ہوگا، اور اگر یہ اقوال صحیح نہ بھی ہوں تو یہ لقب غیر ضروری ہے اور اس کو چھوڑنا افضل ہے۔"
📗📔 حوالہ: تبديد الظلام وتنبيه النيام إلى خطر التشيع على المسلمين والإسلام، إبراھيم سليمان الجبهان، صفحہ 9
✍ وہ مزید لکھتے ہیں:
"میں راز فاش نہیں کرتا اگر کہوں کہ کچھ شیعہ امام درخشان ترین ستاروں میں سے ہیں جنہیں فراماسونی گروہوں نے منتخب کیا۔ یہ گروہ انہیں اپنے اختیار میں لے گئے اور ان کے دل میں خلافت کا جذبہ پیدا کیا۔ شیعہ کتب اور تاریخی مراجع میں واضح طور پر یہ ذکر ہے کہ یہ شخص، یعنی جعفر بن محمد، تشیع کا دوسرا بانی ہے۔ پہلے بانی ابن سباء یہودی تھا اور جعفر بن محمد نے تشیع کو سیاسی فکر سے دینی عقیدہ میں تبدیل کیا۔ اس نے ان شیطانوں کی مدد سے اس گناہ عظیم کی بنیاد رکھی اور اپنے پیروکاروں کے لیے ایسی تعلیمات بنائیں جن کے خطرناک اثرات ختم نہ ہوں۔"
📗📔 حوالہ: تبديد الظلام وتنبيه النيام، صفحہ 161
Gallery
Tap any image to view full screen