Back to امام جعفر الصادق ع

امام جعفر صادق [ صلوۃ اللہ و سلامہ علیہ ] کے آخری کلمات

*امام جعفر صادق [ صلوۃ اللہ و سلامہ علیہ ] کے آخری کلمات* : 

 

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ مَاجِيلَوَيْهِ عَنْ عَمِّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ اَلْقُرَشِيِّ عَنِ اِبْنِ فَضَّالٍ عَنِ اَلْمِيثَمِيِّ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَمِيدَةَ أُعَزِّيهَا بِأَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَبَكَتْ وَ بَكَيْتُ لِبُكَائِهَا ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَوْ رَأَيْتَ أَبَا عَبْدِ اَللَّهِ عِنْدَ اَلْمَوْتِ لَرَأَيْتَ عَجَباً فَتَحَ عَيْنَهُ ثُمَّ قَالَ اِجْمَعُوا لِي كُلَّ مَنْ بَيْنِي وَ بَيْنَهُ قَرَابَةٌ قَالَتْ فَلَمْ نَتْرُكْ أَحَداً إِلاَّ جَمَعْنَاهُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ شَفَاعَتَنَا لاَ تَنَالُ مُسْتَخِفّاً بِالصَّلاَةِ . 

 

ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں ام حمیدہ [ زوجہ امامِ ششم ] کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آقا کی شہادت پر تعزیت کروں 

ام حمیدہ روئیں اور ان کے رونے کی وجہ سے میں بھی رویا ام حمیدہ [ علیھا الرحمہ ] نے فرمایا :

اے ابو محمد اگر [ اپنے امام ] ابو عبداللہ کو وفات کے وقت دیکھتے تو ایک عجیب امر کو درک کرتے کہ [ آخری لمحات ] میں امام نے اپنی آنکھیں کھولیں اور فرمایا : جس کسی سے میری قرابت داری ہے اس کو بلاؤ ، چنانچہ ہم نے سب اقرباء کو جمع کیا

امام نے ان [ اپنے قرابت داروں ] کی طرف دیکھا اور فرمایا :

ہماری شفاعت اس کو نصیب نہیں ہوگی جو نماز کو ہلکا سمجھتا ہے۔

 

 الأمالی (للصدوق) ج ۱، ص ۴۸۴

ثواب الأعمال و عقاب الأعمال ج ۱، ص ۲۲۸

 المحاسن ج ۱، ص ۸۰

 

۔

 

🔷 آخری وصیت:

ابو بصیر (جن کا شمار امام کے عظیم صحابیوں میں ہوتا ہے) کا بیان ہے امام کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ ''ام حمیدہ'' کو تعزیت پیش کرنے امام کے گھر گیا .امام کے سوگ میں ہم دونوں شدت سے روئے. اس وقت انھوں نے مجھ سے فرمایا:

اے ابو بصیر !اگر امام کی شہادت کے وقت ہوتے تو تعجب کرتے کیونکہ امام نے اپنی آنکھوں کو کھولا اور فرمایا:

میرے اعزاء و اقارب کو میرے پاس بلایا جائے. جب سب جمع ہوگئے تو امام نے سب کو ایک نظر دیکھا اور فرمایا:

''ان شفاعتنا لاتنال مستخفا بالصلوٰۃ''

ترجمہ:

ہم ائمہ کی شفاعت اس شخص کے شامل حال نہیں ہوگی جو نماز کو سبک (ہلکا) سمجھے گا۔

 

اقوال امام:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے چند اقوال کی طرف قارئین کی توجہ طلب کرانا چاہتے ہیں اس امید و آرزو کے ساتھ امام علیہ السلام کے یہ کلمات ہمارے دل نشیں ہوجائیں اور ہماری رفتار و کردار ، عادات و اطوار اس سے متاثر ہوں، دلوں کو نور ملے، ایمان میں اضافہ ہو اور ہماری عملی زندگی کے لئے رہنما قرار پائیں۔

 

🔷1= وجدت علم الناس کلھا فی اربع اولھا ان تعرف ربک ۔ و الثانی ان تعرف ما صنع بک والثالث ان تعرف ما اراد منک۔ و الرابع ان تعرف ما یخرجک من دینک۔

(ارشاد مفید ص/265)

ترجمہ:

میں نے تمام مفید علم و دانش کو چار چیزوں میں پایا:

 1= اپنے پروردگا ر کی معرفت حاصل کرو.

 2= یہ جانو کہ خدا نے تمھارے ساتھ کیا کیا ہے اور کیا کیا نعمتیں دی ہیں۔

3= یہ پہچانو کہ خدا کا تم سے مطالبہ کیا ہے، تمھاری ذمہ داری کیا ہے.

4= یہ معلوم کرو کونسی چیز تمھیں تمھارے دین سے خارج کردے گی۔

 

🔷2= اربعۃ من اخلاق الانبیاء البر و السخاء و الصبر علی النائبۃ و القیام بحق المومن۔

(تحف العقول ص/375)

چار خصلتیں انبیاء کے اخلاق کی ہیں.

1= نیکی کرنا.

2= سخاوت.

3= مصیبت پر صبر کرنا.

4= مومن کے حقوق کی رعایت کرنا۔

 

🔷3= ثلاثۃ لا تعرف الا فی ثلاث مواطن! لا یعرف الحلیم الا عند الغضب ولا الشجاع الا عند الحرب و لا اخ عند الحاجۃ۔

(تحف العقول ص/316)

تین آدمی تین جگہوں پر پہنچانے جاتے ہیں۔

حلیم اور برد بار غصہ کے وقت،

دلیر و شجاع جنگ کے وقت،

اور دوست و بھائی ضرورت کے وقت۔

 

التماس دعا: