🔴 مدرسہِ جعفریہ کا قیام 🔴
ائمہ علیم السلام کی یوں تو پوری تاریخ تبلیغ دین سے بھری پڑی ہے لیکن ہم تاریخی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ علوم اہل بیت علیهم السلام کو پھیلانے اور پروان چڑھانے کا جتنا موقع امام محمد باقر ع اور ان کے فرزند امام جعفر صادق ع کو ملا کسی کو نہیں ملا یہاں تک کہ امام جعفر صادق ع سے مروی احادیث کی تعداد تو اس قدر ہے کہ اسے بجاۓ فقہ شیعہ کے فقہ جعفریہ ہی کہا جاتا ہے۔
اسلامی گروہوں کی باہمی آویزش اور حکومت وقت کا بعض فرقوں کا ساتھ دینا اور بعض کی مخالفت کرنا عالم اسلامی میں خاصی بے چینی پیدا کر چکا تھا لوگ ذرا ذرا سی بات پر فرقے بنا بیٹھتے تھے۔ تلاش حق کی بجاۓ فرقہ سازی کا جنون ہر طرف زور پکڑ گیا تھا جو بالاخر اسلام کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا
اور اگر امام جعفر صادق علیہ السلام علوم اہل بیت کو نشر نہ کرتے تو حالت اور بھی دگرگوں ہوتے۔ آپ نے فورا مسند ارشاد سنبھالی اور طالبان حق کو درس دینے میں مشغول ہو گئے اس کے بعد آپ کے یہ شاگرد مختلف بلاد اسلامیہ میں پھیلے اور انہوں نے تبلیغ حق کا فریضہ انجام دیا۔ چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مدرسہ جعفریہ کا قیام اس دور ابتلاء میں روشنی کا جگمگا تا ہوا چراغ تھا۔ علماۓ کرام نے اس مدرسہ کے متعلق لکھا :
یہ بات تواتر تک پہنچی ہے کہ امام صادق ع سے روایت کرنے والوں کی تعداد 4000 تھی ۔
📗 امام جعفر صادق ع اور انکا عہد - ڈاکٹر محسن نقوی حفظہ اللہ - صفحہ 73
🔴 شاگردانِ امام جعفر ع در علوم مختلف 🔴
شیخ مفید لکھتے ہیں
📜 بهقدری علوم از آن حضرت نقل شده که زبانزد مردم گشته و آوازه آن همهجا پخش شده است و از هیچیک از افراد خاندان او، بهاندازه او علم و دانش نقل نشده است
📃 اہل علم نے امام جعفر ع سے مختلف علوم نقل کیے ہیں اور یہ علوم عالم میں مشہور ہوگئے اور انہیں لوگوں نے ان علوم کو مختلف ملکوں میں پھیلایا ۔ علما نے کسی سے بھی اتنی روایات نقل نہیں کیں جتنی امام جعفر ع سے نقل کی ہیں ۔علمائے حدیث نے ان سے حدیث روایت کرنے والوں کے نام ضبط کیے ہیں ۔ یہ سب ثقہ ہیں ( جو کہ ثابت نہیں ) ۔ ان کی تعداد چار ہزار ہے ۔ علمائے علم رجال نے ان کے متعلق مختلف آرا کا اظہار کیا ہے ۔
📚 الإرشاد ، ص ۲۷۰
حافظ ابن شہر آشوب لکھتے ہیں
📜 نقل عن الصادق من العلوم ما لم ینقل عن احد وقد جمع جمع اصحاب الحدیث اسماء الرواۃ من الثقات علی اختلافھم فی الاراء والمقالات و کانو اربعة الاف رجل
📃 امام الصادق ع سے ایسے علوم نقل ہوئے جو کسی دوسرے سے نقل نہیں ہوئے ، اصحاب الحدیث نے ان ثقہ راویوں کے نام جمع کیے ہیں جو مختلف نظریات سے متعلق تھے ان ان کی تعداد چار ہزار ہے ۔
📚 المناقب ۴/۲۴۷
آیت اللہ ابو القاسم الخوئی لکھتے ہیں
📜 جابر بن حيان... كان عالما بالفنون الغريبة... وقد كتب في أحواله وذكر مؤلفاته كتب عديدة... أنه من تلامذة الصادق عليه السلام... وقالوا إنه أول من وضع أساس الشيمي الجديد وكتبه في مكاتبهم كثيرة
📃 جابر بن حیان ایسا آدمی ہے کہ جو مختلف علوم کو جانتے تھے اور علوم غریبہ سے واقف تھے ،ان کے بارے میں بہت سےکتابیں لکھے گئ ہیں ۔
📚 معجم رجال الحديث ۴/۳۲۸
اہلسنت ابن خلکان لکھتے ہیں
📜 جابر بن حيان أبو موسى الطرسوسي قال القاضي شمس الدين أحمد بن خلكان ألف كتابا يشتمل على ألف ورقة يتضمن رسائل جعفر الصادق وهي خمسمائة رسالة في الكيمياء
📃 جابر نے ایک کتاب تالیف کی ہے کہ جو ہزار صفحات پر مشتل ہے اس میں امام صادق علیہ السلام کی احادیث موجود ہیں ۔اس میں علم کیمیا کےبارے میں 500 احادیث موجود ہیں
📚 الوافي بالوفيات ۱۱/۲۷
شیخ ابو عمر الکشی لکھتے ہیں
📜 اجمعت العصابة على تصديق هؤلاء الاولين صحابی ابی جعفر ع، واصحاب ابي عبد الله ع وانقادوا لهم بالفقه، فقالوا افقه الاولین ستة: زرارة، ومعروف بن خربوذ، وبريد، وابوبصير الاسدى، والفضيل بن يسار، ومحمد بن مسلم الطائفي. قالوا: وافقه الستة: زرارة.
📃 گروہ امامیہ امام باقر و جعفر (ع) کے ان اصحاب کی تصدیق پر اجماع و اعتماد رکھتا ہے اور ان کی فقاہت کا اعتراف کرتا ہے وہ یہ ہیں ، زرارہ ، معروف بن خربوذ ، برید ، ابوبصیر اسدی ، فضیل بن یسار ، محمد بن مسلم طائفی اور بعض نے ابوبصیر اسدی کے بجائے ابو بصیر مرادی کہا ۔
📚 رجال کشی ۔
#بدر_علی #التماس_دعا #talimaat_e_ahlbait
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ