ابوحنیفہ (نالائق شاگرد) کی امام صادق علیہ السلام کے ساتھ دشمنی و مخالفت
🔴 ابوحنیفہ (نالائق شاگرد) کی امام صادق علیہ السلام کے ساتھ دشمنی و مخالفت
▪ "یہ خبر اہلِ باطل کی اماموں علیہ السلام کے ساتھ رویہ کی تصدیق کرتی ہے، جو اپنے اسلاف کی پیروی میں اسی طرح عمل کرتے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ ابوحنیفہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا: 'میں نے جعفر علیہ السلام کے ہر قول اور فعل میں مخالفت کی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ سجدے میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہے یا کھولتا ہے۔'"
یعنی اہلِ باطل کے طریقہ کار کے مطابق یہ روایت بیان کی گئی ہے، جو اپنے بزرگوں کی پیروی کرتے ہیں۔ ابوحنیفہ کہتا ہے:
📜 "میں امام صادق علیہ السلام کے ہر قول و فعل میں مخالفت کرتا رہا، لیکن نماز میں ان کی آنکھیں بند کرنے یا کھولنے کے بارے میں مجھے علم نہیں تھا؛ اگر مجھے معلوم ہوتا تو اس معاملے میں بھی ان کے برخلاف عمل کرتا، اور چونکہ میں نہیں جانتا، ممکن ہے اس معاملے میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔"
📚 زہر الربيع، محدث جزائري، ص522
📚 فرائد الأصول، شیخ انصاری، ج1، ص615، ج4، ص125
📚 قاموس الرجال، شیخ محمد تقی التستری، ج10، ص376
📚 الإمام علي بن أبي طالب (ع)، أحمد رحماني همداني، ص756
📚 شرح نهج البلاغه، حائري، ج2، ص29
📚 شیخ محمد باقر خالصی، شرح مفتاح الكرامة، ج9، ص238
🔴 ابو حنیفہ کی امام جعفر صادق علیہ السلام سے جان بوجھ کر مخالفت – محقق سلفی محمد محیی الدین الاصفر کی تصریح
اسلامی تاریخ کی ایک جنجالی شخصیت، جس پر نہ صرف شیعہ بلکہ خود اہل سنت کے بڑے بڑے علماء نے بھی طعن، تکفیر، تفسیق اور تمسخر کیا ہے، وہ ابو حنیفہ ہے۔
ابو حنیفہ کی ایک نمایاں اور ناقابل انکار صفت یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر ائمہ اہل بیت علیہم السلام خصوصاً امام جعفر صادق علیہ السلام کی مخالفت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض علماء نے کہا کہ انہوں نے اہل بیتؑ کے مقابلے میں اپنا الگ دکان و مدرسہ کھول رکھا تھا۔
محقق سلفی محمد محیی الدین الاصفر اپنی تعلیقات بر کتاب تأویل مختلف الحدیث میں لکھتے ہیں:
📜 "ابو حنیفہ علم و صلاح کے لحاظ سے بلند مقام پر تھے، لیکن وہ (دینی مسائل میں) رائے کو اختیار کرتے تھے۔ جعفر بن محمد – اور وہی جعفر صادق ہیں – انہیں اس رائے سے منع کرتے تھے۔ لیکن ابو حنیفہ اپنی رائے سے باز نہ آئے۔"
📚 ماخذ: الدینوری، ابو محمد عبد اللہ بن مسلم ابن قتیبہ (متوفی 276ھ)، تأویل مختلف الحدیث، ص102، تحقیق: محمد محیی الدین الاصفر، المکتب الاسلامی – مؤسسة الإشراق، طبعہ دوم، 1419ھ / 1999م
👈🏼 یعنی: امام صادقؑ نے ابو حنیفہ کو بار بار منع کیا کہ دین میں ذاتی رائے کو اصل نہ بنائیں، لیکن ابو حنیفہ نے امام کی نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنی ضد پر قائم رہے۔
❓ اب سوال یہ ہے کہ جب ابو حنیفہ نے اہل بیتؑ خصوصاً امام صادقؑ کی واضح مخالفت اور عناد کا راستہ اختیار کیا، تو پھر اہل بیت کی محبت اور پیروی کا دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے؟ یہ کیسی محبت ہے جو مخالفتِ صریح اور عنادِ عملی کے ساتھ جمع کی جاتی ہے؟
🔴 ابن قتیبہ (اہل سنت کے معروف عالم) کی نظر میں ابوحنیفہ: پیرویِ خواہشات اور احکامِ شرعی میں سفاہت!
ابوحنیفہ اہل سنت کے مشہور علما میں شمار کیے جاتے ہیں، جنہیں "امام اعظم" کا لقب دیا گیا ہے اور وہ حنفی مسلک کے امام مانے جاتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف، بڑے بڑے اہل سنت علماء نے ان پر نہایت سخت کلام کیا ہے۔
▪محقق سلفی محمد محیی الدین الاصفر نے ابن قتیبہ کی کتاب تأویل مختلف الحدیث کی تحقیق کے مقدمے میں لکھا:
📜 "ہمارے سامنے جو کتاب ہے ‘تأویل مختلف الحدیث’ اس میں ابن قتیبہ – جو اہل حدیث کے بڑے علما میں سے ہیں – اہل حدیث کی طرف سے دفاع کرتے ہیں، اور مخالف مکاتب فکر کے دلائل کو رد کرتے ہیں۔ اس رد و نقد میں وہ بعض اوقات حد سے بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر جب وہ ائمہ اہل رائے پر بات کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ابوحنیفہ پر – جیسا کہ آگے کتاب میں آئے گا – یہ الزام لگایا ہے کہ وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے تھے اور شرعی احکام میں سفاہت برتتے تھے۔ اور یہ بلاشبہ ایک ایسا افراط ہے جو تعصب کے باعث انسان کو اپنے مخالفین پر حد سے زیادہ سخت حملے پر آمادہ کر دیتا ہے۔"
📚 حوالہ: الدینوری، ابو محمد عبد اللہ بن مسلم ابن قتیبہ (م 276ھ)، تأویل مختلف الحدیث، ص17، تحقیق: محمد محیی الدین الاصفر، المکتب الاسلامی – مؤسسة الإشراق، ط2 (مزید و منقح)، 1419ھ / 1999م
👈🏼 پس یہ بات واضح ہے کہ خود محقق سلفی کی تصریح کے مطابق، ابن قتیبہ نے ابوحنیفہ کو شرعی فتاویٰ میں "سفیہ" اور "پیروِ خواہشات" کہا ہے۔
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen