امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کے درمیان توسل کے موضوع پر مناظرہ
امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کے درمیان توسل کے موضوع پر مناظرہ:
📜 ایک دن ابو حنیفہ امام جعفر صادقؑ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ جب امامؑ نے کھانا ختم کیا تو فرمایا:
"تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ اے پروردگار! یہ (نعمت) تیری طرف سے ہے اور تیرے رسول ﷺ کی طرف سے ہے۔"
ابو حنیفہ نے کہا: "اے ابا عبداللہ! کیا آپ نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا دیا؟"
امام صادقؑ نے فرمایا: "افسوس تجھ پر! اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے:
(وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله)
“انہیں بس اسی بات پر عتاب تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے انہیں بے نیاز کر دیا۔”
اور ایک اور جگہ فرماتا ہے:
(ولو أنهم رضوا ما آتاهم الله ورسوله وقالوا حسبنا الله سيؤتينا الله من فضله ورسوله)
“اور اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا تھا، اور کہتے: اللہ ہمارے لیے کافی ہے، عنقریب اللہ اور اس کا رسول اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائے گا، تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔”
ابو حنیفہ نے کہا: "اللہ کی قسم! گویا میں نے آج تک یہ دو آیات قرآن میں نہ پڑھیں اور نہ کسی سے سنی ہیں۔"
امام صادقؑ نے فرمایا: "ہاں، تم نے پڑھا بھی ہے اور سنا بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے جیسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے:
(أم على قلوب أقفالها)
“کیا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں؟”
اور یہ بھی فرمایا ہے:
(كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون)
“ایسا نہیں جیسے وہ سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔”
📚 کنز الفوائد للکراجکی، ج ۲، ص ۳۶ ـ ۳۷
📚 بحارالانوار، ج ۱۰، ص ۲۱۶، ح ۱۷ ؛ ج ۴۷، ص ۲۴۰، ح ۲۵
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen