Back to اہلِ کوفہ کون تھے؟

عراق کے اہلِ حق شیعہ و مومنین کا مختلف شہروں میں تعاقب اور ان سے چھٹکارا پانے کی بنو امیہ کی پالیسی

عراق کے اہلِ حق شیعہ و مومنین کا مختلف شہروں میں تعاقب اور ان سے چھٹکارا پانے کی بنو امیہ کی پالیسی

عراق کے اہلِ حق شیعہ و مومنین کا مختلف شہروں میں تعاقب اور ان سے چھٹکارا پانے کی بنو امیہ کی پالیسی

 

📜 وذكر أبو عاصم عن عمر بن قيس، قال: كتب الحجاج إلى الوليد: أن أهل النفاق والشقاق قد لجئوا إلى مكة، فإن رأى أمير المؤمنين أن يأذن لي فيهم! فكتب الوليد إلى خالد بن عبد الله ، فأخذ عطاء وسعيد بن جبير ومجاهد وطلق بن حبيب وعمرو بن دينار، فأما عمرو بن دينار وعطاء فأرسلا لأنهما مكيان، وأما الآخرون فبعث بهم إلى الحجاج، فمات طلق في الطريق، وحبس مجاهد حتى مات الحجاج.

 

📃 ابو عاصم نے عمر بن قیس سے روایت کی:

حجاج بن یوسف نے ولید بن عبد الملک (خلیفہ) کو خط لکھا:

 

’’اہلِ نفاق و شقاق (یعنی وہ لوگ جو ہمارے خلاف ہیں) مکہ کی طرف پناہ لے چکے ہیں۔

اگر امیرالمؤمنین مناسب سمجھیں تو مجھے اجازت دی جائے کہ ان کے بارے میں کارروائی کروں۔‘‘

 

ولید نے خالد بن عبد اللہ قسری کو لکھا (جو اس وقت مکہ یا عراق کا گورنر تھا)۔

 

اس نے عطاء بن أبی رباح، سعید بن جبیر، مجاہد، طلق بن حبیب، اور عمرو بن دینار کو گرفتار کر لیا۔

 

▪ عطاء اور عمرو بن دینار کو رہا کر دیا گیا کیونکہ وہ مکہ کے رہائشی تھے۔

 

▪ باقی افراد کو حجاج کے پاس بھیجا گیا:

– طلق بن حبیب راستے میں وفات پا گئے۔

– مجاہد کو قید رکھا گیا یہاں تک کہ حجاج کی موت ہو گئی۔

 

👈🏻 یہ واقعہ اہل بیت کے شیعہ، تابعین، اور سچے مصلحین پر بنو امیہ کے ظلم و ستم کی ایک اور مثال ہے۔ ان میں سعید بن جبیر خاص طور پر شہید کیے گئے، اور ان کی شہادت تاریخِ اسلام میں ظلم کے خلاف صبر و استقلال کی علامت بن چکی ہے۔

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_و_آل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1