ابوحنیفہ کہتے تھے کہ اگر امام صادقؑ کے شاگرد نہ بنتا تو ہلاک ہوجاتا
ابوحنیفہ کہتے تھے کہ اگر امام صادقؑ کے شاگرد نہ بنتا تو ہلاک ہوجاتا 👇
اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل بیت عصمت و طہارتؑ اپنی بے نظیر علمیت کی وجہ سے سب کے لیے مرجعِ علم رہے ہیں۔ آلوسی (اہل سنت کے عالم) اپنی کتاب مختصر تحفۃ الاثنی عشریۃ کی مقدّمہ میں ابوحنیفہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس نے دو سال تک امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں رہ کر علم حاصل کیا۔
"یہ ابو حنیفہ ہیں جو اہل سنت کے درمیان تھے اور ہمیشہ فخر سے فصیح زبان میں کہا کرتے تھے:
📜لولا السنتان لهلك النعمان
📃 اگر وہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان (ابو حنیفہ) ہلاک ہوجاتا۔"
اس سے مراد وہ دو سال ہیں جن میں انہوں نے امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں رہ کر علم حاصل کیا۔ اور کئی اہل علم نے کہا ہے کہ ابو حنیفہ نے علم و طریقت، امام جعفر صادقؑ، ان کے والد امام محمد باقرؑ اور ان کے چچا زید بن علی بن الحسینؑ سے حاصل کیا۔
▪ یعنی ابو حنیفہ جو اہل سنت کے درمیان تھے، ہمیشہ فخر کے ساتھ کہا کرتے تھے: "اگر وہ دو سال نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔" اس سے مراد وہ دو سال ہیں جن میں انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے علم حاصل کیا۔ اور کئی علماء نے کہا ہے کہ انہوں نے علم و طریق امام جعفر صادقؑ، امام محمد باقرؑ اور زید بن علی بن الحسینؑ سے اخذ کیا۔
📚 نام کتاب: مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ
📄 صفحہ: 8
☑️ نوٹ:
علماء اور چاروں ائمہ اہل سنت (ابوحنیفہ، مالک بن انس، شافعی، احمد بن حنبل) یا تو براہِ راست یا بالواسطہ امام صادقؑ کے شاگرد تھے۔
مناسب یہ تھا کہ جس طرح زرارہ اور محمد بن مسلم جیسے شاگردوں نے امام صادقؑ کے فقہی و اعتقادی منہج کی پیروی کی، یہ لوگ بھی مکمل طور پر پیروی کرتے۔
لیکن انہوں نے کوتاہی کی، جیسے بعض صحابہ نے بھی رسول اللہ ﷺ کے منہج کو پوری طرح اختیار نہ کیا اور (اہل سنت کتب کے مطابق) آپ ﷺ پر ہذیان کا الزام بھی لگا دیا۔
ظاہر ہے یہ نقص نہ رسول اللہ ﷺ پر ہے اور نہ امام صادقؑ پر، بلکہ یہ ان لوگوں کی کمی ہے جو ان کی پیروی نہ کر سکے۔
#بدر_علی
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen