Back to امام جعفر الصادق ع

اخلاق و سیرتِ امام جعفر الصادق ع

اخلاق و سیرتِ امام جعفر الصادق ع
اخلاق و سیرتِ امام جعفر الصادق ع
اخلاق و سیرتِ امام جعفر الصادق ع
اخلاق و سیرتِ امام جعفر الصادق ع

اخلاق و سیرتِ امام جعفر الصادق ع 

 

[۳/۱۳۱۳] فروع الکافی :وعن العدة عن أحمد بن محمد عن ابن محبوب عن يعقوب السراج، قال: کنا نمشي مع أبي عبدالله ﷺ و هو يريد أن يعزي ذا قرابة له بمولود له، فانقطع شسع نعل۔أبي عبداللہ ﷺ فتناول نعله من رجله، ثم مشى حافياً، فنظر إليه ابن أبي يعفور فخلع نعل نفسه من رجله و خلع الشسـع مـنـهـا و ناولها أبـا عـبدالله الا فأعرض عـنـه كـهيئة المغضب، ثم أبى أن يقبله و قال: ألا إن صاحب المصيبة أولى بالصبر عليها، فمشي حافياً حتى دخل على الرجل الذي أتاه ليعزيه.

 

راوی کہتا ہے ایک مرتبہ ہم امام جعفر الصادق ع کے ساتھ ان کے کسی رشتے دار کے گھر تعزیت کے لئے جارہے تھے تو راستے میں امام جعفر الصادق ع کے جوتا کا پٹا اور تسمہ ٹوٹ گیا ، آپ نے جوتا ہاتھ میں اٹھایا اور ننگے پاؤں چلنے لگے تو ابن ابو یعفور نے اپنے جوتے کا پٹا امام کو دیا تو آپ نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور برہم ہوئے اور فرمایا غم کرنے والے کو صبر کرنے کی زیادہ ذمہ داری ہے ۔ پس آپ اسی حالت میں چلتے رہے یہاں تک کہ اس رشتہ دار کے گھر پہنچے ۔

 

الکافی: عنه عن أحمد بن محمد عن ابن أبي عمير عن هشام بن سالم عن أبي عبدالله ﷺ قال: لما حضرت أبي الوفاة قال: يا جعفر أوصيك بأصحابي خـيـرا، قـلـت: جعلت فداك والله لأدعنهم و الرجل منهم يكون في المصر، فلا يسأل أحدا.

 

امام جعفر ع نے فرمایا جب میرے والد امام باقر ع نے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے مجھے وصیت کی کہ میرے اصحاب سے نیک برتاؤ کرنا تو میں نے کہ میری جان آپ پر فدا ہو میں ان کو اس طرح تعلیم دوں کہ ان کو کسی بھی شہر میں رہتے ہوئے کہ علم کے لیے کسی دوسرے کے در پر جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔

 

[۶/۰]الکافی : و عن العدة عن البرقي عن أبيه عن محمد بن يحيى الخزاز عن حماد ابن ، عثمان قال: حضرت أبا عبدالله ال و قال له رجل: أصلحك الله ذكرت أن علي ابـن أبـي طالب كان يلبس الخشن: يلبس القميص بأربعة دراهم، و ما أشبه ذلک و نری علیک اللباس الجديد؟! فقال له: إن علي بن أبي طالب كان يلبس ذلك في زمان لا ينكر، ولوںلبس مثل ذلك اليوم شهر به فخیر لباس كـل زمـان لـبـاس أهـلـه، غير أن قـائمنا أهـل البيت إذا قام لبس ثياب علي و سار بسيرة أمير المؤمنين علي .

 

راوی کہتا ہے میں امام جعفر صادق (ع) کی خدمت میں حاضر تھا ایک شخص نے سوال کیا حضرت علی (ع) تو بہت معمولی لباس پہنتے تھے یعنی چار درہم قیمت کی قمیص اور آپ قیمتی لباس پہنتے ہیں فرمایا علی (ع) ایسا لباس اس زمانہ میں پہنتے تھے جب وہ برا سمجھا جاتا تھا کیوں کہ صحیح معنی میں اسلامی حکومت تھی اگر ایسا لباس اس زمانہ میں پہنتے تو ہر طرف سے مذمت ہونے لگتی جب ہمارے قائم ظہور فرمائیں گے تو حضرت علی (ع) کا سا لباس پہنے ہوں گے اور انھی کی سیرت پر عامل ہوں گے۔

 

[۷/۱۳۱۶]فروع الکافی: وعن علي عن أبيه عن ابن أبي عمير عن حفص بن البختري و غيره عن أبي عبدالله ﷺ قال: اجتهدت في العبادة و أنـا شـاب، فقال لي أبـي: يـا بـني دون مـا أراك

(تصنع)، فان الله إذا أحب عبداً رضي منه باليسير.

 

امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں جب میں نوجوان تھا تو بہت زیادہ کثرت سے عبادت کرتا تھا تو میرے والد امام باقر ع نے مجھ سے کہا کہ بیٹا میں چاہتا ہوں کہ تم دوسروں کاموں میں بھی مشغول رہو اللہ تو اپنے بندے کے چھوٹے سے چھوٹے اعمال سے بھی راضی ہوجاتا ہے ۔

 

[۱۳۱۸ / ۹]الکافی : و عن العدة عن أحمد عن ابن فضال عن داود بن سرحان قال: رأيت أبا عبدالله ال يكيل تمرا بیده.............الخ

 

راوی کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق ع کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کھجوریں گن رہے تھے تو میں نے کہا میری جان آپ پر فدا ہو کاش آپ اپنے خادموں میں سے کسی کو حکم دیں کہ وہ آپ کی مدد کرے ۔ تو امام نے فرمایا اے داؤد ، تین چیزوں کے بغیر مسلمان اپنی صحیح حالت میں نہیں آتا دین کی صحیح سمجھ ، سختیوں میں صبر ، اپنی روزی/رزق کے لئے منصوبہ بندی ۔

 

[۱۳۱۹ / ۱۰]الکافی : وعن محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد بن عيسى عن معمر بن خلاد قال: سمعت أبا الحسـن يقول: إن رجلاً أتى جعفراً (صلوات الله عليه) شبيهاً بالمستنصح له فقال له: يا أبا عبدالله كيف صرت اتخذت الأموال قطعا متفرقة، و لو كانت في موضع واحد كان أيسر لمـؤنتها و أعـظـم لمنفعتها، فقال أبـو عـبـدالله : اتخذتها متفرقة، فإن أصاب هذا المال شي سلم هذا، و الصرة تجمع هذا كله.

 

ایک مرتبہ ایک شخص امام جعفر الصادق ع کہ خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے ابا عبداللہ ع ، آپ نے اپنی جائیدادیں الگ الگ حصوں میں کیوں رکھی ہوئی ہیں اگر یہ سب ایک ہی حصہ کے طور پر ہوتیں تو ان سے زیادہ منافع مل سکتا تھا ، آپ نے فرمایا میں نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ اگر ایک جگہ کا نقصان ہو تو اس سے دوسرے حصے اثر انداز نہ ہوں ۔

 

#علی_بن_ابراھیم_قمی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4