امام صادق(ع) کا عہد امامت 34 برس تھا۔[42] آپ کے ہم عصر خلفاء کے نام: 

 

اموی خلفا:

ہشام بن عبدالملک

ولید بن یزید بن عبدالملک

یزید بن ولید بن عبدالملک ناقص

إبراہیم بن ولید

مروان حمار:یہ آخری اموی حکمران تھا۔اس کے بعد سنہ 132ہجری میں سیاہ لباس والوں نے ابو مسلم خراسانی کی سرکردگی میں خراسان سے قیام کیا جس کے نتیجے میں بنی عباس نے اقتدار سنبھالا۔

 

عباسی خلفا:

عباسی حکمران ابوالعباس سفاح جس نے 4 سال آٹھ مہینوں تک حکومت کی۔

ابو جعفر عبداللہ جس کا لقب منصور عباسی جو ابوالعباس سفاح کا بھائی تھا اور اس نے 21 سال اور گیارے مہینوں تک حکومت کی۔ امام صادق(ع) منصور کی حکومت کے آغاز کے 10 سال بعد شہید کئے گئے۔[43]

 

دلائل امامت

مختلف افراد نے مختلف روایات امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی ہیں جن کے ضمن میں امام باقر(ع) نے اپنے فرزند جعفر صادق(ع) کی امامت پر تصریح و تاکید کی ہے؛ ہشام بن سالم، ابو صباح کنانی، جابر بن یزید جعفی، اور عبد الاعلی مولیٰ آل سام، ان ہی رایوں میں سے ہیں۔ [44]

 

شیخ مفید لکھتے ہیں: امام جعفر صادق(ع) کی جانشینی اور امامت کے سلسلے میں امام باقر(ع) کی وصیت کے علاوہ آپ [امام صادق(ع)] علم و زہد اور عمل کے لحاظ سے بھی اپنے تمام بھائیوں، خاندان کے افراد اور اپنے زمانے کے لوگوں پر برتری رکھتے تھے جو خود آپ کی امامت کی دلیل ہے[45] جبکہ رسول اللہ(ص) کی احادیث میں بھی ائمہ اثنی عشر کے اسما‏ئے گرامی کے ضمن میں آپ کا نام مذکور ہے۔

 

علاوہ ازیں رسول اللہ(ص) سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 آئمۂ شیعہ کے اسمائے گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام صادق آل محمد(ص) جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام سمیت تمام آئمہ(ع) کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[46]

 

علمی تحریک

 

امام صادق (ع):

"ما ضَعُفَ بَدَنٌ عَمّا قَوِيَتْ عَلَيْهِ النِّيَّةُ" (ترجمہ: جب انسان کا عزم و ارادہ قویّ ہو، اس کا بدن عاجز و بے بس نہیں ہوا کرتا)۔

صدوق، من لایحضره الفقیہ، ج4، ص400۔

 

رسول اللہ(ص) کی رحلت کے بعد اور خلفاء کے دور میں جب بھی کسی فقہی مسئلے میں خلیفہ یا صحابۂ رسول(ص) پر عرصۂ حیات تنگ ہوجاتا تھا وہ امام علی علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ ان کا مسئلہ حل کردیتے تھے۔ جب امیر المؤمنین(ع) نے محراب عبادت میں شہادت پائی تو دشمنوں نے آپ کے فرزندوں اور پیروکاروں کے حالات بالکل نامساعد بنادیئے اور عوام اور اہل بیت(ع) کے درمیان حائل ہوگئے۔ دوسری طرف سے دنیا کے عوض دین کا سودا کرنے والوں نے بھی حکام وقت کی خوشنودی یا دنیاوی مفادات کی خاطر روایات و احادیث جعل کرنے کا بازار گرم کیا۔ حالت یہ ہوئی کہ صحیح حدیث کو موضوعہ یا جعلی حدیث سے تشخیص و تمیز دینا فقہاء کے لئے دشوار ہوگیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ سنہ 40 ہجری سے پہلی اسلامی صدی کے آخر تک معدودے چند صحابہ و تابعین کے علاوہ باقی لوگ صحیح فقہ یعنی فقہ آل محمد(ص) سے بے نصیب تھے۔ امام محمد باقر علیہ السلام کے دور میں کسی حد تک فراخی اور امن و سکون کی فضا قائم ہوئی اور امام صادق(ع) کا دور (سنہ 114 ہجری تا 148 ہجری) فقہ آل محمد(ص) کی نشر و اشاعت اور بالفاظ دیگر فقہ جعفریہ کی تعلیم و تدریس کا دور ہے۔ اس دور میں مدینے کا چہرہ بدل گیا تھا۔[47]

 

امام صادق(ع) کا دور امامت اموی ـ مروانی سلطنت کی شکست و ریخت اور سقوط و زوال کا دور تھا اور اس صورت حال نے نہ صرف کافی حد تک سیاسی آزادی کے اسباب فراہم کئے بلکہ گوشوں گوشوں میں دینی تحریکوں اور حکمرانوں کے خلاف گروہ بندیوں کا امکان فراہم ہوا اور مختلف علمی شعبوں میں دینی بحث و تمحیص کی آزادی بھی وجود میں آئی۔[48]

 

امام صادق ؑ نے اپنی اس علمی تحریک کو وسعت دینے کیلئے تین راستے انتخاب کئے :

 

1: مسجد نبوی میں عمومی دروس کا اہتمام کیا جس میں تمام سنی اور شیعہ افراد کو آنے کی اجازت تھی۔

2: خصوصی دروس کا اہتمام جس میں عام طور پر مخصوص افراد شریک ہوتے تھے ۔

3: بحث و مناظرے میں افراد کی تربیت کرنا اور ہشام بن حکم اور مومن طاق جیسے افراد تربیت حاصل کر کے ہر جگہ مذہب حقہ کی تبلیغ کرتے تھے۔[49]

 

مختلف فقہی اور کلامی مسائل میں امام صادق(ع) سے منقولہ روایات کے وسیع اور متنوِّع مجموعے ہیں۔ اسی بنا پر شیعہ مذہب کو مذہب جعفری کہا جاتا ہے۔ امام صادق(ع) کے عہد امامت کے ابتدائی برسوں میں معرض وجود میں آنے والی سیاسی فراخی اور سکون کی فضا کی وجہ سے لوگوں نے زیادہ آزادی کے ساتھ امام صادق(ع) کی طرف رخ کیا اور آپ سے فقہی اور غیر فقہی علمی مشکلات اور مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔[50]

 

اہل بیت(ع) میں سے کسی کے شاگردوں کی تعداد بھی امام صادق(ع) کے شاگردوں کے برابر نہ تھی اور کسی بھی امام(ع) سے منقولہ روایات کی تعداد آپ سے منقولہ روایات کی حد تک نہيں پہنچتی۔ اصحاب حدیث نے امام صادق(ع) سے روایت نقل کرنے والے رواۃ کی تعداد چار ہزار افراد تک لکھی ہے۔ [51]

 

اہل سنت کے علماء میں سے ابن حجر ہیتمی رقمطراز ہے: لوگوں نے آپ کے علم سے اس قدر استفادہ کیا ہے کہ آپ کے علم و دانش کی صدائے بازگشت تمام شہروں تک پہنچ چکی تھی۔ یحیی بن سعید، ابن جریح، مالک، سفیان بن عیینہ، سفیان ثوری، ابوحنیفہ، شعبۃ بن حجاج اور ایوب سختیانی جیسے اکابر ائمہ نے آپ سے روایات نقل کی ہیں۔[52]

 

معتدل عقلانیت

امام جعفر صادق ؑ کے زمانے میں مختلف نظریات اور بعض نظریات عقل سے بھی متصادم تھے۔اہل حدیث علما قرآنی اور حدیثی الفاظ کے الفاظ پر زور دیتے اور ان کے نزدیک معارف دینی کا مرجع اور مآخذ صرف آیات اور احادیث کے الفاظ سمجھتے تھے۔ان کے مقابلے میں معتزلہ اس بات کے قائل تھے کہ اعتقادات دینی استنباط اور کشف میں عقل کا اہم کردار ہے۔ ان دونوں گروہوں کے مقابلے میں امام صادق علیہ السلام کا مکتب تھا جو قرآن و حدیث کی حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے دینی تعلیمات میں عقل سے استفادہ کرتا تھا ۔عقل کے متعلق امام صادق علیہ السلام سے منقول روایات عقل کی اہمیت کی بیانگر ہیں۔

 

تعقّل اور تفکر نہ کرنے والا کامیاب نہیں ہے اور فکر دانش کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔[53]

در عین حال عقل کے کافی نہ ہونے کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

 

جب عقل کی تائید نور کرتا ہے تو انسان دانا اور عقلمند شخص ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں کس طرح؟ کیوں؟ اور کہاں کا جواب حاصل کر لیتا ہے [54]

فقہ

ذہبی نے اہل سنت کے چار مذاہب میں سے مذہب حنفیہ کے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے: "میں نے جعفر بن محمد (ع) سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا"۔[55]

 

اہل سنت کے مذہب مالکیہ کے امام مالک بن انس سے منقول ہے: "میں نے فضل و علم اور زہد و پارسا‏ئی میں کسی کو نہیں دیکھا جو جعفر بن محمد صادق سے برتر ہو"۔[56]زبیر بکار لکھتا ہے: ابو حنیفہ نے کئی بار امام صادق(ع) سے ملاقاتیں کیں۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں امام علیہ السلام نے ابو حنیفہ سے فرمایا: "خدا کا خوف کرو اور دین میں قیاس مت کرو کیونکہ جس نے سب سے پہلے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔ خداوند متعال نے شیطان سے فرمایا: آدم کو سجدہ کرو۔ شیطان نے کہا: میں اس (آدم) سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے خلق کیا ہے اور ان کو مٹی سے۔[57] اس کے بعد امام(ع) نے ابو حنیفہ سے پوچھا: قتل نفس زیادہ اہم ہے یا زنا؟ابو حنیفہ:قتل نفس۔ امام:قتل نفس دو گواہوں کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے اور زنا چار گواہوں کی گواہی سے پس یہاں قیاس کا کیا کرو گے؟ امام: روزہ خدا کے نزدیگ زیادہ بڑا ہے یا نماز؟ ابو حنیفہ:نماز۔ امام:جب عورت حیض کی حالت میں روزہ افطار کرتی ہے تو اسے روزہ قضا کرنا پڑتا ہے جبکہ نماز کی قضا کرنا لازم نہيں ہے؟ امام نے ان سے فرمایا: خدا کا خوف کرو اور قیاس مت کیا کرو۔[58]

 

متکلمین کی تربیت:

 

امام صادق (ع):

فقہاء انبیاء کے امین ہیں، جب تم فقہاء کو صاحبان اقتدار کی درگاہ میں جاتے دیکھو تو انہیں مورد الزام ٹھراؤ (سچا مت سمجھو)۔

شہیدی، 1384، ص106؛ منقول از حلیۃ الاولیاء، ج3، ص196۔

 

شامی کے ساتھ مناظرہ

کلینی اپنی اسناد سے روایت کرتے ہیں کہ یونس بن یعقوب نے کہا: ہم ابو عبداللہ (امام صادق)(ع) کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شامی مرد داخل ہوا اور کہا: میں کلام، فقہ اور فرائض کا عالم ہوں اور آپ کے اصحاب سے مناظرہ کرنے آیا ہوں۔

 

امام(ع) نے فرمایا: تمہارا کلام رسول اللہ(ص) سے ہے یا تمہارا اپنا ہے؟

 

شامی:رسول اللہ(ص) کے کلام سے اور میرے اپنے کلام سے!

 

امام:پس تم رسول اللہ(ص) کے شریک ہو؟

 

شامی:نہیں

 

امام:کیا تم نے خدائے و عز و جل کی وحی سنی ہے اور خدا نے تمہیں خبر دی ہے؟

 

شامی:نہیں۔

 

امام:کیا تمہاری اطاعت رسول اللہ(ص) کی اطاعت کی طرح واجب ہے؟ شامی:نہیں۔

 

راوی کہتا ہے:ابو عبداللہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے یونس یہ مرد کلام میں داخل ہونے سے قبل ہی اپنی ذات کا دشمن ٹہرا۔ اگر تم کلام سے خوب واقف ہو تو اس مرد کے ساتھ بات چیت کرو۔

 

مجھے حسرت ہوئی کیونکہ میں علم کلام نہیں جانتا تھا؛ پس میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں اے فرزند رسول خدا(ص)! میں نے آپ کو کلامی بحث میں داخل ہونے سے روکتے ہوئے سنا تھا اور آپ کہہ رہے تھے کہ وائے ہو ان متکلمین پو جوکہتے ہیں: یہ صحیح ہے وہ صحیح نہیں ہے؛ یہ ہمارے لئے عقل کے حکم پر قابل قبول ہے وہ قابل قبول نہيں ہے!

 

امام(ع) نے کہا: میں نے کہا کہ وائے ہو ان لوگوں پر جو میری بات کو ایک طرف رکھتے ہیں (اور ہم اہل بیت کی باتیں ترک کردیتے ہیں) اور اپنی رائے اور نظر سے بات چیت کرتے ہیں (اور نزاع و جدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں)۔ اس کے بعد فرمایا: باہر نکلو اور دیکھو متکلمین میں سے کوئی نظر آتا ہے؟

 

میں باہر نکلا تو مجھے حُمران بن اعین اور احول (محمد بن نعمان جو مؤمن الطاق کے نام سے مشہور تھا) اور ہشام بن سالم کو اپنے ساتھ اندر لے آیا کیونکہ یہ افراد کلام سے خوب واقفیت رکھتے تھے اور قیس ماصر کو بھی اندر لایا جو میرے خیال میں علم کلام میں اول الذکر افراد پر فوقیت رکھتا تھا اور اس نے کلام امام علی بن الحسین سے سیکھا تھا۔ ہشام بن حَکَم بھی جو ابھی نوجوان ہی تھے، آن پہنچے۔ امام صادق(ع) نے ہشام بن حکم کو بیٹھنے کے لئے جگہ دی اور فرمایا: تم اپنے دل، زبان اور ہاتھ سے ہمارے ناصر و مددگار ہو۔ پھر حمران اور مؤمن الطاق سے کہا کہ شامی مرد کے ساتھ مناظرہ کرو؛ وہ دونوں مناظرے میں کامیاب ہوئے اور پھر آپ نے ہشام بن سالم سے کہا کہ وہ بھی مناظرے میں شامل ہوجائے، ہشام بن سالم نے مناظرہ کیا اور امام(ع) نے "قیس ماصر" کو مناظرے کی دعوت دی اور جب وہ مرد شامی کے ساتھ مناظرہ کررہے تھے امام مسلسل مسکرا رہے تھے کیونکہ وہ شامی شخص بری طرح الجھ چکا تھا۔ امام(ع) نے اس شخص سے فرمایا: اس نوجوان کے ساتھ گفتگو کرو۔ پھر ہشام بن حکم کی باری آئی۔ شامی مرد نے امام صادق(ع) کی امامت کے بارے میں غیر شائستہ انداز سے سوال پوچھا تو ہشام غضبناک ہوا؛ اور مرد شامی سے کہا:

 

تمہارا پروردگار اپنی مخلوق کے کام میں زيادہ خیر اندیشی کرتا ہے یا بندہ اپنے کام میں؟

 

میرا پروردگار زیادہ خیر اندیش ہے مخلوق کے کام میں۔

خدا نے خیر اندیشی کے حوالے سے اپنی مخلوقات کے لئے کیا کیا ہے؟

 

خدا نے حجت اور دلیل قائم کی ہے تاکہ مخلوقات منتشر نہ ہوں اور انہیں ان چيزوں کی خبر دی ہے جو اس کی طرف سے بندوں پر واجب ہیں۔

وہ حجت کیا ہے؟

 

رسول خدا(ص)!

اور رسول اللہ(ع) کے بعد؟

 

کتاب اور سنت.

کیا کتاب و سنت نے اختلافات حل کرنے میں ہمیں کوئی نفع پہنچایا ہے؟

 

ہاں کیوں نہیں!

اگر ایسا ہے تو تمہارے اور ہمارے درمیان اختلاف کیوں ہے کہ تم ہمارے ساتھ مناظرہ کررہے ہو؟

 

شامی خاموش رہ گیا۔ یہاں امام صادق(ع) نے مرد شامی سے پوچھا: بولتے کیوں نہیں ہو؟

 

اگر کہوں کہ ہمارے درمیان اختلاف نہيں ہے تو گویا میں نے جھوٹ بولا ہے اور اگر کہوں کہ کتاب و سنت نے ہمارے اختلافات ختم کرنے میں کردار ادا کیا ہے تو میری یہ بات باطل ہوگی اور اگر کہوں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے اور ہم میں سے ہر ایک حق کا دعویدار ہے، تو کتاب و سنت کی افادیت ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن ہشام کا یہی استدلال میرے فائدے اور ہشام کے نقصان میں ہے!

امام نے فرمایا: پوچھو! اس کو قوی اور مقتدر پاؤ گے۔

 

مرد شامی: خدا بندوں کے کام میں زیادہ خیر اندیش ہے یا بندے اپنے کاموں میں؟

 

خدا!

کیا خدا نے ایسی حجت قرار دی ہے جس کے ذریعے وہ انہیں متحد کرے اور ان کی ناہمواریوں کو ہموار کردے اور حق و باطل کو ان کے لئے بیان کردے۔

 

رسول اللہ(ص) کے دور میں یا آج کے دور میں؟

رسول اللہ(ص) کے دور میں، رسول اللہ(ص) خود ہی حجت تھے؛ لیکن آج کے زمانے میں کون ہے؟

 

ہشام نے امام(ع) کی طرف اشارہ کرکے کہا: یہی، جو مسند پر بیٹھے ہیں؛ اور دنیا بھر سے لوگ ان ہی کی طرف رواں دواں ہیں؛ باپ دادا سے ملنے والی علمی میراث کے وارث ہیں اور زمین و آسمان کی خبریں ہمیں دے رہے ہیں۔

مرد شامی نے کہا: میں کس طرح اس بات پر یقین کروں؟

 

ہشام نے کہا: جو چاہو ان سے پوچھو۔

شامی نے کہا: تم نے میرے لئے ایک عذر چھوڑ دیا چنانچہ مجھ پر لازم ہے کہ ان سے پوچھوں۔ امام(ع) نے فرمایا: اے مرد شامی! کیا تمہیں تمہارے سفر کی روداد سناؤں؟ اور پھر آپ نے اس کو اس کے سفر کے واقعات سنانا شروع کر دیئے کہ ایسا ہوا اور ویسا ہوا اور مرد شامی سرور و شادمانی کے ساتھ تصدیق کرتا رہا اور کہتا رہا کہ "آپ صحیح فرما رہے ہیں"، خدا کی قسم! میں اب اسلام لایا۔

 

امام صادق(ع) نے فرمایا: نہیں، اب تم خدا پر ایمان لائے، اسلام ایمان سے پہلے آتا ہے؛ اسلام کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کا ارث پاتے ہیں، نکاح و ازدواج کرتے ہیں اور ایمان کے ذریعے اپنے اعمال کا ثواب پاتے ہیں۔ تم اس سے قبل خدا اور پیغمبر(ص) پر اسلام رکھتے تھے اور تم مسلمان تھے لیکن تمہیں تمہارے ایمان کا ثواب نہيں مل رہا تھا اور اب تمہیں ثواب بھی ملے گا۔

 

شامی نے کہا: آپ درست فرما رہے ہیں: "فَأَنَا السّاعَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلّا اللّهُ وَ أَنّ مُحَمّداً رَسُولُ اللّهِ ص وَ أَنّكَ وَصِيّ الْأَوْصِيَاءِ"؛ (ترجمہ: کوئی بھی بندگی کا لائق نہيں ہے سوائے االلہ کے، بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ اللہ کے رسول ہیں اور بے شک آپ اوصیاء کے وصی اور جانشینان رسول(ص) کے جانشین ہیں)۔[59]

 

اس طرح کے مناظرے امام صادق(ع) اور دشمنوں کے درمیان بکثرت نقل ہوئے ہیں اور یہ مناظرے علم امامت کے عظیم مرتبہ کو نمایاں کرتے ہیں اور ان مناظروں سے مناظرین کی مہارت اور علم کلام نیز بحث کے مقدمات سے ان کی واقفیت ظاہر ہوتی ہے۔[60]

 

حوالہ جات 42 تا 60

 

42: المفید، 1380ش. ص527.

43: طبرسی، اعلام الوری، ج1، 1417ق، ص514.

44: ر.ک: المفید، الارشاد صص526-527.

45: مفید، الارشاد صص528-527.

46: مفید، الاختصاص، ص211؛ منتخب الاثر باب ہشتم ص97؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص182-181؛ عاملی، اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص 285۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سورہ نساء کی 59ویں آیت ِاطیعوااللہواطیعوا الرسول و اولی الامر منکم نازل ہوئی تو رسول اللہ(ص) نے 12 ائمہ کے نام تفصیل سے بتائے جو اس آیت کے مطابق واجب الاطاعہ اور اولو الامر ہیں؛ بحارالأنوار ج 23 ص290؛ اثبات الہداة ج 3،‌ ص 123؛ المناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص 283۔ سورہ علی(ع) سے روایت ہے کہ ام سلمہ کے گھر میں سورہ احزاب کی 33ویں آیت انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا نازل ہوئی تو پیغمبر نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے کہ وہ اس آیت کا مصداق ہیں؛ بحارالأنوار ج36 ص337، کفایةالأثر ص 157۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہ(ص) کے جانشینوں کے نام پوچھے تو آپ(ص) نے بارہ اماموں کے نام تفصیل سے بتائے۔ سلیمان قندوزی حنفی، مترجم سید مرتضی توسلیان، ینابیع المودة، ج 2، ص 387 – 392، باب 76۔

47: شہیدی، 1384، ص60.

48: شہیدی، 1384، ص47.

49: قریشی، نقش امام صادق در تربیت محدثین، مجموعہ مقالات ہمائش امام جعفر صادق، ص۱۰۰

50: شہیدی، 1384، ص611.

51: کشف الغمة، ج22، ص166؛ بحوالہ شہیدی، 1384، ص61.

52: احمد بن حجر ہیتمی، 1385ه. ق. ص201۔

53: کلینی، کافی، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۲۶

54: کلینی، کافی، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۲۵

55: عبداللہ بن عدی ،الکامل، 2/132۔

56: شہیدی، زندگانی امام جعفر صادق، ص60-61۔

57: "قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ٭ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ" ۔(ترجمہ: ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، اس پر ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا ٭ ارشاد ہوا کس چیز نے تجھے منع کیا جو تو سجدہ نہ کرے باوجودیکہ میں نے تجھے حکم دیا۔ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے)۔(سورہ اعراف آیات 11 و 12)۔

58: الاخبار الموفقیات، ص76-77؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص1۹7؛ به نقل شہیدی،زندگانی امام جعفر صادق، ص62.

59: اصول کافی، ج11، ص171-173؛ مناقب، ج2، ص243-244؛ کشف الغمہ، ج2، صص173-175؛ امین الاسلامی طبرسی، اعلام الوری، صص280-283۔

60: شہیدی، 1384، ص577.