سوال
❔ہم شیعوں کو شیعہ جعفری کیوں کہا جاتا ہے❗️کیا امام صادقؑ نے شیعہ مذہب کی بنیاد رکھی❕یعنی امام صادقؑ سے پہلے شیعہ موجود نہیں تھے❕❕
💠 #جواب : 👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
👌شیعہ وہ لوگ ہیں جو حضرت علیؑ اور ان کے گیارہ معصوم فرزندوں کی امامت اور ولایت پر ایمان رکھتے ہیں، اور یہ گروہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں موجود تھا۔ خود نبی اکرمﷺ نے اس گروہ کو "شیعہ" کا نام دیا۔
❕تفسیر الدر المنثور میں، جو اہل سنت کے مشہور تفسیری مصادر میں سے ایک ہے، آیت "أُوْلَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ" (البینہ: 7) کے تحت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے:
"ہم رسول اللہﷺ کے پاس موجود تھے کہ حضرت علیؑ ہماری طرف آئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ اور اس کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہوں گے، اور اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وہی بہترین مخلوق ہیں۔"
📚 الدر المنثور، ج 6، ص 379
👌حاکم حسکانی، جو پانچویں صدی ہجری کے مشہور اہل سنت علما میں سے ہیں، اپنی معروف کتاب شواہد التنزیل میں اس روایت کو نبی اکرمﷺ سے مختلف اسناد کے ساتھ نقل کرتے ہیں، اور ان روایات کی تعداد بیس سے زیادہ ہے۔
🔹 ابن عباس سے روایت ہے کہ جب آیت "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ" نازل ہوئی، تو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؑ سے فرمایا:
"یہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں..."
📚 شواہد التنزیل، ج 2، ص 357
❕بہت سے دیگر اسلامی علما اور اہل سنت کے دانشور، جیسے ابن حجر (کتاب: الصواعق) اور محمد شبلنجی (کتاب: نور الابصار)، نے بھی اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
📚 الصواعق، ص 96 - نور الابصار، ص 70
👌لہٰذا، ان روایات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ "شیعہ" کا نام خود نبی اکرمﷺ نے حضرت علیؑ کے پیروکاروں کے لیے منتخب کیا تھا، اور شیعہ کی تاریخ نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد شروع نہیں ہوئی بلکہ ان کی حیاتِ مبارکہ میں ہی موجود تھی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
"وہ (رسول) اپنی خواہش سے نہیں بولتے، یہ صرف وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔" (النجم: 3-4)
📚 پیام قرآن، ج 9، ص 24
❕لیکن شیعہ مذہب کو "جعفری" اس لیے کہا جاتا ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؑ کے دور میں، ظالم حکمرانوں کے تسلط کے باوجود، علوم و معارفِ اسلامی کی اشاعت اور شاگردوں کی تربیت کے لیے جو موقع میسر آیا، وہ ان سے پہلے کے ائمہؑ کو حاصل نہ ہو سکا۔
👌شیخ مفید لکھتے ہیں:
"اتنی زیادہ روایات اور علوم امام جعفر صادقؑ سے نقل کیے گئے کہ وہ تمام شہروں میں پھیل گئے اور عالمِ اسلام کے مختلف گوشوں میں عام ہو گئے۔ کسی بھی دوسرے اہل بیتؑ کے عالم سے اتنی روایات نقل نہیں ہوئیں جتنی امام صادقؑ سے نقل ہوئیں۔ حدیث کے راویوں نے امامؑ کے قابلِ اعتماد شاگردوں کو شمار کیا، جن کی تعداد چار ہزار تک پہنچتی ہے۔ امامؑ کی امامت کے اتنے واضح دلائل ظاہر ہوئے کہ دل روشن ہو گئے اور مخالفین کو اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش نہ رہی۔"
📚 الارشاد، ج 2، ص 179
👌لہٰذا، امام صادقؑ نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا، علوم و معارف اسلام کو عام کیا، اور بڑے بڑے شاگردوں کی تربیت کی، جو اسلامی علوم کے عظیم علما شمار ہوتے ہیں۔ اس وقت سے شیعہ کو "جعفری" کہا جانے لگا، اور بعد میں یہ لقب باقی رہا۔ بعد کے ائمہؑ نے بھی اس کو منع نہیں کیا کیونکہ سب کا مقصد دین کی ترویج اور لوگوں کی ہدایت تھا۔ تمام ائمہؑ سچے تھے اور سب نے لوگوں کو ایک ہی راستے، جو راہِ حق ہے، کی طرف رہنمائی فرمائی۔
📚 معارف دین، ج 3، ص 144