Back to اہلِ کوفہ کون تھے؟

معاویہ نے اپنے دور حکومت میں کوفہ پر ایسے ناسبی گورنر مقرر کئے جو امام ع پر لعن طعن کرتے اور اہل کوفہ کو اہلبیتؑ سے دور رکھتے (تاکہ لوگ معاویہ کی پالیسی پر چلیں)

معاویہ نے اپنے دور حکومت میں کوفہ پر ایسے ناسبی گورنر مقرر کئے جو امام ع پر لعن طعن کرتے اور اہل کوفہ کو اہلبیتؑ سے دور رکھتے (تاکہ لوگ معاویہ کی پالیسی پر چلیں)
معاویہ نے اپنے دور حکومت میں کوفہ پر ایسے ناسبی گورنر مقرر کئے جو امام ع پر لعن طعن کرتے اور اہل کوفہ کو اہلبیتؑ سے دور رکھتے (تاکہ لوگ معاویہ کی پالیسی پر چلیں)
معاویہ نے اپنے دور حکومت میں کوفہ پر ایسے ناسبی گورنر مقرر کئے جو امام ع پر لعن طعن کرتے اور اہل کوفہ کو اہلبیتؑ سے دور رکھتے (تاکہ لوگ معاویہ کی پالیسی پر چلیں)

🔴 معاویہ نے اپنے دور حکومت میں کوفہ پر ایسے ناسبی گورنر مقرر کئے جو امام ع پر لعن طعن کرتے اور اہل کوفہ کو اہلبیتؑ سے دور رکھتے (تاکہ لوگ معاویہ کی پالیسی پر چلیں) 🔴

 

جب معاویہ نے حکومت پر قبضہ کیا

تو اس نے شام کے نواسب (اہلِ بیتؑ دشمنوں) کو کوفہ میں لا کر بسایا۔اور انہیں حکومت کے قریب کر دیا۔

 

پھر انہیں حکم دیا کہ ایسی پالیسی اپنائیں

جس کے ذریعے آنے والی کوفی نسل کے ذہنوں کو دھویا جائے، اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کی گالی کو عام کیا جائے، اور جہاں تک ممکن ہو، شیعوں کو قتل کیا جائے، یا انہیں کوفہ سے نکال کر جلاوطن کیا جائے؛ تاکہ کوفہ کے دین کو بدل دیا جائے بالکل ویسے ہی جیسے صلاح الدین ایوبی نے مصر میں کیا تھا۔

 

لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوفہ ان کے لیے ہمیشہ ایک "کٹھن اور نافرمان شہر" رہا اور وہ اس پر مکمل قابو نہ پا سکے،

چاہے جتنا بھی ظلم و طغیان کر لیا ہو۔

 

ہاں! انہوں نے کوفہ کی بدنامی ضرور پھیلائی،

یہاں تک کہ مشہور ہو گیا:

 

"کوفیوں نے حسینؑ کو قتل کیا"

"کوفیوں نے علیؑ کو سبّ و شتم کیا"

 

حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ

 

یہ سب کچھ کوفہ کے اصلی باشندوں نے نہیں کیا تھا،

بلکہ یہ سب کچھ کوفہ کے وہ قابض دشمن کر رہے تھے

جو وہاں کے اصل اہلِ وفا (شیعہ) نہیں تھے،

بلکہ نواسب اور یزیدی تھے جنہیں زبردستی وہاں بسا دیا گیا تھا۔

 

جیسا کہ روایت ہے احمد بن حنبل کی کہ 

 

📜 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حُصَيْنٌ: أَخْبَرَنَا عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الْكُوفَةِ، اسْتَعْمَلَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: فَأَقَامَ خُطَبَاءَ يَقَعُونَ فِي عَلِيٍّ، 

 

📃 ہم سے علی بن عاصم نے روایت کی،

انہوں نے کہا: حصین نے ہمیں خبر دی ہلال بن یساف سے،

انہوں نے عبداللہ بن ظالم مازنی سے روایت کی،

انہوں نے کہا:

 

👈🏻 جب معاویہ کوفہ سے نکلا تو اس نے مغیرہ بن شعبہ کو گورنر بنایا،

👈🏻👈🏻 تو اس نے خطیب مقرر کیے جو علیؑ پر طعن کرتے تھے۔

 

✅ اسناد حسن

 

📚 احمد بن حنبل ، ج۳، ص ۱۷۵

 

💡 اہم نکتہ: یہ روایت واضح کرتی ہے کہ

 

معاویہ اور اس کے گورنر مغیرہ بن شعبہ نے کوفہ میں حضرت علیؑ کی گالی کو "سرکاری پالیسی" بنا رکھا تھا۔

 

اور 

 

اہل کوفہ کو اہلبیتؑ سے دور رکھا جاتا تھا (تاکہ لوگ معاویہ کی پالیسی اپنا لیں) جیسا کہ روایت ہے

 

📜 حجب الوليد بن عتبة بن أبي سفيان أهل العراق عن الحسين ، فقال له الحسين : «يا ظالماً لنفسه ، عاصياً لربّه ، علامَ (((تحول بيني وبين قوم عرفوا من حقّي ما جهلته))) أنت وعمّك؟». فقال الوليد : ليت حلمنا عنك لا يدعو جهل غيرنا إليك ، فجناية لسانك مغفورة ما سكنت يدك ، فلا تخطر بها فنخطر بك

 

📃 ولید بن عتبہ بن ابی سفیان نے اہلِ عراق کو امام حسینؑ سے روک دیا،

تو امام حسینؑ نے اس سے فرمایا:

"اے اپنی جان پر ظلم کرنے والے، اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے!

کس بات پر تو اور تیرا چچا (معاویہ) میرے اور ان لوگوں (اہل کوفہ کے خالص شیعوں) کے درمیان رکاوٹ بن رہے ہو

جنہوں نے میرا وہ حق پہچان لیا ہے جو تم نہیں جانتے؟!"

 

ولید نے کہا:

"کاش ہماری بردباری تمہارے بارے میں ایسی نہ ہوتی

کہ دوسروں کی جہالت تمہیں ہم تک پہنچا دے۔

تمہاری زبان کی سختی اُس وقت تک معاف ہے جب تک تمہارا ہاتھ خاموش ہے،

خبردار! کسی حرکت کی کوشش نہ کرنا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ وہی کریں۔"

 

👈🏻 یہ معاویہ کی طرف سے 57 سے 60 ہجری تک مدینہ کا گورنر تھا۔

 

نوٹ:

امام حسینؑ یہاں اہلِ عراق (یعنی اصل شیعہ اور وفادار کوفیوں) کی تعریف فرما رہے تھے،

اور ولید، امام حسینؑ کو ان لوگوں سے کاٹنے کی کوشش کر رہا تھا

جو کہ دراصل معاویہ کی پالیسی کا شکار بن چکے تھے،

یعنی نواصب اور اہلِ بیتؑ کے مخالفین۔

 

#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #تبدیلی_ممنوع #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3