نسب، کنیت ، لقب
نسب:جعفر بن محمدبن علی زین العابدین بن حسین بن علی بن ابی طالب۔
آپ کی والدہ کا نام فاطمہ یا قریبہ اور کنیت ام فروہ ہے۔[2]ام فروہ قاسم بن محمد بن ابی بکر کی بیٹی تھیں.[3] شیعیان آل رسول(ص) کے چھٹے امام اور امیرالمؤمنین(ع) کی نسل سے پانچویں امام ہے۔ ایک ضعیف روایت میں آپ کی والدہ کو حضرت ابو بکر کی بیٹی کہا گیا ہے اور اس بنا پر اس قول ولدنی ابو بکر مرتین کو امام صادق سے منسوب کیا جاتا ہے۔ (جو الگ سے پوسٹ کی جائے گی)
کنیت:آپ کی مشہور کنیت "ابو عبداللہ" ہے نیز "ابو اسماعیل"[4]ابو موسی[5] بھی منقول ہے۔
لقب: لقب "صادق" ہے۔ آپ کے دیگر القاب میں صابر، طاہر اور فاضل شامل ہیں لیکن چونکہ آپ کے ہم عصر غیر شیعہ فقہا اور محدثین نے صدق حدیث اور نقل روایت میں آپ کی صداقت کی تعریف و تمجید کی ہے اور یوں آپ کے لقب "صادق" کو زیادہ شہرت ملی ہے۔[6]
انگشتری کے نقش: امام جعفر صادق علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش:اللّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۔[7] اور "اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِی فَقِنِی شَرَّ خَلقِكَ"۔[8] منقول ہیں۔[9]
ولادت اور شہادت
ولادت
امام صادق(ص)کی ولادت ربیع الاول[10] یا رجب [11] کے مہینے میں پیر [12] یا جمعہ[13] کے روز 177 ربیع الاول[14]سن ولادت 80 [15] یا 83[16]یا 86 [17] منقول ہے اور آپ کا مقام ولادت مدینہ [18] ہے۔
گھر جلانا
کافی اور مناقب علی بن ابی طالب میں مفضل بن عمر کی روایت کے مطابق حسن بن زید نے مدینے پر حاکمیت کے دوران منصور کے حکم پر حضرت امام جعفر صادق کے گھر جلانے کا اقدام کیا [19]۔
لیکن مؤرخین میں مشہور ہے کہ حسن بن زید 150ق[20] میں منصور عباسی کی طرف سے مدینے اور مکے کا والی بنا یا بعض نے اسکے والی بننے کا سال رمضان/149ق[21] ذکر کیا ہے جبکہ حضرت امام صادق علیہ السلام کی شہادت کا مشہور سن 148ق مذکور ہے ۔
شہادت
کتاب فصول المہمہ اور مصباحِ کفعمی[22] نیز دیگر کتب میں مروی ہے کہ آپ کو مسموم کرکے شہید کیا گیا۔ ابن شہرآشوب نے مناقب میں لکھا ہے: [عباسی بادشاہ] ابو جعفر منصور نے آپ کو148ق [23] میں زہر کھلایا۔[24] اگرچہ اس سے پہلے 1477ق میں حج کے موقع پر مدینہ آیا تو اس وقت بھی امام صادق ؑ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اسے عملی جامہ نہ پہنا سکا ۔[25] کیونکہ منصور امام صادق(ع) کے خلاف دل میں کینہ بسائے ہوئے تھا اور لوگوں کے آپ کی طرف متوجہ ہونے سے خوفزدہ ہونے کے باعث چین سے نہيں بیٹھ سکتا تھا۔ جو لوگ منصور کی زندگی سے آگہی رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ اس نے ان لوگوں پر بھی رحم نہيں کیا جنہوں نے اس کو مسند خلافت تک پہنچانے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی تھی اور حتی عباسی سلطنت کے قیام کے لئے بہت زيادہ کوششیں کرنے والے ابو مسلم خراسانی تک کو قتل کردیا تھا۔[26] بعض نے امام(ع) کی شہادت کا سال 146ہجری [27] اور 147ہجری قمری[28] بھی ذکر کیا ہے ۔
آپ کی شہادت کا مہینہ شوال [29] یا رجب کی 15 تاریخ[30] اور پیر[31] کادن مذکور ہے جبکہ جنات الخلود میں رجب کی 25 لکھی گئی ہے۔[32]
مدینہ کے مشہور قبرستان بقیع میں آپ کے مدفون ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔[33]
شہادت کے وقت آپ کا سن مبارک مشہور قول کی بنا پر 65سال[34] نیز 66 [35]، 68[36] اور 69[37] بھی ذکر ہوئے ہیں۔
ازواج و اولاد
ازواج
آپ کے چچا کی بیٹی فاطمہ بنت حسین بن علی بن الحسین آپ کی زوجۂ مکرمہ اور آپ کے تین بچوں کی ماں ہیں؛ علاوہ ازیں آپ کی ایک کنیز آپ کے دوسرے تین بچوں کی ماں ہیں جبکہ آپ کی دوسری زوجات آپ کے دوسرے بچوں کی مائیں ہیں۔[38]
اولاد
شیخ مفید نے امام صادق علیہ السلام کی دس اولادوں کے نام یوں ذکر کئے ہیں:[39]
. اسماعیل، عبداللہ، ام فروہ؛ان کی والدہ فاطمہ بنت حسین بن علی بن حسین تھیں۔
۔ امام موسی کاظم علیہ السلام، اسحق اور محمد، ان کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
. عباس، علی، اسماء و فاطمہ؛ جو مختلف ماؤوں سے ہیں۔
امین الاسلام طبرسی رقمطراز ہیں: موسی(ع)، اسحق، فاطمہ اور محمد ایک ماں سے ہیں جن کا نام حمیده البربریہ تھا۔[40]
اسمعیل بن جعفر امام صادق(ع) کے بڑے فرزند تھے اور امام(ع) ان سے بہت زيادہ محبت کرتے تھے اور شیعیان آل رسول(ص) میں سے ایک گروہ کا خیال تھا کہ وہ امام(ع) کے جانشین ہیں لیکن وہ امام(ع) کی حیات میں ہی وفات پاگئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ مروی ہے کہ امام صادق(ع) اسمعیل کی وفات پر سخت مغموم و بےچین ہوئے اور پا برہنہ عبا [یا ردا] کے بغیر جنازے کے آگے آگے چلے جارہے تھے اور آپ نے تدفین سے قبل کئی مرتبہ میت زمین پر رکھوا دی اور اس کے جسم سے کفن اٹھایا؛ امام(ع) اس کی چہرے کو دیکھتے اور حاضرین سے فرماتے کہ دیکھ لیں تا کہ اسماعیل کو امام صادق کا جانشین سمجھنے والے لوگ یقین کرلیں کہ وہ دنیا سے چلے گئے ہیں۔[41]
حوالہ جات 2 تا 41
2: شہیدی، 1384، ص5۔
3: المفید، 13800ش. صص526-527
4: اربلی،کشف الغمہ 2/368۔
5: ابو خشاب بغدادی،تاریخ موالید الائمہ(المجوعہ) 32
6: شہیدی، 1384، ص33.
7: اللہ ہر چیز کا خلق کرنے والا ہے: کلینی، الکافی، ج 6، ص 473۔
8: خداوندا تو میرا سہارا اور قابل اعتماد ہے پس اپنی مخلوق کے شر سے مجھے محفوظ رکھ: کلینی، وہی ماخذ۔کلینی، الکافی، ج 6، ص 473
9: نوری، حسین بن محمدتقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج3، ص302۔ابن حیون، نعمان بن محمد، دعائم الإسلام، ج2، ص165۔
10: ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400
11: رمضان لاوند - الإمام الصادق (ع) ، علم وعقيدة -ص 27 - 28
12: فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212. ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400. تاج المواليد (المجموعة) - الشيخ الطبرسي - ص 43
13: مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400.۔فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212 ۔تاج المواليد (المجموعة) - الشيخ الطبرسي - ص 43
14: ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400۔فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212 ۔ شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 43 شيخ طبرسي ،إعلام الورى بأعلام الہدى -- ج 1 - ص 514 - 516
15: طبرسی،تاج الموالید42۔عمدۃ الطالب - ابن عنبہ - ص 195۔كشف الغمہ - ابن أبي الفتح الإربلي - ج 2 - ص 368۔الفصول المہمہ في معرفہ الأئمہ - ابن الصباغ - ج 2 - ص 910۔رمضان لاوند - الإمام الصادق (ع) ، علم وعقيدة -ص 27 - 28
16: طبری،دلائل الامامہ 246۔الكافي - الشيخ کلینی - ج 1 - ص 472۔الفتال النيسابوري -روضہ الواعظين - ص 212۔الإرشاد - الشيخ المفيد - ج 2 - ص 179 - 180۔مناقب آل أبي طالب - ابن شہر آشوب - ج 3 - ص 399 - 400۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدى - ج 1 - ص 514 - 516
17: ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400
18: شيخ مفيد -الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180۔مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400. فتال نيسابوري ،روضۃ الواعظين - ص 212۔ابن أبي الفتح إربلي -كشف الغمہ - ج 2 - ص 368۔ابن الصباغ - الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 910۔ شيخ طبرسي - تاج المواليد (المجموعة) -ص 43۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدى - ج 1 - ص 514 - 516
19: کلینی،الکافی1/473 باب مولد ابی جعفر۔ابن شہر آشوب، مناقب علی بن ابی طالب3/362۔
20: ابن شبہ،تاریخ المدینہ1/17۔طبری ،تاریخ طبری 6/284۔تاریخ کامل 5/593۔ذہبی،تاریخ الاسلام9/54۔
21: ابن خیاط،تاریخ خلیفہ،353۔
22: مجلسی، بحارالانوار، ج47، صص1-2؛ بحوالہ شہیدی، 1384، ص85۔
23: شيخ كليني -الكافي - ج 1 - ص 472۔ قاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308۔ شیخ مفید-الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180۔ فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔ حسين بن حمدان -خصيبي -الہدایۃ الكبرى - ص 246 - 247۔ ابن عنبہ -عمدۃ الطالب - ص 195۔على بن محمد العلوي -المجدي في أنساب الطالبين - ص 94۔يعقوبي -تاريخ اليعقوبي - ج 2 - ص 381۔ شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516۔ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
24: مناقب، ج4، ص280؛ بحوالہ شہیدی، 1384، ص85۔
25: اربلی،کشف الغمہ،2/371۔
26: شہیدی، 1384، صص85-86.
27: المعارف، ص2155؛ بحوالہ نقل شہیدی، 1384، ص4۔
28: ابن عنبہ -عمدۃ الطالب - ص 195
29: شیخ مفید-الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180۔ شيخ كليني -الكافي - ج 1 - ص 472 ج 1 - ص 472۔ فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45 ۔ ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516۔ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
30: فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45۔ابن شہر آشوب -مناقب آل أبي طالب - ج 3 - ص 399 - 400۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516
31: شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45
32: رمضان لاوند -الإمام الصادق (ع) ، علم وعقيدة - ص 27 - 28
33: قاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308۔شیخ مفید-الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔حسين بن حمدان -خصيبي -الہدایۃ الكبرى - ص 246 - 247 ۔شيخ طبرسي -تاج المواليد (المجموعة) - ص 44 - 45۔يعقوبي -تاريخ اليعقوبي - ج 2 - ص 381۔شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516۔ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
34: شيخ كليني -الكافي - ج 1 - ص 472۔ فتال نيسابوري -روضۃ الواعظين - ص 212۔ حسين بن حمدان خصيبي -الہدایۃ الكبرى - ص 246 - 247۔شيخ مفيد -الإرشاد - ج 2 - ص 179 - 180.شيخ طبرسي -إعلام الورى بأعلام الہدی - ج 1 - ص 514 - 516
35: يعقوبي -تاريخ اليعقوبي - ج 2 - ص 381
36: لقاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308 .ابن الصباغ -الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمہ- ج 2 - ص 927 - 929
37: لقاضي نعمان مغربي - شرح الأخبار -ج 3 - ص 307 - 308
38: مفید،الارشاد ص53.
39: مفید، الارشاد ص553.
40: الطبرسی، إعلام الورى بأعلام الهدى ج1، ص546.
41: مفید، الارشاد، ص553-554.