معجزات و کرامات
معجزات و کرامات
معجزات و کرامات
معجزات و کرامات
معجزات و کرامات

♥️ حضرت امام صادق علیہ السلام کا ایک معجزہ

 

یہ معجزہ امامتِ امام صادق علیہ السلام کی ایک بہترین نشانیوں میں سے ہے! 

 

📜 مَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ‌ قَصَدْتُ إِلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع أَسْأَلُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَقَالُوا مَاتَ السَّيِّدُ الْحِمْيَرِيُّ الشَّاعِرُ وَ هُوَ فِي جَنَازَتِهِ‌فَمَضَيْتُ إِلَى الْمَقَابِرِ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي فَلَمَّا أَنْ قُمْتُ أَخَذَ بِثَوْبِي فَجَذَبَهُ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ الْأَحْدَاثِ تَرَكْتُمُ الْعِلْمَ.

 

فَقُلْتُ أَنْتَ إِمَامُ هَذَا الزَّمَانِ قَالَ نَعَمْ.

 

قُلْتُ فَدَلِيلٌ أَوْ عَلَامَةٌ قَالَ سَلْنِي عَمَّا شِئْتَ أُخْبِرْكَ بِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

 

قُلْتُ إِنِّي أَصَبْتُ بِأَخٍ لِي وَ دَفَنْتُهُ فِي هَذِهِ الْمَقَابِرِ فَأَحْيِهِ لِي بِإِذْنِ اللَّهِ.

 

قَالَ مَا أَنْتَ بِأَهْلٍ لِذَلِكَ وَ لَكِنَّ أَخَاكَ كَانَ مُؤْمِناً وَ اسْمُهُ عِنْدَنَا أَحْمَدُ.

 

وَ دَنَا مِنَ الْقَبْرِ وَ دَعَا قَالَ فَانْشَقَّ عَنْهُ قَبْرُهُ وَ خَرَجَ إِلَيَّ وَ اللَّهِ وَ هُوَ يَقُولُ يَا أَخِي اتَّبِعْهُ وَ لَا تُفَارِقْهُ ثُمَّ عَادَ إِلَى قَبْرِهِ وَ اسْتَحْلَفَنِي عَلَى أَنْ لَا أُخْبِرَ بِهِ أَحَداً

 

📃 محمد بن راشد نے اپنے دادا سے روایت کیا:

 

میں جعفر بن محمدؑ (امام صادقؑ) کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے گیا۔ لوگوں نے کہا: "سید حمیری شاعر کا انتقال ہوگیا ہے اور امامؑ ان کے جنازے میں ہیں۔"

پس میں قبرستان گیا اور امامؑ سے استفتاء کیا تو انہوں نے مجھے فتویٰ دیا۔ جب میں اٹھنے لگا تو انہوں نے میرا کپڑا پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا:

 

"تم لوگ اے نوجوانو! علم کو چھوڑ بیٹھے ہو۔"

 

میں نے کہا: "آپ ہی اس زمانے کے امام ہیں؟"

فرمایا: "ہاں۔"

 

میں نے کہا: "اس پر کوئی دلیل یا نشانی؟"

فرمایا: "مجھ سے جو چاہو پوچھ لو، ان شاء اللہ میں تمہیں خبر دوں گا۔"

 

میں نے کہا: "میرا ایک بھائی تھا جسے میں نے انہی قبروں میں دفن کیا ہے۔ اسے اللہ کے اذن سے زندہ کر دیجیے۔"

 

امامؑ نے فرمایا: "تم اس کے اہل نہیں ہو، لیکن تمہارا بھائی مؤمن تھا اور اس کا نام ہمارے پاس احمد ہے۔"

 

پھر امامؑ قبر کے قریب گئے اور دعا فرمائی۔

پس قبر شگاف ہو گئی اور قسم بخدا! وہ (میرا بھائی) باہر آ گیا اور مجھ سے کہنے لگا: "اے میرے بھائی! ان (امام جعفر صادقؑ) کی پیروی کرنا اور ان سے جدا نہ ہونا۔"

 

پھر وہ واپس قبر میں چلا گیا اور (جاتے جاتے) مجھ سے قسم لی کہ میں یہ واقعہ کسی کو نہ بتاؤں۔

 

📚 الخرائج و الجرائح - قطب الدين الراوندي - ج2 ص742

 

🔴 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے معجزات کے سمندر سے ایک قطرہ ❗️

 

✅ پرندوں کو زندہ کرنا

 

🔵 یونس بن ظبیان روایت کرتا ہے:

میں امام صادقؑ کی خدمت میں ایک جماعت کے ساتھ موجود تھا۔ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے فرمایا ہے:

﴿فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ﴾

(چار پرندے لے لو اور ان کے ٹکڑے کر دو)۔

کیا وہ چار پرندے ایک ہی جنس سے تھے یا مختلف اجناس سے؟

 

امامؑ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اس جیسا عمل دکھاؤں؟

ہم نے کہا: جی ہاں۔

 

پس آپؑ نے فرمایا: "اے طاؤس!" تو فوراً ایک طاؤس پرواز کرتا ہوا آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

پھر فرمایا: "اے کوّے!" تو ایک کوّا آپؑ کے سامنے آ گیا۔

پھر فرمایا: "اے باز!" تو ایک باز حاضر ہو گیا۔

پھر فرمایا: "اے کبوتر!" تو ایک کبوتر بھی آپؑ کے سامنے آ گیا۔

 

اس کے بعد امامؑ نے حکم دیا کہ ان سب کو ذبح کر دیا جائے، ان کے پر نوچ لیے جائیں، ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں اور سب کو آپس میں ملا دیا جائے۔

 

پھر امامؑ نے طاؤس کا سر ہاتھ میں لیا اور فرمایا: "اے طاؤس!"

ہم نے دیکھا کہ گوشت، ہڈیاں اور پر سب الگ ہو کر سر سے جا ملے اور طاؤس زندہ ہو کر امامؑ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

 

پھر امامؑ نے کوّے کو آواز دی، اور وہ بھی زندہ ہو گیا۔

اسی طرح باز اور کبوتر کو بھی زندہ کیا اور وہ سب زندہ ہو کر امامؑ کے سامنے آ گئے۔

 

📖 حوالہ: الخرائج والجرائح، ابن ہبۃ الله راوندی، ج ۱، ص ۲۹۷

 

۔

 

💠 کرامات امام صادق علیه السلام 

 

 اهل سنت عالم کا اعتراف 

 

🔹 اہل سنت عالم لکھتے ہیں کہ :

 

✍ جعفر الصادق أحد أئمة ساداتنا آل البيت الكبار ، كان رضي الله عنه إذا احتاج إلى شيء قال يا رباه أنا محتاج إلى كذا ، فما يستتم دعاءه إلا و ذلك الشيء بجنبه موضوعا ، قاله الشعراني .

 

🔸 جعفر صادق (علیه السلام) اهل بیت کے ائمه سادات میں سے ایک ہے . جب بھی ان کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ کہتے کہ اے اللہ مجھے فلاں چیز کی ضرورت ہے 

ابھی امام جعفر صادق کی دعا ختم نہیں ہوتی تھی کہ وہ مطلوبہ چیز ان کے پاس موجود ہوجاتی 

 

📚 جامع کرامات الاولیاء، تألیف نبهانی، جلد ۲، صفحه ۴، چاپ دار الکتب العلمیة

 

۔

 

معجزہ امام جعفر صادق علیہ السلام

 

روایت ہے کہ داوُد بن علی بن عبداللہ بن عباس نے معلی بن خنیس کو قتل کیا اور اس کا مال بھی چھین لیا۔

 

امام جعفر صادق علیہ السلام اس پر نہایت غصہ کی حالت میں داوُد کے پاس گئے اور فرمایا:

 

📜 "تو نے میرے غلام کو قتل کیا اور اس کا مال لے لیا؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ انسان صدمے اور غم پر صبر کر لیتا ہے لیکن جنگ اور دشمنی پر صبر نہیں کر سکتا؟ خبردار! خدا کی قسم میں تجھ پر خدا کے سامنے بددعا کروں گا۔"

 

داوُد نے استہزاء کے طور پر کہا:

 

"کیا تُو ہمیں اپنی دعا سے ڈراتا ہے؟"

 

امام علیہ السلام واپس اپنے گھر تشریف لائے۔ ساری رات قیام و دعا میں مشغول رہے۔ یہاں تک کہ سحر کے وقت ان کی مناجات کی آواز سنی گئی، آپؑ فرما رہے تھے:

 

📜"اے زبردست قوت والے! اے شدید انتقام لینے والے! اے وہ عزت والے کہ تیری مخلوق سب اس کے سامنے ذلیل ہے، اس طاغیہ سے میرا انتقام لے اور مجھے اس سے کفایت فرما۔"

 

کچھ ہی لمحے گزرے تھے کہ چیخ و پکار کی آواز بلند ہوئی۔ لوگوں نے کہا:

 

"ابھی ابھی داوُد بن علی مر گیا ہے!"

 

📚 ماخذ: الارشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 185

 

🔴 ظالم حکمران داود بن علی 

 

داود بن علی، سفاح کا چچا، دسویں ربیع الاول سن ۱۳۳ ہجری میں امام صادق علیہ السلام کی دعا سے ہلاک ہوا، کیونکہ اس نے معلی بن خنیس، جو امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے، کو شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

📚 زاد المعاد، ص ۳۴۴

📚 قلائد النحور، ج ربیع الاول، ص ۶۷

 

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5