سیاسی اور اجتماعی مصروفیات

 

اس لحاظ سے امام جعفر صادق (ع) کی زندگی کو دو حصوں:اموی اور عباسی دور میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ان ادوار میں مختلف حکومت مخالف قیام کئے گئے ۔ایک رائے کے مطابق ان قیاموں کو امام(ع) کی تائید و حمایت حاصل نہ تھی اگرچہ وہ آپ کو فقہ آل محمد(ص) اور علوم اہل بیت(ع) کی ترویج کو مقدم کرنے کے وعدے دیا کرتے تھے لہذا وہ بنی ہاشم کو قیام کی دعوت دیتے لیکن حقیقت میں ان میں سے اکثر یا تمام افراد وقت کے حاکموں کی حاکمیت اپنے اوپر برداشت نہیں کرسکتے تھے یا پھر خود اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ بدعتوں کا ازالہ اور دین خدا کا احیاء نہيں چاہتے تھے۔[61]

 

بنو امیہ کا دور

امام جعفر صادق ؑ کی امامت کا ابتدائی دور امامت 114 سے لے کر 125ق تک کا زمانہ بنو امیہ کے ہشام بن عبد الملک (105 تا 125)کی حکومت کے ساتھ مصادف تھا۔اس زمانے میں امویوں کے مخالفین کو انکے خلاف قیام کرنے کے حالات فراہم ہوئے تھے ۔انہی اموی مخالف تحریکوں میں آپکے چچا زید بن علی نے122ق اور بھتیجے یحیی بن زید نے125ق نے قیام کیا تھا ۔رشتے داری کی وجہ سے امام جعفر صادق کا ان سے دور رہنا ممکن نہیں تھا ۔

 

زید بن علی اور یحیی بن زید کا قیام

مفصل مضمون: قیام زید بن علی اور قیام یحیی بن زید

 

بعض روایات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ زید بن علی کے قیام کو امام کی تائید حاصل تھی۔جیسا کہ شیخ صدوق کی روایت میں آیا ہے :خدا وند کریم ! میرے چچا کو معاف فرمائے!اس نے لوگوں کو الرضا بن میں آل محمد کی جانب دعوت دی ۔اگر وہ کامیاب ہو جاتا تو اپنے وعدے پر عمل کرتا کیونکہ اس نے خروج سے پہلے جب مجھ سے مشورہ کیا تو میں نے اسے کہا :اگر کوفہ کے مقام کناسہ میں مصلوب ہو کر قتل ہونا چاہتے ہو تو خود ہی اسکے ذمہ دار ہو۔[62]

 

لیکن اسکے مقابلے بعض قدیمی منابع بھی ہیں جن میں مذکور ہے کہ امام اس قیام سے راضی نہیں تھے اور امام نے انہیں اس قیام سے منع کیا تھا۔[63] اسی طرح امام کا ایک خط منقول ہوا ہے جس میں امام نے یحیی کو قیام سے منع کیا اور کہا کہ تم بھی اپنے باپ کی مانند مارے جاؤ گے۔[64]

 

یہی وجہ تھی کہ امام صادق کے اصحاب میں سے چند افراد کے علاوہ کسی نے اس قیام میں شرکت نہیں کی تھی۔[65] نیز حاکم وقت امام کے حالات سے آگاہ تھے اور انہوں نے اس قیام کی سرکوبی کے بعد امام کیلئے کسی قسم کی مزاحمت ایجاد نہیں کی تھی۔

 

بنو عباس کا دور

عباسیوں کے دور حکومت میں اس خاندان کے بزرگان امام صادق علیہ السلام سے اس حد تک تعلقات رکھتے تھے جن سے دشمنی کی بو بھی نہیں آتی تھی یہانتکہ منصور عباسی امام کی تعریف بھی کرتا تھا ۔[66]

 

عباسیوں کی جانب سے پہلے دو سالوں میں امام صادق علیہ السلام پر اس وقت دباؤ ڈالا گیا کہ جب امام کی جانب سے اطوینانی انکے نزدیک نہیں ہوا تھا۔132 ق میں عباسیوں کے امویوں پر کامیابی کے بعد وزیر آل محمد کے نام سے معروف ابو سلمہ خلال جو پہلے عباسییوں کا حامی تھا اس نے بنی ہاشم کے علویوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ خلافت حاصل کرلیں ۔اس نے شروع میں حضرت امام صادق کو خلافت کی پیشنہاد دی لیکن امام نے واضح طور پر اسکی دعوت کو رد کر دیا اور اسکی ہمراہی کرنے سے اجتناب کیا ۔[67] یہانتک کہ اس نے جب عبداللہ محض کو یہی پیشکش کی اور وہ حضرت امام صادق کے پاس مشورے کیلئے آیا تو امام نے اسے بھی اس سے اجتناب کا مشورہ دیا۔[68]

 

134ق میں بسام بن ابرہیم نے عباسیوں کے خلاف قیام کا ارادہ کیا اور امام کو ایک خط لکھا :اگر وہ خلافت کا میلان رکھتے ہوں اور وہ خراسان کے لوگوں کی بیعت لے سکتا ہے لیکن امام نے اسکی اس پیشکش کو ایک توطئہ پر حمل کیا اور خلیفہ کو اس سے آگاہ کیا۔[69]

 

اس لحاظ سے حکومت عباسی اس بات کو جان گئی تھی کہ امام قیام اور خلافت کے بارے میں کسی قسم کا انگیزہ نہیں رکھتے ہیں۔اگرچہ سفاح کے آخری سالوں اور منصور کے ابتدائی سالوں میں امام اور حکومت کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔اسکے باوجود امام ہر موقع پر منصور کی جباریت[70] و دنیاطلبی[71] اور دنیا طلبی کے خلاف تنقید کرتے تھے اور اپنے بیانات میں سلاطین پر انحصار کرنے کی نکوہش کرتے تھے۔[72]

 

فرزندان عبدالله محض کا قیام

امویوں کے دور حکومت کے آخر میں بنی ہاشم میں سے عبداللہ محض ،اسکے بیٹے، سفاح اور منصور ابوا نامی جگہ اکٹھے ہوئے تا کہ ان میں سے کسی ایک کی بیعت کریں۔اس نشست میں عبداللہ نے اپنے بیٹےمحمد کو مہدی کے عنوان سے پیش کیا اور انہیں اس کی بیعت کی دعوت دی۔ امام صادق(ع) جب اس واقعے سے مطلع ہوئے تو آپ نے فرمایا :

 

ایسا مت کر کیونکہ ابھی اس کا وقت نہیں ہے نیز عبداللہسے کہا :اگر یہ سوچ رہے ہو کہ تمہارا بیٹا مہدی ہے تو وہ مہدی نہیں ہے اور ابھی اس کے ظہور کاوقت نہیں ہے ۔اور اگر خدا کیلئےاور امر بہ معروف و نہی عن المنکر کیلئے قیام کر رہے ہو تو تم ہمارے بزرگ ہو۔ خدا کی قسم!ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے کہ ہم تمہارے بیٹے کی بیعت کریں۔

عبداللہیہ سن کر ناراض ہوا اور اس نے کہا :خدا کی قسم! خدا نے تجھے علم غیب سے آگاہ نہیں کیا ،تم جو کچھ کہہ رہے ہو میرے بیٹے سے حسادت کی وجہ سے کہہ رہے ہو ۔

امام صادق نے ابو العباس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا : خدا کی قسم میں حسد کی وجہ سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ عبداللہ،اس کے بھائیوں اور اسکے فرزندوں تک خلافت نہیں پہنچے گی عبداللہبن حسن کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: ہاں بخدا!تمہاری اور تمہارے بیٹوں کی نہیں بلکہ اُس کی ہے۔تمہارے دونوں بیٹے قتل ہو جائیں گے۔[73]

بنی عباس کی قدرت کے حصول کے بعد ان کی سخت گیریوں نے قیام کیلئے لوگوں کو حالات مہیا کئے ۔محمد اور عبداللہکے بیٹوں نے 125ق میں قیام کیا لیکن دونوں شکست سے دو چار ہوئے اور امام جعفر صادق (ع) انکے متعلق سچ ثابت ہوئی۔ نقل ہوا ہے کہ مدینے میں نفس زکیہ کے قیام کے موقع پر امام جعفر صادق اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کی خاطر مدینے سے باہر اپنی ایک مِلک میں رہنے لگے نفس زکیہ کے قیام کے بعد آپ مدینہ واپس تشریف لائے۔

 

امام صادق علیہ السلام کی زندگی کے مطالعہ سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے دونوں ادوار میں اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھا ۔نیز اسی سیاست سے دوری کے باوجود آپ معاشرے کی شرائط اور اس کے مستقبل کی نسبت بہت زیادہ حساس تھے۔ لہذا آپ کی تعلیمات میں عدل و انصاف کی رعایت،حکومت میں پاکدامنی،لوگوں کے تقاضے اور ان سے مشورے جیسے مسائل حکمرانوں تک پہنچائے جانے کے آثار ملتے ہیں۔[74]

 

حوالہ جات 61 تا 74

 

61: شہیدی، 1384، ص344.

62: عیون اخبار الرضا، ج۱۱، صص۱۹۴-۱۹۵؛شہیدی،زندگانی امام جعفر صادق، ص۳۷.

63: صدوق، امالی، ص۹۴

64: صابری، تاریخ فرق اسلامی، ج۲، ص۶۸، بحوالۂ الحیاه السیاسیہ و الفکریہ للزیدیہ فی المشرق الاسلامی، ص۷۷-۷۸ و الوافی بالوفیات، ج۲، ص۳۷-۳۸

65: کشی، ج۲، ص۶۵۲، صدوق، امالی، ۴۳۰-۴۳۱

66: ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۲۳۲-۲۳۳

67: ابن طقطقی، الفخری فی الاداب السلطانیہ، ص۲۰۷-۲۰۸

68: مسعودی، مروج الذہب، ج۳، ص۲۵۴

69؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۴، ص۲۲۵-۲۲۶

70: ابونعیم، حلیۃ الابرار، ج۳، ص۱۹۸؛ ابن طلحه، مطالب السؤل، ص۲۸۶

71: تاریخ طبری، ج۸، ص۸۱؛ ابن طقطقی، الفخری فی الاداب السلطانیہ، ص۲۰۹

72: ذہبی، سیر اعلام النبلا، ج۶، ص۲۶۲

73: ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۱۸۵-۱۸۶

74 پاکتچی، امام جعفر صادق، دائره المعارف بزرگ اسلامی، ج۱۸، ص۱۸۶-۱۸۷