🔴 اہل سنت محدث سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا عقیدہ 🔴
📜 وَقَالَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ فقلت لعبد الرزاق: ما رأيك أنت. فأبى أَنْ يُخْبِرَنِي.
وَقَالَ: كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ثم يسكت.
قال عبد الرزاق: قَالَ لَنَا سُفْيَانُ: أُحِبُّ أَنْ أَخْلُوَ اللَّيْلَةَ بِأَبِي عُرْوَةَ.
قَالَ: فَقُلْنَا لِمَعْمَرٍ: اشْتَهَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَنْ يَخْلُوَ بِكَ لَيْلَةً. قَالَ: نَعَمْ.
قَالَ: فَخَلَا بِهِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ: يَا أَبَا عُرْوَةَ كَيْفَ رَأَيْتَهُ؟
قَالَ: هُوَ رَجُلٌ إِلَّا أَنَّكَ قَلَّمَا تُكَاشِفُ كُوفِيًّا إِلَّا وَجَدْتَ فِيهِ. - كَأَنَّهُ يُرِيدُ التَّشَيُّعَ-
ترجمہ:
📃 ابن ابی السری بیان کرتے ہیں
میں نے امام عبدالرزاق الصنعانی سے پوچھا : آپ کی اس پر کیا رائے ہے (کہ عثمان افضل ہے یا علیؐ) ؟
تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔
اور انہوں نے کہا : سفیان ثوری کہا کرتے تھے : ابوبکر اور عمر پھر خاموش ہوجاتے تھے ۔
امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں :
ہمیں سفیان ثوری نے بتایا : میں نے خواہش کی کہ ابو عروہ یعنی معمر کے ساتھ تنہائی میں ایک شب ملاقات ہو ۔
امام عبدالرزاق فرماتے ہیں : ہم نے معمر سے عرض کی کہ ابو عبداللہ آپ سے شب کی تنہائی میں ملاقات کی گزارش کی تو انہوں نے اجازت فرمائی ۔
امام عبدالرزاق فرماتے ہیں : پھر ان دونوں کی ملاقات ہوئی ، پھر جب صبح ہوئی تو میں نے معمر سے عرض کیا : یا ابا عروہ ! آپ نے انہیں کیسا پایا ؟
فرمایا: وہ بھی ایک شخص ہے ، پر تم کسی بھی کوفی کو ٹٹولو گے تو اس میں یہ چیز ضرور پائو گے
گویا انہوں نے " تشیع " کی طرف اشارہ کیا ۔
📚 المعرفه والتاريخ (الفسوي، يعقوب بن سفيان) ج 2 ص 806
نوٹ: اہل کوفہ کو شیعہ اسلئے کہا جاتا تھا کہ وہ ابوبکر و عمر کے بعد عثمان کے بجائے امام علی ع کو افضل مانتے تھے اسلئے اہل کوفہ شیعان علی کے نام سے جانے جاتے تھے (ورنہ کوفہ والے بس تفضیلی تھے نہ کہ رافضی)
اس موضوع " تشیع اور رافضی کے فرق " پر انشاءﷲ الگ سے تحریریں آئیں گی ۔ بشرط زندگی
تعلیماتِ اہلبیتؑ
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen