عراقی لوگ تحقیق، ذہانت، غور و فکر، اور تلاش والے لوگ ہیں۔
عراقی لوگ تحقیق، ذہانت، غور و فکر، اور تلاش والے لوگ ہیں۔
📜 وقال أبو عثمان الجاحظ: العلة في عصيان أهل العراق على الأمراء وطاعة أهل الشام أن أهل العراق أهل نظر وذوو فطن ثاقبة، ومع الفطنة والنظر يكون التنقيب والبحث، ومع التنقيب والبحث يكون الطعن والقدح والترجيح بين الرجال، والتمييز بين الرؤساء، وإظهار عيوب الأمراء. وأهل الشام ذوو بلادة وتقليد وجمود على رأي واحد، لا يرون النظر، ولا يسألون عن معيب الأحوال.
وما زال العراق موصوفاً أهله بقلة الطاعة، وبالشّقاق على أولي الرئاسة.
📃 ابو عثمان جاحظ نے کہا: عراقیوں کی اپنے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی وجہ اور شامیوں کی حکمرانوں کی اطاعت کی وجہ یہ ہے کہ عراقی لوگ غور و فکر کرنے والے، گہری سمجھ بوجھ رکھنے والے اور ذہین ہوتے ہیں۔
اور جہاں فطانت (ذہانت) اور غور و فکر ہو، وہاں تحقیق اور کھوج ہوتی ہے۔
اور تحقیق و کھوج کے ساتھ، تنقید، عیب جوئی، لوگوں کے درمیان ترجیح، سربراہوں میں امتیاز، اور حکمرانوں کی خامیاں ظاہر کرنا بھی آتا ہے۔
جبکہ شامی لوگ سادہ لوح، تقلید کرنے والے، اور ایک ہی رائے پر جمے رہنے والے ہوتے ہیں۔
نہ غور و فکر کرتے ہیں، نہ حالات کے نقص و عیب کی تحقیق کرتے ہیں۔
عراق ہمیشہ سے ہی کم اطاعت اور حکمرانوں کے ساتھ اختلاف رکھنے کے وصف سے مشہور رہا ہے۔
📚 کتاب اہلسنت شرح نہج البلاغہ ۔ مولف ابن ابی الحدید
Gallery
Tap any image to view full screen