❌ کیا شیعہ ہی حقیقی اہل سنتِ رسول ﷺ ہیں یا مخالفین؟ (Part- 2)
☑️ حدیثِ افتراق (فرقوں میں تقسیم والی حدیث) شیعہ و سنی دونوں میں مشہور ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان میں سے صرف ایک فرقہ نجات پائے گا۔
بعض روایات میں اس “حق فرقے” کی خصوصیات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ابن حجر ہیتمی اپنی کتاب الصواعق المحرقہ (جو شیعہ کے رد میں لکھی گئی ہے) میں ایک روایت کے مضمون کو نقل کرتے ہیں کہ:
🔷 “میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوگی، ان میں سب سے بدترین وہ ہوں گے جو ہماری محبت کا دعویٰ کریں گے لیکن ہمارے حکم کی مخالفت کریں گے۔”
📗 الصواعق المحرقہ، ابن حجر ہیتمی، ص 147
☑️ اس روایت کی بنیاد پر یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ صرف محبت کا دعویٰ کافی نہیں، اصل معیار اطاعت ہے۔ یعنی جو لوگ اہل بیتؑ سے محبت کا دعویٰ کریں لیکن ان کی تعلیمات پر عمل نہ کریں، وہ بدترین گروہ میں شمار ہو سکتے ہیں۔
پھر مخالفین سے سوال کیا جاتا ہے:
کیا واقعی جو لوگ حضرت علیؑ اور اہل بیتؑ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ ان کی عملی تعلیمات کے پیروکار بھی ہیں؟
یا وہ دوسرے فقہی اماموں اور شخصیات (جیسے ابو حنیفہ، مالک وغیرہ) کی پیروی کرتے ہیں؟
اس بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہر فرقہ صرف دعویٰ سے نجات یافتہ نہیں ہو سکتا، بلکہ معیار قرآن اور اہل بیتؑ کی حقیقی پیروی ہے۔
☑️ نتیجہ کے طور پر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ: حقیقی پیروکار وہی ہیں جو دین، عقیدہ اور احکام کو اہل بیتؑ سے لیتے ہیں، اور اس لحاظ سے وہ شیعہ ہیں۔
Gallery
Tap any image to view full screen