اصول فقہ - امام جعفر الصادق ع
بقلم 🖋 علی بن ابراھیم قمی
بغیر علم و دلیل کے فتوی دینی کی ممانعت
[-/4] الكافي: علي، عن ابيه، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم قال: قلت لابي عبدالله عليه السلام: ما حق الله على خلقه؟ فقال: أن يقولوا ما يعلمون، ويكفوا عما لا يعلمون، فإذا فعلوا ذلك فقد أدوا إلى الله حقه
ہشام بن سالم سے روایت ہے میں نے امام جعفر ع سے پوچھا کہ خدا کا اپنی مخلوق پر کیا حق ہے ، آپ نے فرمایا اس کا حق ہے کہ بندہ وہ بات کرے جس کا اسے علم ہو اور جس چیز کا علم نہ ہو اس بارے میں خاموش رہے ، پس جب وہ ایسا کرے تو اس نے اللہ کا حق ادا کر دیا
[-/2] الكافي: علي، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن عبدالرحمن بن الحجاج قال: كان أبوعبدالله عليه السلام قاعدا في حلقة ربيعة الرأي، فجاء أعرابي فسأل ربيعة الرأي عن مسألة فأجابه فلما سكت قال له الاعرابي: أهو في عنقك؟ فسكت عنه ربيعة ولم يرد عليه شيئا فأعاد عليه المسألة فأجابه بمثل ذلك، فقال له الاعرابي: أهو في عنقك؟ فسكت ربيعة فقال له أبوعبدالله عليه السلام: هو في عنقه، قال أو لم يقل، وكل مفت ضامن
امام جعفر ربیعۃ الرائے کے حلقے میں بیٹھے تھے کہ ایک اعرابی نے اس سے ایک مسئلہ پوچھا تو اس نے جواب دے دیا ، پھر اعرابی نے پوچھا کیا آپ اس فتوے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو اس نے گردن جھگا لی ، امام جعفر ع نے فرمایا یہ جواب دے یا نہ دے اس کی ذمہ داری اسی کی گر---دن پر ہوگی بلکہ ہر فتوی دینے والا ضامن ہوتا ہے ۔
ہر شے کا حکم قرآن و سنت میں موجود ہے
[-/1] الكافي: علي، عن محمد بن عيسى، عن يونس، عن حماد، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: سمعته يقول: ما من شئ إلا وفيه كتاب أو سنة
امام جعفر صادق ع نے فرمایا کوئی شے ایسی نہیں جس کا حکم قرآن و سنت میں موجود نہ ہو ۔
روز قیامت تک حلال و حر--ام کا دوام
[-/1] الكافي: علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى بن عبيد، عن يونس، عن حريز عن زرارة قال: سألت أبا عبدالله عليه السلام عن الحلال والحر--ام فقال: حلال محمد حلال أبدا إلى يوم القيامة، وحر--امه حرام أبدا إلى يوم القيامة۔
امام جعفر ع نے فرمایا محمد ص کا حلال کردہ قیامت تک حلال رہے گا اور محمد ص کا حر--ام کردہ قیامت تک حر--ام رہے گا ۔
حجیت فقط قرآن و سنت کی ہے
[-/4] الكافي: علي، عن محمد بن عيسى، عن يونس، عن قتيبة قال: سأل رجل أبا عبدالله عليه السلام عن مسألة فأجابه فيها، فقال الرجل: أرأيت إن كان كذا وكذا ما يكون القول فيها؟ فقال له: مه ما أجبتك فيه من شئ فهو عن رسول الله صلى الله عليه وآله لسنا من: ” أرأيت” في شئ
ایک شخص نے امام جعفر ع سے ایک مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دے دیا پھر اس نے کہا اگر یہ ایسے ہوتا تو پھر کیا جواب ہوتا ، فرمایا خاموش ہوجاؤ ، میں نے جو جواب دیا ہے وہ رسول ص کا فرمایا ہوا ہے ۔ ہم ہرگز اپنی طرف سے کوئی رائے نہیں دیتے ۔
[-/6] الكافي: عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد بن خالد، عن أبيه، عن النضر بن سويد، عن يحيى الحلبي، عن أيوب بن الحر قال: سمعت أبا عبدالله عليه السلام يقول: كل شئ مردود إلى الكتاب والسنة، وكل حديث لا يوافق كتاب الله فهو زخرف
امام جعفر ع نے فرمایا ہر حدیث کتاب و سنت کی طرف پلٹائی جائے گی اور ہر وہ شے جو کتاب و سنت کے مطابق نہ ہو وہ باطل ہے ۔
[-/7] رجال الكشي: محمد بن قولويه، والحسين بن الحسن بن بندار معا، عن سعد، عن اليقطيني، عن يونس بن عبد الرحمن … قال: حدثني هشام بن الحكم أنه سمع أبا عبد الله عليه السلام يقول: لا تقبلوا علينا حديثا إلا ما وافق القرآن والسنة
امام جعفر ع نے فرمایا ہماری طرف منسوب کوئی حدیث قبول نہ کرو جب تک وہ قرآن و سنت کے مطابق نہ ہو ۔
قاعدہ احتیاط
[-/3] التهذيب: باسناده عن محمد بن احمد بن يحيى عن هارون بن مسلم عن مسعدة بن زياد عن جعفر عن آبائه عليهم السلام ان النبي صلى الله عليه وآله قال: لا تجامعوا في النكاح على الشبهة يقول: إذا بلغك انك قد رضعت من لبنها وانها لك محرم وما اشبه ذلك فان الوقوف عند الشبهة خير من الاقتحام في الهلكة
امام جعفر ع سے روایت ہے رسول ص نے فرمایا کہ شبہ کی بنا پر نکاح نہ کرو کیوں کہ شبہات کے وقت ٹھہر جانا ہلا---کت میں گھنسے سے بہتر ہے ۔
(یعنی اگر تمہیں یہ خبر پہنچی ہو کہ وہ تمہاری رضائی بہن ہے تو نکاح سے احتیاط کرو )
ثقہ کی خبر کی حجیت
[-/2] رجال الكشي: محمد بن قولويه عن سعد بن عبد الله، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن عبد الله بن محمد الحجال، عن يونس بن يعقوب قال: كنا عند أبي عبد الله عليه السلام فقال أما لكم من مفزع أما لكم من مستراح تستريحون إليه ما يمنعكم من الحارث بن المغيرة النصري
امام جعفر ع نے فرمایا کیا تمہارے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ؟ تمہارے لئے کوئی راحت کی جگہ نہیں ہے جہاں تم راحت حاصل کرو ؟ تمہیں حارث بن مغیرہ سے ( علم حاصل کرنے سے ) کیا چیز روکتی ہے ؟
[-/6] رجال الكشي: حمدويه بن نصير، عن يعقوب بن يزيد و محمد بن الحسين بن أبي الخطاب، عن محمد بن أبي عمير، عن إبراهيم بن عبد الحميد و غيره قالوا: قال أبو عبد الله عليه السلام رحم الله زرارة بن أعين لو لا زرارة و نظراؤه لاندرست أحاديث أبي عليه السلام
امام جعفر ع نے فرمایا اللہ زرارہ ہر رحم کرے اگر یہ اور اس جیسے اصحاب نہ ہوتے تو میرے والد کی احادیث مٹ جاتیں۔
[-/9] رجال الكشي: حمدويه، عن ابن يزيد، عن ابن أبي عمير، عن شعيب العقرقوفي قال: قلت لأبي عبد الله عليه السلام: ربما احتجنا أن نسأل عن الشئ فمن نسأل؟ قال: عليك بالأسدي – يعني أبا بصير
راوی نے امام جعفر ع سے پوچھا اگر ہمیں کسی چیز کے متعلق پوچھنے کی ضرورت محسوس ہو تو کس سے پوچھیں ؟ آپ نے فرمایا تم اسدی یعنی ابو بصیر سے پوچھو ۔
قاعدہ من بلغ
[1/91] الكافي: علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: من سمع شيئا من الثواب على شئ فصنعه كان له وإن لم يكن على ما بلغه
امام جعفر ع نے فرمایا جو شخص کسی کام کے کرنے پر ثواب سنے اور پھر وہ کام کرے تو اسے ثواب مل جائے گا چاہے رسول ص نے وہ بات فرمائی ہو یا نہیں ۔
[-/2] محاسن البرقي: و عنه عن علي بن الحكم عن هشام بن سالم عن أبي عبد الله عليه السلام قال من بلغه عن النبي صلى الله عليه وآله شيء من الثواب فعمله كان أجر ذلك له و إن كان رسول الله صلى الله عليه وآله لم يقله
امام جعفر صادق ع نے فرمایا جس شخص کو رسول ص کی طرف سے بھلائی کی کوئی بات پہنچی تو وہ اسے بجا لائے تو اسے ثواب ملے گا اگر چہ آپ ص نے وہ بات نہ فرمائی ہو ۔
قرآن کے مخالف احادیث کا حکم
[-/1] الكافي: عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد بن خالد، عن أبيه، عن النضر بن سويد، عن يحيى الحلبي، عن أيوب بن الحر قال: سمعت أبا عبدالله عليه السلام يقول: كل شئ مردود إلى الكتاب والسنة، وكل حديث لا يوافق كتاب الله فهو زخرف
امام جعفر صادق ع نے فرمایا ہر حدیث کتاب و سنت کی طرف پلٹائی جائے گی اور کر وہ شے جو کتاب الٰہی کے مطابق نہ ہو وہ بالکل با--طل ہے ۔
متضاد روایات کا حکم
[-/2] الرسالة المؤلفة في احوال احاديث اصحابنا واثبات صحتها لسعد بن هبة الله الراوندي: الصدوق، عن أبيه، عن سعد بن عبدالله، عن أيوب بن نوح، عن محمد ابن أبي عمير، عن عبد الرحمن بن أبي عبدالله قال: قال الصادق عليه السلام: إذا ورد عليكم حديثان مختلفان فاعرضوهما على كتاب الله، فما وافق كتاب الله فخذوه، وما خالف كتاب الله فردوه، فان لم تجدوهما في كتاب الله فاعرضوهما على أخبار العامة، فما وافق أخبارهم فذروه، وما خالف أخبارهم فخذوه
امام جعفر ع نے فرمایا جب دو مختلف احادیث تمہارے سامنے ہوں تو انہیں اللہ کی کتاب پر پیش کرو ، جو کتاب کے مطابق ہو اسے لے لو اور جو کتاب کے مخالف ہو اسے چھوڑ دو ۔ اگر تم انہیں کتاب میں نہ پاؤ تو انہیں عامہ کی کتب پر پیش کرو ، جو حدیث ان کے مطابق ہو اسے چھوڑ دو اور جو ان کے مخالف ہو اسے لے لو
بطلانِ قیاس
[-/3] معاني الاخبار والامالي: حدثنا محمد بن علي ماجليويه عن عمه محمد بن أبي القاسم، عن أخيه، عن أحمد بن محمد بن خالد، عن أبيه، عن محمد بن يحيى، عن غياث بن إبراهيم، عن الصادق جعفر بن محمد، عن أبيه، عن آبائه عليهم السلام قال: قال أمير المؤمنين عليه السلام: … إن المؤمن أخذ دينه من ربه ولم يأخذه عن رأيه
امام جعفر صادق ع نے فرمایا مومن اپنا دین اپنے رب سے لیتا ہے اپنی رائے سے نہیں لیتا۔
قاعدہ استصحاب
[2/95] الاستبصار: عن المفيد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن سعد بن عبدالله عن أحمد بن محمد عن الحسن بن محبوب عن عبدالله بن سنان قال: سأل أبي أبا عبدالله عليه السلام وأنا حاضر إني أعير الذمي ثوبي وانا اعلم انه يشرب الخ---مر ويأكل لحم ال----خنز-----ير فيرده علي فاغسله قبل ان أصلي فيه؟ فقال أبوعبدالله عليه السلام: صل فيه ولا تغسله من أجل ذلك فانك اعرته اياه وهو طاهر ولم تستيقن انه نج----سه فلا بأس أن تصلي فيه حتى تستيقن انه نجسه
امام جعفر ع سے سنان نے سوال کیا کہ کیا ایک ذمی غیر --- مسلم کو اپنا کرتا دے کر جو کہ شرا---ب پیتا ہو اس میں نماز پڑھ سکتا ہوں بغیر اسے دھوئے ؟ آپ نے فرمایا تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو کیوں کہ جب تم نے اسے دیا تو یہ پاک تھا اب اس کے نا----پاک ہونے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس وجہ سے اسے دھونے کی ضرورت نہیں ۔
[5/98] الكافي: عدة من أصحابنا عن أحمد بن محمد، عن العباس بن عامر، عن عبدالله بن بكير، عن أبيه، قال: قال لي أبوعبدالله عليه السلام: إذا استيقنت أنك قد أحد---ثت فتوضأ وإياك أن تحد----ث وضوء ا أبدا حتى تستيقن أنك قد أحد---ثت
امام جعفر صادق ع نے جب تمہیں حد---ث کے صادر ہونے کا کا یقین ہو تب وضو اگر یقین نہ ہو (صرف شک ہو) تو وضو نہ کرو ۔
قرآن کے حکم کو تزاحم کی صورت میں سنت کے حکم پر مقدم رکھنا
[-/1] الكافي: علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن معاوية بن عمار، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: قلت له: رجل نسي أن يرمي الجمار حتى أتي مكة قال: يرجع فيرميها … قلت: فاته ذلك وخرج؟ قال: ليس عليه شئ، قال: قلت: فرجل نسي السعي بين الصفا والمروة؟ فقال: يعيد السعي، قلت: فاته ذلك حتى خرج؟ قال، يرجع فيعيد السعي إن هذا ليس كرمي الجمار إن الرمي سنة والسعي بين الصفا والمروة فريضة
راوی کہتا ہے میں نے امام جعفر ع سے پوچھا ایک شخص رمی جمرات کرنا بھول گیا کے مکہ مکرمہ پہنچا فرمایا وہ واپس جائے اور رمی کرے ۔میں نے کہا ہاں اگر رمی کا وقت گزر چکا ہو تو پھر ؟ آپ نے فرمایا اس پر کچھ نہیں ہے۔ فرمایا وہ سعی کا ارادہ کرے ، میں نے کہا ہاں اگر سعی کا وقت گزر چکا ہو اور وہ شخص وہاں سے چلا گیا ہو ؟ فرمایا وہ واپس جائے اور سعی کو بجالائے آئے کیونکہ سعی کرنا رمی جمرات کی مانند نہیں ہے ، رمی کرنا سنت ہے اور وسعی کرنا واجب ہے۔