اصحاب

 

شیخ طوسی نے رجال میں تقریبا ۳۲۰۰ افراد کا نام امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب کا ناموں میں ذکر کیا ہے ۔[79] زیدیہ علما میں سے ابن عقده نے اپنی کتاب رجال میں 4000 کے عدد تک امام کے اصحاب کو پہنچایا ہے [80] اس تعداد سے مراد یہ نہیں ہے کہ اتنے افراد ہر روز امام کے درس میں شریک ہوتے تھے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اتنے افراد نے آپ کی طول حیات میں علم حاصل کیا ۔[81]

 

اصول اربعمأه میں سے اکثر اصول امام صادق کے شاگردوں کی تالیفات میں سے ہیں۔" مجموعہ مقالات ہمایش امام جعفر صادق" کے نام سے چاپ ہونے والی کتاب میں مختلف شیعہ رجالی کتب سے جمع آوری کر کے 100 کے قریب ان اصولوں کو تالیف کرنے والے امام جعفر صادق کے اصحاب کے نام اکٹھے کئے گئے ہیں۔[82]

 

شیعہ راوی

اصحاب اجماع

مفصل مضمون: اصحاب اجماع

 

علم رجال میں بعض شیعہ علما کا نظریے کے مطابق راویوں کی ایک تعداد ایسے افراد کی تھی جو کسی غیر موثق شخص سے روایت نقل نہیں کرتے تھے۔اس تعداد اور اسما میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

 

جَمیل بن دَرّاج

حماد بن عیسی

عبداللہ بن مُسکان

معروف بن خربوذ

عبداللہ بن بُکَیر

حَمّاد بن عثمان

اَبان بن عثمان

محمد بن مسلم

فضیل بن یسار

برید بن معاویہ

زرارة بن اعین

دیگر

ابان بن تغلب

حمران بن اعین

ہشام بن حکم

مؤمن طاق

جابر بن حیان

عبدالملک بن اعین

جابر بن یزید جعفی

عبداللہ بن ابی یعفور

ہشام بن سالم جوالیقی

یحیی بن ابی‌القاسم اسدی

ابوحمزه ثمالی

داوود بن کثیر رقی

ابان بن ابی عیاش

ابن اذینہ

بکیر بن اعین

ثعلبہ بن میمون

حمزة ‌بن حبیب

خالد بن ابی اسماعیل کوفی

 خالد بن ابی کریمہ

خالد بن جریر بجلی

خالد بن عبدالرحمان عطار

خالد بن ماد قلانسی

صفوان بن مہران جمال

خلید بن اوفی

خلیل بن احمد فراہیدی(کتاب العین لغت کا مصنف اور نحوی)

خیثمہ بن عبدالرحمان

داؤد بن سرحان

داوود بن فرقد

عبداللہ بن میمون قداح

عبیداللہ بن علی حلبی

علی بن یقطین

فضل بن عبدالملک بقباق

لیث بن بختری مرادی

یقطین بن موسی بغدادی

سیف بن عمیره نخعی

حریز بن عبداللہ سجستانی

حمران بن اعین

بہلول

خلاد سندی

سلیمان بن مہران اعمش

داؤد بن نعمان

فضیل بن عیاض

زکریا بن ادریس اشعری قمی

......

اہل سنت راوی

 

اہل سنت کی رجال اور حالات زندگی سے مربوط کتب کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل سنت کے بعض معروف علما اور عہدے دار یا قضاوت جیسے عہدوں پر فائز افراد امام صادق کے شاگرد رہے ہیں۔صحابہ کے خاندان کے افراد ،خلفا نیز چند معروف متکلمین سیرت نگار اور مفسرین بھی امام صادق کے شاگر رہے ہیں۔ [83]

 

امام صادق ؑ کے بعض اہل سنت علما کے اسمائے گرامی:

 

ابوحنیفہ

مالک بن انس

سفیان ثوری

یحیی بن سعید انصاری

سفیان بن عیینہ

ابن جریح

ایوب سختیانی

یحیی بن سعید قطان

ایوب سجستانی

محمد بن اسحاق بن یسار

حسن بصری

واصل بن عطاء[84]

کشف الغمہ کے مؤلف نے بھی کچھ ایسے تابعین کے اسما ذکر کیے ہیں جو حضرت امام صادق (ع) سے روایت نقل کرتے ہیں جیسے : ابوعمرو بن العلاء و یزید بن عبداللہ، شعبہ بن حجاج، عبداللہ بن عمرو، روح بن قاسم، سلیمان بن بلال، حاتم بن اسماعیل، عبدالعزیز بن مختار، وہب بن خالد اور ابراہیم بن طہمان[85].

 

اقوال اکابرین

 

شیعہ

اہل سنت

ذہبی(748ق) نے سیر اعلام النبلاء میں کہا :

جعفر بن محمد بنی ہاشم کے بزرگ، صادق،ابو عبداللہ قرشی،علوی،نبَوی ، مدنی اور اَعلام میں سے ایک ہیں۔صحابہ میں سے انس بن مالک اور سہل بن سعد نے انہیں دیکھا ہے۔مسلم نے ان سے روایت نقل کی ہے ۔وہ مدینے کے جید علما میں تھے۔انکی اکثر روایات اپنے والد سے منقول ہیں۔دراوردی کے بقول مالک نے بنی عباس کی حکومت میں اس سے روایت نقل کی۔

ذہبی نے امام جعفر صادق سے روایت نقل کرنے والوں کی جماعت میں سے 32 افراد کے نام ذکر کیے ہیں۔

عمر بن ابی مقدام کہتا ہے: میں نے جعفر کو جمرہ کے پاس یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھ سے سوال کرو مجھ سے سوال کرو.

صالح بن ابی اسود نے جعفر صادق سے سنا: مجھ سے سوال کرو اس سے پہلے کہ میں موجود نہ رہوں کیونکہ میرے بعد تم میں سے کوئی شخص مجھ جیسی حدیث بیان نہیں کرے گا۔

ابن عقدہ نے ابو حنیفہ سے نقل کیا: جب اس سے سب سے بڑے فقیہ کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے کہا میں نےان سے بڑا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔پھر اس کا سبب بیان کرتے ہوئے منصور عباسی کے دور کا واقعہ بیان کیا جس میں بادشاہ نے ابو حنیفہ سے تقاضا کیا کہ مشکل ترین فقہی مسائل کے ذریعے جعفر کا امتحان لو تو میں نے 40 سوال تیار کئے اور دربار میں بادشاہ کے حضور اس سے جو سوال پوچھتا وہ کہتا تم یہ کہتے ہو اہل مدینہ یہ کہتے ہیں اور ہم یہ کہتے ہیں ۔یہانتک کہ جعفر نے تمام سوالوں کے جواب دیے ۔منصور کو اس چیز متحیر کر دیا ۔[86]

محمد بن اسماعل اصفہانی(535ق) کہتا ہے:

جعفر بن محمد کو صادق کہا جاتا ہے۔ عمرو بن ابی مقدام نے کہا : میں نے جب بھی جعفر بن محمد کی جانب نگاہ کی تو میں نے جان لیا کہ وہ سلالۂ انبیاء میں سے ہے۔[87]

مؤلف إكمال تہذيب الكمال في أسماء الرجال:

بستی نے انہیں ثقات میں سے مانا ہے اور کہا: یہ اہل بیت کے علما، فضلا اور فقہا میں سے ہیں۔انکی روایات سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔

مصعب زبیری نے مالک سے نقل کیا : میں مختلف اوقات میں جعفر بن محمد کے پاس گیا میں نے انہیں حالت نماز ،روزے یا قرآن کی تلاوت میں ہی مشغول پایا اور وہ ہمیشہ حالت طہارت کے ساتھ رسول اللہ کی حدیث نقل کرتے تھے۔(خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ)ایک سال میں نے انکے ساتھ حج کیا جب وہ تہلیل کہنے لگتے تو وہ اپنے جد علی بن حسین کی طرح خوف خدا سے غش کر جاتے ....۔اگر ہم جعفر بن محمد کے حلم اور علم کے متعلق لکھنا چاہیں تو تہذیب الکمال میں مزی کی تحریر سے کہیں زیادہ موجود ہے جو لکھا جائے۔ ہم نے اہل بیت سے منسوب بعض افراد ابن النعمان اور نصر الکاتب جیسے افراد کی ایک جماعت کو جانتے ہیں کہ جنہوں نے ان کے متعلق مستقل تالیفیں لکھی ہیں۔[88]

ابن حجر ہی سے مروی ہے کہ ابن حبان نے کہا: فقہ، علم اور فضیلت میں اہل بیت(ع) کے سرداروں میں سے تھے۔[89]

 

حوالہ جات 79 تا 89

 

79: رجال طوسی، ص۴۱۲-۶۷۷

80: قریشی، نقش امام صادق در تربیت محدثین، مجموعہ مقالات ہمایش امام جعفر صادق، ص۱۰۲

81؛ شہیدی، ۱۳۸۴، ص۶۵۵.

82: قریشی، نقش امام صادق در تربیت محدثین، مجموعہ مقالات ہمایش امام جعفر صادق، ص۱۰۶-۱۱۰

83: واعظ زاده خراسانی،محمد، نقش امام صادق(ع) در نہضت علمی صدر اسلام، مشکاة، شماره ۳۲، ص۱۷

84: پایگاه اطلاع رسانی حوزه

85: اربلی، کشف الغمہ، ج۲۲، ص۷۲۰

86: ذہبی،سير أعلام النبلاء ط الرسالة (6/ 255)ابن عدی جرجانی،الکامل فی الضعفاء الرجال2/358 ذیل جعفر بن محمد بن علی، طبع الكتب العلميہ - بيروت-لبنان

87: إسماعيل بن محمد أصبہاني،سير السلف الصالحين (ص: 721)دار الرايۃ للنشر والتوزيع، الرياض

88: مغلطاي بن قليج،إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال، 3/تلخیص از جعفر بن محمد بن علی/

89: تہذیب التہذیب، ص104. بحوالہ شہیدی، سید جعفر، 1384، ص4.