Back to امام جعفر الصادق ع

امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت علماے اھل سنت کی نظر میں.. Post 1

امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت علماے اھل سنت کی نظر میں..   

 

17ربیع الاول یوم ولادت کی مناسبت سے خصوصی مضمون

 

شہاب الدین ابو العباس احمد بن بدر الدین شافعی معروف بہ ابن حجر ہیتمی امام صادق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

 

لوگوں نے آپ سے بہت سے علوم سیکھے ہیں اس یہ علوم مدینہ آنے والے زائرین و حجاج کے ذریعے ساری دنیا میں پھیل گئے اور ساری دنیا میں جعفر ابن محمد کے علم کا ڈنکا بجنے لگا۔ اہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ایک میر علی ہندی، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں اس زمانے میں علم کی ترقی نے سب کو کشتہ بحث و جستجو بنا دیا تھا اور فلسفیانہ گفتگو ہر جگہ رائج ہو چکی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اس فکری تحریک کی رہبری اس مرکز علمی کے ہاتھ میں تھی جو مدینہ میں پھل پھول رہا تھا اور اس مرکز کا سربراہ علی ابن ابی طالب کا پوتا تھا جس کا نام جعفر صادق علیہ السلام تھا۔ وہ ایک بڑے مفکر اور سرگرم محقق تھے اور اس زمانے کے علوم پر عبور رکھتے تھے، وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام میں فلسفے کے مدارس قائم کیے۔ ان کے درس میں صرف وہ لوگ شرکت نہیں کرتے تھے جو بعد میں فقہی مکاتب کے امام کہلائے بلکہ فلاسفہ، فلسفہ کے طلبہ بھی دور دراز سے آ کر ان کے درس میں شرکت کرتے تھے۔

 

ڈاکٹر حامد حنفی جو عربی ادب کے استاد گردانے جاتے ہیں ایک کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ:

 

20 سال سے زیادہ زمانہ بیت گیا میں تاریخ فقہ و علوم اسلامی کی ترتیب کر رہا ہوں خانوادہ کرامت نبوی کے طاہر فرزند حضرت امام جعفر صادق کی نمایاں ترین شخصیت نے مجھے خاص طور پر اپنی جانب متوجہ کیا۔ میں اس نظرئیے پر پہنچا ہوں کہ آپ علوم اسلامی کے موجد اور موسس رہنما ہیں۔

 

علامہ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں بیان کیا ہے کہ:

 

تمام بلادِ اسلامیہ میں ان کے علم و حکمت کا شہرہ تھا۔

 

علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں لکھتے ہیں کہ:

 

حضرت امام ابو حنیفہ لاکھ مجتہد ہی سہی لیکن امام جعفر صادق کے شاگرد تھے۔

 

مسیح عالم عارف ثامر استاد دانش کدہ مباحث شرقی قاہرہ نے لکھا ہے کہ:

 

جو شخص بے غرض متعصب سے پاک ہو کر امام جعفر بن محمد الصادق کی شخصیت کے بارے میں جدید علمی اصول کی پیروی کرتے ہوئے ہر قسم کے تعصبات سے بے نیاز ہو کر علمی و حقیقی تحلیل و تجزیہ میں مشغول ہو گا، تو اس کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس بات کا اعتراف کرے کہ امام کی شخصیت ایسا فلسفی مجموعہ ہے جسے اپنے اوپر اعتماد و بھروسہ ہے جو بہت سے نظریات، خیالات اور فکریات کا سرچشمہ ہیں جو نئے افکار و خیالات و جدید احکامات کے نہ صرف مؤسس ہیں بلکہ انھوں نے اس بارے میں نئی نئی راہیں بھی دکھائی ہیں۔

 

ابن خلکان کہتے ہیں کہ:

 

آپ سادات اہلبیت میں سے تھے اور آپ کی فضیلت کسی بیان کی محتاج نہیں۔

 

اسی طرح بیان کرتے ہیں کہ:

 

حضرت امام جعفر صادق کے مقالات علم کیمیا اور علم جفر و فال میں موجود ہیں اور جابر بن حیان صوفی طرطوسی آپ کے شاگر تھے جنہوں نے ایک ہزار صفحات کی کتاب مرتب کی تھی۔

 

انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے کہ:

 

استاد اعظم جابر بن حیان بن عبد اللہ کوفہ میں پیدا ہوا،امام باقر اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے فیض صحبت سے خود امام ہو گیا۔

 

علامہ فرید وجدی دائرۃ المعارف القرآن الرابع عشر میں لکھتے ہیں کہ:

 

جابر بن حیان نے امام جعفر صادق کے پانچ سو رسائل کو جمع کر کے ایک ہزار صفحہ کی کتاب تالیف کی تھی۔ فرید مولف دائرۃ المعارف مزید لکھتا ہے کہ:

 

جعفر ابن محمد کے علم و دانش کا گھر روزانہ جید علماء سے بھر جاتا تھا۔ وہ علماء و دانشمند علم حدیث، تفسیر،کلام و فلسفہ کے حصول کے خواہشمند تھے۔ آپ کے حلقہ دروس میں مشہور و معروف علماء میں سے اکثر اوقات میں تین سے چار ہزار افراد تک شرکت فرماتے تھے۔

 

سٹراسبرگ میں 25 مغربی محققین نے امام جعفر صادق کی علمی و سائنسی خدمات پر ایک مقالہ مرتب کیا ہے کہ جو سپرمین ان اسلام کے عنوان کے تحت شائع ہوا ہے۔ اس مقالہ میں ان دریافتوں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی بنیاد امام جعفر صادق کے دروس سے آشکار ہوئی۔

 

امام جعفر صادق علیہ السلام کی کرامات بھی لاتعداد ہیں جن سے شیعہ سنی کتب بھری پڑی ہیں۔ منصور دوانیقی کے ایک درباری کا بیان ہے کہ:

 

میں نے ایک مرتبہ اسے پریشان دیکھا سبب پوچھا تو کہنے لگا جب تک میں امام جعفر صادق کا کام تمام نہ کر لوں آرام سے نہ بیٹھوں گا۔ اس نے جلاد کو بلایا اور کہا کہ میں امام جعفر صادق کو بلواتا ہوں جب امام جعفر صادق علیہ السلام آئیں اور میں اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لوں تو تم انہیں قتل کر دینا۔ درباری بیان کرتا ہے کہ جب منصور نے امام کو بلوایا تو میں ان کے ساتھ ہو لیا وہ زیر لب کچھ ورد فرما رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ اچانک منصور کے محل میں ارتعاش و زلزلہ پیدا ہو گیا ہے اور وہ اپنے محل سے ایسے نکلا جیسے کشتی سمندر کی تند و تیز لہروں سے باہر آتی ہے منصور کا حلیہ عجیب تھا وہ لرزہ براندام برہنہ سر اور برہنہ پا امام جعفر صادق کے استقبال کے لیے بڑھنے پر مجبور ہو گیا اور آپ کے بازو کو پکڑ کر اپنے ساتھ تکیہ پر بٹھایا اور کہنے لگا اے فرزند رسول آپ کیسے تشریف لائے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تو نے بلایا اور میں آ گیا۔ منصور کہنے لگا کسی چیز کی ضرورت ہو تو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا مجھے بجز اس کے کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ تم مجھے یہاں نہ بلایا کرو۔ اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام تشریف لے گئے اور منصور ایسا سویا کہ اگلے روز دن چڑھے بیدار ہوا مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے جعفر ابن محمد کو قتل کے ارادے سے بلایا تھا جیسے ہی وہ دربار میں داخل ہوئے تو میں نے ایک اژدھا دیکھا جس کے منہ کا ایک حصہ زمین پر تھا اور دوسرا میرے محل پر وہ مجھے فصیح و بلیغ زبان میں کہہ رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اگر تم نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو کوئی گزند پہنچائی تو تجھے تیرے محل سمیت دفن کر دوں گا۔

 

شواہد النبوۃ۔ ملاجامی ..

 

سفیان ثوری ( جو اپنے زمانہ کے مشہور فقہاء میں سے ایک ہیں اور اہل سنت کے یہاں علم و زہد پرہیز کاری کے حوالے سے بہت مشہور ہیں ) نے بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی اور آپ سے علمی اور اخلاقی میدان میں کسب فیض کیا ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے حدیثیں بھی نقل کی ہیں۔

 

تذکرة الحفاظ ج1 ص 197 ۔

 

ادوار فقہ ج3 ص 576، محمود شہابی چاپ دوم وزارت ارشاد و فرہنگ اسلامی سنہ 1368 ھ ۔

 

عمر وابن ابی المقدام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:

 

قال کنت اذا نظرت الیٰ جعفر بن محمد علمت انہ من سلالة البنیین قد رایتہ واقفا عند الجمرة یقول سلونی سلونی ۔

 

عمرو کہتے ہیں کہ میں جب بھی جعفر بن محمد کی طرف نظر دوڑاتا تو جان لیتا کہ آپ انبیاء کی نسل میں سے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا جب آپ ایک پتھر پر کھڑے تھے اور یہ فرما رہے تھے سلونی سلونی ۔

 

مجھ سے پوچھو مجھ سے پوچھو ۔ آپ نے اپنے جد امیر المومنین کی طرح یہ دعویٰ کیا ہے مولا امیر المومنین نے بھی یہی فرمایا تھا اس سے پہلے کہ میں تمھارے درمیان نہ رہو ں ۔ مجھ سے علمی مسائل اور مشکلات کے بارے پوچھ لو اور میرے بعد کوئی بھی مجھ جیسے حدیث بیان نہیں کرے گا ۔

 

تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی ج2 ص 88، دار الفکر بیروت چاپ اول سنہ 1385 ۔

 

شمس الدین ذہبی ، سیر أعلام النبلا ،ج 6،ص 440

 

ابن حجر ہیثمی امام کی علمی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں: یحیی بن سعید بن جریح، امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور ایوب نے فقیہ جیسی شخصیتوں نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔

 

الصواعق المحرقہ ابن حجر ھیثمی ص 102 ۔

 

ابو بحر جاحظ جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے عالم دین تھے اور دوسری صدی کے آخر میں ان کا دور تھا ایک غیر معمولی ادیب ،ایک بہترین جامعہ شناس اور مورخ تھے ، کتاب الحیوان ،جس کو آپ نے لکھا ہے بہت معروف ہے اور آج بھی یورپ کے سائنس دانوں کے لیے قابل توجہ ہے یہ عالم امام صادق کے آخری دور میں موجود تھے۔ امام کے بارے میں کہا ہے کہ :

 

جعفر ابن محمد الذی ملا الدنیا علمہ و فقھہ و یقال ان ابا حنیفہ من تلامذتہ و کذلک سفیان الثوری و جسک بھما فی ھذا الباب ۔

 

جعفر ابن محمد وہ ہیں کہ جن کے علم اور فقہ نے دنیا کو پُر کر رکھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابو حنیفہ آپ کے شاگردوں میں سے تھے اور اسی طرح سفیان ثوری بھی آپ کے شاگرد تھے ۔

 

اور ان دونوں کا شاگرد ہونا آپ کی عظمت کے لیے کافی ہے۔

 

رسائل الجاحظ ص 106، الامام الصادق (ع) (ابوزہرہ) ص 36

 

لامام و المذاہب الاربعة ج1 ص 69

 

محمد شہر ستانی الملل والنحل کے مصنف کہ جن کا شمار فلاسفہ اور متکلمین میں سے ہوتا ہے ۔ پانچویں صدی ہجری میں تھے، اس نے امام صادق علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

ھوذ وعلم عزیر وادب کامل فی الحکمة وزھد فی الدنیا وورع تام عن الشھوات ویفیض علیٰ الموالی لہ اسرار العلوم ثم دخل العراق ولانازع فی الخلافة احدا ومن غرق فی بحرالمعرفة لم یقع فی شط ومن تعلی الیٰ ذروة الحقیقة لم یخف من حط ۔

 

ترجمہ : آپ کے پاس جوش مارنے والا علم تھا اورحکمت میں کامل ادب تھا دنیا میں زہد اور شہوات سے مکمل دوری تھی آپ نے دوستوں پر مختلف علوم کے اسرار و رموز کا فیض پہنچایا ۔ پھر آپ عراق میں داخل ہوئے ۔ اور معرفت و علوم کے سمندر میں آپ ایسے غوطہ ور ہو گئے کہ ان مسائل کی طرف توجہ ہی نہ دی اور جو بھی علم و معرفت کے سمندر میں غرق ہو جائے وہ کنارے میں نہیں آتا ۔ اور جو حقیقت کی چوٹی پر چڑھ جائے وہ نیچے گرنے سے نہیں ڈرتا ۔

 

ابن حجر عسقلاتی کہتے ہیں کہ:

 

جعفر الصادق نقل الناس عنہ ماسارت بہ الرکبان وانتشر صیتہ فی جمیع البلدان

 

یعنی لوگوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اتنی زیادہ احادیث نقل کی ہیں کہ انسان کی فکر وہاں تک نہیں پہنچ سکتی اور یہ علوم پوری دنیا میں زبان زد عام ہو گئے ہیں ۔ت

 

ابن حجر عسقلانی ،الصواعق المحرقہ ،ص 201

 

حضرت امام صادق علیہ السلام کے بارے میں دانشمندوں کے تمام اقوال کے نقل کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔ لہذا ہم اسی مقدار پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پوری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام جیسی علمی شخصیت نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہے اور نہ کسی کان نے سنی ہے

 

حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں لکھا:

 

و منهم الامام الناطق و الزمام السابق, ابو عبد الله جعفر بن محمد الصادق, اقبل على العباده و الخضوع و آثر العزله و الخشوع و نهى عن الریاسه و الجموع

 

 ان بزرگوں میں سے ایک امام ناطق جعفر ابن محمد صادق ہیں۔ انھوں نے اطاعت و بندگی اور انکساری کی طرف اپنا رخ حیات قرار دیا، زہد و خشوع کو شعار زندگی قراردیا اور دنیا اور تمام دنیاوی مقام و منصب سے مکمل طور پر چشم پوشی کی۔

 

حلیه الاولیإ ج 3 ص 192

 

ابن حجر عسقلانی اور امام جعفر صادق علیہ السلام

 

شہاب الدين ابو الفضل احمد بن علی مصری شافعی کہ جو «ابن حجر عسقلانی کے نام سے مشہور تھا (773-852 ه .ق)۔ اس نے امام صادق علیہ السلام کے بارے میں کہا ہے کہ:

 

جعفر بن محمد بن علی بن حسين بن علی بن ابی طالب ایک ایسے فقیہ ہیں کہ جو بہت سچے ہیں۔

 

تقريب التهذيب، ص 68

 

ابن حجر میں اپنی كتاب تهذيب التهذيب میں ابی حاتم سے اور اس نے اپنے والد سے امام صادق کے بارے میں نقل کیا ہے کہ:

 

ثقۃ لا يسأل عن مثله.

 

یعنی امام صادق کی شخصیت اتنی مورد اطمینان ہے کہ کسی سے ان کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

اور نے لکھا ہے کہ: ابن عدی نے کہا ہے کہ:

 

و لجعفر احاديث و نسخ و هو من ثقات الناس ... و ذكره ابن حبان فی الثقات و قال كان من سادات اهل البيت فقها و علما و فضلا ... و قال النسايی فی الجرح و التعديل ثقه۔

 

امام جعفر ابن محمد کی احادیث اور نسخے بہت زیادہ ہیں، وہ موثق افراد میں سے ہیں۔ ابن حبان نے ان کو ثقات میں سے قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ: جعفر ابن محمد رسول خدا کے بزرگ اھل بیت میں سے ہیں، فقہ، علم اور فضیلتت کے لحاظ سے انکا مقام بہت بلند ہے۔ نسائی نے جرح و تعدیل میں امام صادق کو ثقہ افراد میں سے قرار دیا ہے۔

 

تهذيب التهذيب، ج 2، ص 104.

 

ابن خلكان اور امام صادق علیہ السلام

 

ابن خلكان نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

احد الآئمه الاثنی عشر علی الاماميه و كان من سادات اهل البيت و لقب بالصادق لصدق مقالته و فضله اشهر من ان يذكر۔

 

وہ اھل بیت کے بارہ آئمہ میں سے ایک امام اور رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اہل بیت میں سے تھے۔ کلام میں سچا ہونے کی وجہ سے صادق کے لقب سے شہرت پائی اور انکی فضیلت اس قدر مشہور ہے کہ وہ بیان کرنے کی محتاج نہیں ہے۔

 

ابن خلكان نے اسی طرح لکھا ہے کہ:

 

و كان من سادات اهل البيت و لقب بالصادق لصدقه فی مقالته... و كان تلميذه ابو موسی جابر بن حيان الصوفیت الطرسوسی قد ألف كتاباً يشتمل علی ألف ورقة تتضمن رسائل جعفر الصادق و هی خمس مأة رسالة.

 

امام جعفر صادق علیہ السلام اہل بیت کے بزرگان میں سے تھے، کلام میں سچا ہونے کی وجہ سے ان کو صادق کا لقب دیا گیا تھا، امام صادق علیہ السلام علم کیمیا میں ایک خاص قسم کی مہارت رکھتے تھے۔ ابو موسی جابر بن حيان طرطوسی ان کا شاگرد تھا۔ جابر نے اس بارے میں ہزار صفحے کی ایک کتاب لکھی ہے، جس میں اس نے جعفر ابن محمد علیھم السلام کی تعلیمات کو ذکر کیا ہے اور یہ کتاب پانچ سو رسالوں پر مشتمل تھی۔

 

وفيات الاعيان، ج 1، ص 327

 

شہرستانی اور امام صادق (ع):

 

ابو الفتح محمد بن ابی القاسم اشعری کہ جو شہرستانی کے نام سے مشہور تھا (479-547 ه .ق)۔ اس نے اپنی مہم کتاب الملل و النحل میں امام صادق کی عظمت کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

و هو ذو علم عزيز فی الدين و ادب كامل فی الحكمه و زهر بالغ فی الدنيا و ورع تام عن الشهوات۔

 

امام صادق علیہ السلام امور و مسائل دینی میں بہت زیادہ علم رکھنے والے، علم حکمت میں مکمل ادب رکھنے ولے، امور دنیا اور اسکی زرق و برق کی نسبت بہت محکم زہد رکھنے والے اور نفسانی شہوات سے دوری کرنے والے تھے۔

 

الملل و النحل، ج 1، ص 147

 

عمر بن مقدام دور جدید کا زبردست عالم تھا، اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں کہا ہے کہ:

 

كنت اذا نظرت الی جعفر بن محمد علمت انه من سلاله النبيين و قد رأيته واقفا عند الجمره يقول سلونی، سلونی۔ت

 

جب میں جعفر ابن محمد کو دیکھتا تھا تو میں سمجھ جاتا تھا کہ وہ انبیاء کی نسل میں سے ہیں۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ وہ منی کے مقام پر جمرہ کے پاس کھڑے ہیں اور لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ تم نے پوچھنا ہے، مجھ سے پوچھ لو اور میرے علم سے استفادہ کر لو۔

ما رأيت افقه من جعفر بن محمد و انه اعلم الامۃ۔

 

میں نے جعفر ابن محمد علیھم السلام سے فقیہ تر اور عالم تر کسی کو نہیں دیکھا۔ وہ اس امت کے اعلم ترین بندے تھے۔

 

شمس الدين ذهبی، سير اعلام النبلاء، ج 6، ص 257

 

 تاريخ الكبير، ج 2، ص 199 و 198، ح 2183.

 

سير اعلام النبلاء، ج 6، ص 257.

 

۔۔مولا علی علیہ السلام کے بعد سلونی سلونی کا دعویٰ صرف آپ نے فرمایا

 

عمر وابن ابی المقدام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ:

 

قال کنت اذا نظرت الیٰ جعفر بن محمد علمت انہ من سلالة البنیین قد رایتہ واقفا عند الجمرة یقول سلونی سلونی ۔

 

عمرو کہتے ہیں کہ میں جب بھی جعفر بن محمد کی طرف نظر دوڑاتا تو جان لیتا کہ آپ انبیاء کی نسل میں سے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا جب آپ ایک پتھر پر کھڑے تھے اور یہ فرما رہے تھے سلونی سلونی ۔

 

مجھ سے پوچھو مجھ سے پوچھو ۔ آپ نے اپنے جد امیر المومنین کی طرح یہ دعویٰ کیا ہے مولا امیر المومنین نے بھی یہی فرمایا تھا اس سے پہلے کہ میں تمھارے درمیان نہ رہو ں ۔ مجھ سے علمی مسائل اور مشکلات کے بارے پوچھ لو اور میرے بعد کوئی بھی مجھ جیسے حدیث بیان نہیں کرے گا ۔

 

تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی ج2 ص 88، دار الفکر بیروت چاپ اول سنہ 1385 ۔

 

شمس الدین ذہبی ، سیر أعلام النبلا ،ج 6،ص 440

 

ابن حجر ہیثمی امام کی علمی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں: یحیی بن سعید بن جریح، امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور ایوب نے فقیہ جیسی شخصیتوں نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔

 

الصواعق المحرقہ ابن حجر ھیثمی ص 102 ۔

 

ابو بحر جاحظ جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے عالم دین تھے اور دوسری صدی کے آخر میں ان کا دور تھا ایک غیر معمولی ادیب ،ایک بہترین جامعہ شناس اور مورخ تھے ، کتاب الحیوان ،جس کو آپ نے لکھا ہے بہت معروف ہے اور آج بھی یورپ کے سائنس دانوں کے لیے قابل توجہ ہے یہ عالم امام صادق کے آخری دور میں موجود تھے۔ امام کے بارے میں کہا ہے کہ :

 

جعفر ابن محمد الذی ملا الدنیا علمہ و فقھہ و یقال ان ابا حنیفہ من تلامذتہ و کذلک سفیان الثوری و جسک بھما فی ھذا الباب ۔

 

جعفر ابن محمد وہ ہیں کہ جن کے علم اور فقہ نے دنیا کو پُر کر رکھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جناب ابو حنیفہ آپ کے شاگردوں میں سے تھے اور اسی طرح سفیان ثوری بھی آپ کے شاگرد تھے ۔

 

اور ان دونوں کا شاگرد ہونا آپ کی عظمت کے لیے کافی ہے۔

 

رسائل الجاحظ ص 106، الامام الصادق (ع) (ابوزہرہ) ص 36

 

ابو زہرہ نے کتاب " الامام الصادق (ع) " میں لکھا ہے کہ:

 

علماء اسلام مختلفت نظریات اور مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے اختلاف رائے رکھنے کے باوجود امام صادق علیہ السلام کے علمی مقام و عظمت اور بزرگی کے بارے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں۔

 

17.الامام الصادق (ابوزہرہ مصری ) ص 66 ۔

 

قاہرہ یونیور سٹی، میں شعبہ ادبیات کے پروفیسر ڈاکٹر حامد حنفی، عراقیت دانشمند اسد حیدری کی کتاب " الامام صادق والمذاہب الاربعۃ" کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ:

 

بیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا کہ میں نے تاریخ فقہ و علوم اسلامی میں محقق کی حیثیت رکھتا ہوں اور زمانہ تحقیق سے نسل نبوت کی پاک و پاکیزہ اور باکرامت اور علمی شخصیت حضرت امام جعفر صادقت علیہ السلام نے مجھے بے حد متاثر کیا ۔ میرا عقیدہ ہے حضرت ترقی پسند رہبروں میں سے تھے اور آپ اسلامی علوم کے موجد اور سب سے ذمہ دار مفکر ہیں جو ہمیشہ شیعہ اور سنی دانشمندوں کا مرکز رہےت ہیں اور رہیں گے۔

 

الامام الصادق والمذاہب الاربعة اسد حیدر ج2 ص 53

 

حسن ابن وشا، ایک مشہور اسلامی متکلم اورت فلسفی کہتے ہیں کہ:

 

میں نے اس مسجد کوفہ میں نو سو سے زیادہ ایسے اساتذہ دیکھے ہیں جو کہا کرتے تھے ، حدثنی جعفر بن محمد " ہم سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے "۔

 

الملل و النحل عبد الکریم شہر ستانی ج1 ص 132 بحوالہ تاریخ کوفہ

 

قاموس الاعلام، کے مؤلفت " مسترش " دائرہ المعارف نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ:ت

 

جعفر بن محمد علیہ السلام اھل بیت علیھم السلام کے بارہ اماموں میں سے ایک ہیں آپ امام باقر علیہ السلام کے سب سے بڑے فرزند تھے علم و فضل میں یگانہ زمان تھے۔ آپ کے درس میں امام ابوحنیفہ نے زانوئے ادب تہہ کیا اور آپ کے ظاہری اور باطنی علوم سے فیض حاصل کیا امام جعفر صادق علیہت السلام علم الجبر او کیمیا اور ان کے علاوہ دوسرے علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے جن لوگوں نے آپ کی صحبت سے کسب فیض کیا ہے ان میں " الجبرا " کے مشہور ماہر جابر بن حیان بھی تھے۔ت

 

دائرة المعارف ج3 ص 1821

 

بطر من بستانی، کا بیان ہے کہ:

امام جعفرصادق علیہ السلام سادات اور بزرگان اہل بیت اطہار میں سے تھے ۔ راستگوئی کی وجہ سے آپ کا لقب صادق قرار پایا ان کا فضل و شرف بہت عظیم ہے ۔ علم کیمیا اور جبر میں آپ کے خاص نظریات ہیں ۔ آپ کے مشہور شاگرد جابر بن حیان نے ایک کتاب لکھی ہے جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل تھی ۔

 

دائرة المعارف، فرید وجدی ج6 ص 468

 

منصور دوانقی: جو امام کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھا لیکن اسے بھی اعتراف ہے کہ امام صادق علیہ السلام خیر و برکات اور نیکیوں کے ویسے ہی پیشرو تھے جس طرح قرآن نے فرمایا ہے ۔

 

تاریخ یعقوبی، ج3 ص 117، بیروت،

 

التماس دعا ریاض قادری