Back to امام جعفر الصادق ع

امام ابی عبداللہ جعفر الصادق ع کی امامت پر نصوص

امام ابی عبداللہ جعفر الصادق ع کی امامت پر نصوص
امام ابی عبداللہ جعفر الصادق ع کی امامت پر نصوص
امام ابی عبداللہ جعفر الصادق ع کی امامت پر نصوص
امام ابی عبداللہ جعفر الصادق ع کی امامت پر نصوص
امام ابی عبداللہ جعفر الصادق ع کی امامت پر نصوص

امام ابی عبداللہ جعفر الصادق ع کی امامت پر نصوص 

 

🖋 علی بن ابراھیم قمی (وقاص بھائی)

 

٥٦٤ / الكليني : محمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد ، عن ابن محبوب ، عن هشام بن سالم ، عن جابر بن يزيد الجعفي ، عـن أبـي جعفر عليه السلام قال : سئل عن القائم عليه السلام فضرب بيده على أبي عبد الله عليه السلام فقال : هذا والله قائم آل محمد صلى الله عليه وآله . قال عنبسة : فلما قبض أبو جعفر عليه السلام دخلت على أبي الله عليه السلام فأخبرته بذلك ، فقال صدق جابر ، ثم قال : لعلكم ترون أن ليس كل إمام هو القائم بعد الإمام الذي كان قبله 

 

راوی کہتا ہے میں امام محمد باقر (ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ کسی نے حضرت سے قائم آل محمد کے متعلق سوال کیا حضرت امام جعفر صادق (ع) کے اوپر ہاتھ رکھ کر فرمایا واللہ یہ قائم آل محمد ہے عنبسہ سے مروی ہے کہ امام محمدباقر (ع) کے انتقال کے بعد میں نے امام جعفر صادق (ع) سے اس کا ذکر کیا ۔ فرمایا جابر نے یہ سچ بیان کیا کہ تمہارا گمان یہ ہے کہ ہر امام اپنے سے پہلے امام کے بعد قائم نہیں ہوتا ۔

 

صحیح - مراۃ العقول ۳/۳۲۸

 

وسندہ من اصح الاسانید ۴۶۷

 

566 / الكليني : الحسين بن محمد ، عن معلى بـن مـحمد ، عن الوشاء ، عن أبان بن عثمان ، عن أبي الصباح الكناني قال : نطر أبو جعفر عليه السلام إلى أبي عبد الله عليه السلام يمشي فقال : ترى هذا ؟ هذا من الذين قال الله عز وجل : ونريد أن نمن على الذين استضعفوا في الارض ونجعلهم أئمة ونجعلهم الوارثين ۔

 

امام باقر ع نے امام جعفر ع کی طرف نظر کی اور فرمایا یہ انہی لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ نے یہ آیت نازل کی , " اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں " ۔

 

وسندہ حسن کالصحیح ، النصوص علی اھل الخصوص ۴۶۷

 

۵۶۹ / الكليني : محمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد ، عن ابن أبي عمير ، عن هشام بن سالم ، عن أبي عبد الله عليه السلام قـال : لما حضرت أبي عليه السلام الوفاة قال : يا جعفر اوصيك بأصحابي خيراً ، قلت : جعلت فداك والله لأدعنهم – والرجل منهم يكون في المصر فلا يسأل أحدا ۔

 

 حضرت امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا کہ جب میرے پدر بزرگوار کی وفات کا وقت قریب آیا تو مجھ سے فرمایا اے جعفر میں تجھ سے اپنے اصحاب کے بارے میں وصیت کرتا ہوں س میں نے کہا میں آپ پر فدا ہوں میں ان کو تعلیم دوں گا اور ان کو اتنا قابل بناؤں گا کہ انہیں کسی دوسرے شہر میں رہتے ہوئے کسی دوسرے کے پاس علم کے لئے جانے کی ضرورت نہیں پڑے گا۔ 

 

صحیح , مراۃ العقول ۳/۳۲۶

 

صحیح ، صحیح الکافی ۱/۳۵

 

وسندہ من اصح الاسانید , النصوص علی اھل الخصوص ۴۶۸

 

٥٧٠ / الكليني : علي بن إبراهيم ، عن محمد بن عيسى ، عن يونس بن عبد الرحمن ، عن عبد الاعلى ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : إن أبي عليه السلام استودعني ما هناك ، فلما حضرته الوفاة قـال : ادع لي شهودا فدعوت له أربعة من قريش ، فيهم نافع مولى عبد الله بن عمر فقال : اكتب ، هذا ما أوصى به يعقوب بنيه يا بني إن الله اصطفى لكم الدين فلا تموتن إلا وأنتم مسلمون ، وأوصى محمـد بـن عـلي إلى

جعفر بن محمد وأمره أن يكفنه في برده الذي كان يصلي فيه الجمعة ، وأن يعممه بعمامته ، وأن يربع قبره ، ويرفعه أربع أصابع وأن يحل عنه أطماره عند دفنه ، ثم قال للشهود : انصرفوا رحمكم الله ، فقلت له : يا أبت - بعد ما انصرفوا - ما كان في هذا بأن تشهد عليه ، فقال : يا بني كرهت أن تغلب وأن يقال : إنه لم يـوص إليـه ، فأردت أن تكـون لك الحجة 

 

فرمایا امام جعفر صادق (ع) نے کہ میرے والد نے امر امامت کے لئے جو اُمور تھے میرے سپرد کئے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو مجھ سے فرمایا گواہوں کو بلاؤ میں نے قریش کے چار شخص بلائے عبداللہ بن عمر کا خادم نافع بھی تھا پھر فرمایا لکھو یہ وہ وصیت ہے جو یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کی تھی فرمایا اے بیٹو خدا نے تمہارے لئے دین کا اصطفا کیاہے پس تم مسلمان ہوکر مر--نا وصیت کرتا ہے ۔ مجھے کف----ن دیں اس چادر کا جس میں نماز جمعہ پڑھا کرتا تھا اور میراعمامہ باندھیں اور چوکور ق-----بر بنائیں اور چار انگلی سے زیادہ بلند کریں اور وقت بند اپنے لباس کے بندکھول دیں پھر گواہوں سے فرمایا اب تم جاؤ خدا تم پر رحم کرے ۔ ان کے جانے کے بعد میں نے کہا یہ گواہی آپ نے کیوں کروائی فرمایا ، مجھے یہ برا معلوم ہوا کہ لوگ کہیں کہ کسی کے لئے وصیت نہیں کی اور تم مغلوب ہو میں نے چاہا کہ یہ تمہاری لئے حجت ہو ۔ 

 

وسندہ صحیح رجاله ثقات اجلاء ، النصوص علی اھل الخصوص ۴۶۹

 

٥٧٤ / الكليني : علي بن إبراهيم ، عن أبيه . وأبو علي الاشعري ، عن محمد بن عبد الجبار جميعا ، عن صفوان ، عن عمرو بن حريث قال : دخلت على أبي عبد الله عليه السلام وهو في منزل أخيه عبد الله بـن محمد فقلت له : جعلت فداك ما حولك إلى هذا المنزل ؟ قـال طـلب النزهة فقلت : جعلت فداك ألا أقص عليك ديني ؟ فقال : بلى ، قلت :أدين الله بشهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، وأن محمداً عبده ورسوله ، وأن الساعة آتية لا ريب فيها ، وأن الله يبعث من في القبور ، وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم شهر رمضان وحج البيت ، والولايـة لعلى أمير المؤمنين بعد رسول الله صلى الله عليه وآله ، والولاية للحسن والحسين ، والولاية لعلي بن الحسين ، والولايـة لمـحمـد بـن علي ، ولك من بعده صلوات الله عليهم أجمعين ، وأنكم أئمتي عـليه أحيا وعليه أموت وأدين الله به فقال : يا عمرو هذا والله دين الله ودين

آبائي الذي أدين الله به في السر والعلانية ، فاتق الله وكف لسانك إلا من خير ولا تقل إني هديت نفسي بل الله هداك فأد شكر ما أنعم الله عز وجل به عليك ، ولا تكن ممن إذا أقبل طعن في عينه وإذا أدبر طعن في قفاه ولا تحمل الناس على كاهلك فإنك أوشك إن حملت الناس على كاهلك أن يصدعوا شعب كاهلك ۔

 

عمرو بن حریث سے مروی ہے کہ میں امام جعفرصادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے بھائی عبداللہ بن محمد کے گھر میں تھے۔ میں نے کہا آپ اس مکان میں کیوں تشریف لے آئے۔ فرمایا جھگڑوں قصوں سے بچنے کے لئے۔ میں نے کہا۔ میں دین کے متعلق اپنے عقائد بیان کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا ضرور، میں نے کہا خدا کادین ہے گواہی دینا اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدص اس کے عبد و رسول ہیں اور قیامت سے شک نہیں اور اللہ مردوں کو قبروں سے نکالے اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا اور رسول اللہ کے بعد ولایت امیرالمومنین کا اقرار اور ان کے بعد حضرت حسن (ع) و حسین (ع) کی ولایت کا اقرار پھر علی بن الحسین اور محمد بن علی کی ولایت کا اقرار اور ان کے بعد آپ سب پر درود ہو اور یہ کہ آپ لوگ میرے امام ہیں اسی پر میری زندگی ہے اسی پر میری مو----ت ہے اور یہی میرا دین ہے فرمایا۔ اے عمرو یہی تو اللہ کا دین ہے اور میرے آباء کا دین ہے ظاہر و باطن دونوں حالتوں میں۔ پس اللہ سے ڈرو اور اپنی زبان امر خیر کے سوا بند رکھو، یہ مت کہو۔ میں نے اپنے نفس کو ہدایت کی۔ بلکہ یہ کہو۔ اللہ نے مجھے ہدایت کی اور خدا کی نعمت کا شکر ادا کرو اور ان لوگوں میں سے نہ بنو جن کے منہ پر بھی لوگ طعنہ دیں اور پیچھے بھی اور لوگوں کی زیادہ ملا---مت کرکے ان کو اپنے شانوں پر سوار نہ کرا گر تو نے ایسا کیا تو لوگ تیرے دونوں شانوں کے درمیان کا حصہ شگا----فتہ کر دیں گے۔

 

صحیح ، مراۃ العقول ۷/۱۱۷

 

وسندہ من اصح الاسانید ، رجاله ثقات اجلاء عیون ، النصوص علی اھل الخصوص ۴۷۲

 

٥٧٥ /جز الحميري : حدثني السندي بن محمد ، عن صفوان قال : قلت لأبي عبد الله عليه السلام : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، ثم قلت له : أشهد أن محمداً رسول الله صلى الله عليه وآله ، كان حجة الله عليه خلقه ، ثم كان أمير المؤمنين صلى الله عليه ، وكان حجة الله على خلقه . فقال عليه السلام : رحمك الله . ثم كان الحسن بن علي صلى الله عليه ، وكان حجة الله على خلقه . فقال عليه السلام : رحمك الله . ثم كان الحسين بن علي صلى الله عليه ، وكان حجة الله على خلقه . فقال عليه السلام : رحمك الله . ثم كان علي بن الحسين صلوات الله عليه ، وكان حجة الله على خلقه ، ثم كان محمد بن علي ، وكان حجة الله عليهخلقه ، وأنت حجة الله على خلقه . فقال : رحمك الله 

 

صفوان کہتے ہیں میں نے امام جعفر ع سے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، پھر میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ص اللہ کے رسول ہیں ، پھر علی ع اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں آپ نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے ، پھر میں نے کہا پھر امام حسن ع اللہ کی مخلوق ہر اس کی حجت ہیں تو آپ نے کہا اللہ تم پر رحم کرے ۔ پھر میں نے کہا ان کے بعد امام حسین ع اللہ کی مخلوق ہر اس کی حجت ہیں آپ نے کہا اللہ تم پر رحم کرے ۔ پھر میں نے کہا ان کے بعد امام زین العابدین ع اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں ، آپ نے کہا اللہ تم پر رحم کرے ۔ پھر مین نے کہا ان کے ساتھ امام باقر ع اللہ کی مخلوق ہر اس کی حجت ہیں ، آپ نے کہا اللہ تم پر رحم کرے ، پھر میں نے کہا ان کے بعد آپ اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں آپ نے کہا اللہ تم پر رحم کرے ۔

 

وسندہ من اصح الاسانید ، النصوص علی اھل الخصوص ۴۷۳

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5