کعبہ و کربلا

📜 "محمد بن جعفر، عن محمد بن الحسين، عن محمد بن سنان، عن أبي سعيد القماط، عن عمر بن يزيد بياع السابري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن أرض الكعبة قالت: من مثلي وقد بني بيت الله على ظهري يأتيني الناس من كل فج عميق وجعلت حرم الله وأمنه.

فأوحى الله إليها أن كفي وقري ما فضل ما فضلت به فيما أعطيت أرض كربلا إلا بمنزلة الأبرة غرست في البحر فحملت من ماء البحر، ولولا تربة كربلاء ما فضلتك، ولولا من تضمنه أرض كربلاء ما خلقتك ولا خلقت البيت الذي به افتخرت فقري واستقري وكوني ذنبا " متواضعا " ذليلا " مهينا " غير مستنكف ولا مستكبر لأرض كربلا۔۔۔۔۔"

 

📃 یہ روایت *کامل الزیارات* میں اس طرح بیان کی گئی ہے:

 

محمد بن جعفر نے محمد بن حسین سے، انہوں نے محمد بن سنان سے، انہوں نے ابی سعید القماط سے، اور انہوں نے عمر بن یزید بیاع السابری سے روایت کی، کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "کعبہ کی زمین نے کہا: مجھ سے بہتر کون ہے، کیونکہ اللہ کا گھر میری پیٹھ پر بنایا گیا ہے۔ لوگ میرے پاس ہر دور دراز جگہ سے آتے ہیں، اور مجھے اللہ کا حرم اور امن کی جگہ بنایا گیا ہے۔

 

تو اللہ نے اس زمین کی طرف وحی کی کہ: بس کرو اور سکون اختیار کرو، جو فضیلت تمہیں دی گئی ہے وہ زمینِ کربلا کی فضیلت کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے، جیسے سوئی سمندر میں ڈالی جائے اور وہ سمندر کے پانی میں سے کچھ لے آئے۔ اگر کربلا کی خاک نہ ہوتی تو تمہیں کوئی فضیلت نہ ملتی، اور اگر کربلا کی زمین میں موجود وہ شخصیت نہ ہوتی جسے میں نے وہاں دفن کیا، تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا اور نہ ہی اس گھر (کعبہ) کو جو تمہاری وجہ سے قابل فخر بنا۔ پس سکون اختیار کرو، عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرو، اور زمینِ کربلا کے سامنے سرنگوں ہو۔۔۔۔۔ "

 

📚 کامل الزیارات، ص267

📚 بحار الأنوار العلامة المجلسي، ج 98، ص 107

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تعلیمات_اہلبیتؑ

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1