Back to اہلِ کوفہ کون تھے؟

بریلوی عالم فیض احمد اویسی اور کوفہ/اہل کوفہ کا تعارف

بریلوی عالم فیض احمد اویسی اور کوفہ/اہل کوفہ کا تعارف

٭بریلوی عالم فیض احمد اویسی اور کوفہ/اہل کوفہ کا تعارف٭

 

قارئین کرام۔۔۔ جیسا آپ جانتے ہوں گے کہ شیعہ مخالف مولویان اپنے اسلاف اور اجداد کی حفاظت کے لئے پورا الزام قتل سید الشہداء ع کوفی شیعوں پر ڈال دیتے ہیں اور بتلانا چاہتے ہیں کہ یزید اور پیروکان یزید اس سے مبرا ہیں۔ اس بحث میں ہم آج نہیں جاتے کیونکہ یہ کافی لمبا موضوع ہے۔ لیکن آج ہم کچھ اقتباسات فیض احمد اویسی کی کتاب سے پیش کرنا چاہتے ہیں اہل کوفہ اور کوفہ کے حوالہ سے۔ فیض احمد اویسی جو شاید بریلوی مذہب کے علامہ سیوطی ہوں وہ اپنے ایک کتابچہ 'کوفی لا یوفی' میں کافی شرح و بسط کے ساتھ اس موضوع پر لکھتے ہیں۔ ذیل میں بعض اقتباسات بندہ احقر نے نقل کئے ہیں تاکہ استفادہ عام رہے۔۔۔۔:

 

1، وہابی اور شیعوں کی غلطی ہے کہ کوفہ کے لوگ بے وفا (غدار) ہوتے ہیں۔۔ ص 3

 

2، تواریخ میں ہے کہ شہر کوفہ کو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے 17 ہجری میں بسایا۔ ص 3

 

3، ایک زمانہ تھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کوفہ کو 'کنزالایمان' (ایمان کا خزانہ)، 'راس الاسلام' اور 'راس العرب' کہا کرتے تھے۔۔ ص 9

 

4، کوفیوں کا پہلا طبقہ اصحاب ابن مسعود کا ہے اور کوفہ کے قاضی شریح و ابوعبیدہ وغیرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کو ترجیح دیتے تھے۔۔ ص 9 

 

5، اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت کے کوفی (یعنی قاضی شریح کے دور کے از ناقل) اسی ترتیب خلافت کے معتقد تھے جو اہلسنت میں مسلم ہے۔۔ ص 10

 

6، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پہلے شیعہ تو ہم ہی اہلسنت ہیں۔ ص 11

 

7، کوفہ کے مٹھی بھر شیعوں کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کی اکثریت نے بھی امام عالی مقام رضی اللہ عنہ (یعنی امام حسین ع از ناقل) کو خط لکھے تھے۔ یہی حسب معمول اپنے آپ کو محبان اہلبیت ظاہر کرتے تھے۔ اسی سواد اعظم نے بے وفائی کی ورنہ حبیب و ہاتی رحمتہ اللہ علیہ و امثالھم نے امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی نصرت سے دریغ نہیں کیا۔ ص 12

 

8، (فیض اویسی ایک مکالمہ نقل کرتے ہے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ اور عزرہ بن قیس ملعون کا)۔۔ عزرہ نے کہا، اے زہیر! تو تو ہمارے نزدیک اہلبیت نبوی کے شیعوں میں سے نہ تھا۔ تو تو عثمانی تھا۔ (آج کیا ہوا؟)۔۔ ص 14

 

9، تاریخ گردانے پر ثابت ہوتا ہے کہ کوفہ میں کیسے کیسے جواہر اور اسلام کے نامور بزرگ تھے۔۔ ص 15

 

10، یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اہل کوفہ کی امام حسین رضی اللہ عنہ کے لئے جان نثاری و وفاشعاری کے بعد 'کوفی لا یوفی' کا محاورہ ایک گستاخی محسوس ہوتا ہے۔ ص 16-17

 

تبصرہ: ان دس اقتباس سے واضح ہوگیا ہوگا کہ اہل کوفہ میں بہت گنی چنی تعداد شیعوں کی تھی بلکہ سواد اعظم غیر شیعہ تھا۔۔ اس کے ساتھ ساتھ پورا کوفہ نے دغا نہیں کی بلکہ ایک تعداد نے امام حسین ع کی مدد کی تھی۔ کوفہ اسلام کا مرکز ہے اور اس زمانہ میں موجودہ شیعوں کا وجود ایسا نہ تھا جیسے کہ بتایا جاتا ہے بلکہ اس زمانہ میں عمر کی رائے کو امیر المؤمنین ع کی رائے پر ترجیح دی جاتی تھی۔۔ تو قارئین اب جب بھی قاتلین حسین کے مذہب پر مناقشہ ہو تو دس اقتباسات بریلوی بھائیوں کی نظر ضرور کریں۔

 

خیر طلب۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1