ذلك الكتاب اور هدي للمتقين کون ہیں بسند صحیح روایات کی روشنی
تحریروتحقیق:سید اسد عباس نقوی
أَبُوالْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ،قَالَ:حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عِمْرَانَ،عَنْ يُونُسَ،عَنْ سَعْدَانَ بْنِ مُسْلِمٍ،عَنْ أَبِي بَصِيرٍ،عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(عَلَيْهِ السَّلاَمُ)،قَالَ: «الْكِتَابُ:عَلِيٌّ(عَلَيْهِ السَّلاَمُ)لاَ شَكَّ فِيهِ». هُدىً لِلْمُتَّقِينَ قَالَ:«بَيَانٌ لِشِيعَتِنَا)
جناب ابوالحسن علی بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد (ابراہیم بن ہاشم) نے اور انہوں نے ابو عمران سے اور انہوں نے جناب یونس سے اور انہوں نے سعدان بن مسلم سے اور انہوں نے ابو بصیر سے اور انہوں نے حضرت امام ابو عبداللہ الصادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ آپ نےفرمایا الکتاب: علی لاشک فیہ کہ وہ کتاب کہ جس میں کوئی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ اور متقین سے مراد ہمارے شیعہ ہیں-
((1)تفسير القمي بذيل سوره بقره آیت 2؛(2)تفسیر البرہان بذیل آیت؛(3)بحار الأنوار ج 35- الصفحة 402حدیث18(4)معانی الاخبار ج1ص34باب معنی حروف مقطعات )
روایت کی سند صحیح ہے مختصر راویان کی توثیق نقل کررہے ہیں
سند کی تحقیق :
(1)علی بن ابراہیم :ثقہ (المفید من معجم الرجال الحدیث ص 280 الرقم:7818)
(2)ابراہیم بن ہاشم :ثقہ(المفید من معجم الرجال الحدیث ص764 الرقم:331)
(3)یحیی بن ابی عمران الہمدانی :ثقہ (المفید من معجم الرجال الحدیث ص659+660 الرقم:13449؛ خلاصة الأقوال ص292الرقم:1081 قسم اول ثقات؛)
(4)یونس بن عبد الرحمن:ثقہ(المفید من معجم الرجال الحدیث ص679الرقم:13839)
(5)سعدان بن مسلم:ثقہ(المفید من معجم الرجال الحدیث ص348الرقم:5090؛رجال ابن داود حلی ص103الرقم:696؛قسم اول ثقات)
(6)ابو بصیر :ثقہ(المفید من معجم الرجال الحدیث ص666الرقم:13575)
(2)قَالَ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ رَحِمَهُ اَللَّهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ صَالِحٍ عَنِ اَلْمُفَضَّلِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ قُلْتُ قَوْلُهُ ذٰلِكَ اَلْكِتٰابُ لاٰ رَيْبَ فِيهِ فَقَالَ اَلْكِتَابُ أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لاَ شَكَّ فِيهِ أَنَّهُ إِمَامُ هُدىً لِلْمُتَّقِينَ فَالْآيَتَانِ لِشِيعَتِنَا هُمُ اَلْمُتَّقُونَ-
راوی کہتا ہے میں نے امام باقر ع سے پوچھا وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں فرمایا وہ کتاب امیر المومنین ع ہیں جن کےبارے میں کوئی شک نہیں وہ امام ہیں اور ہدایت ہیں متقین کے لیے؛یہ آیات ہمارے شیعوں کے لیے ہیں، وہی متقی ہیں
(تاويل الآيات ج1ص33؛بحار ج24 ص351؛)
روایت کی سند صحیح ہے تمام روات ثقہ ہیں
(1)علي بن إبراهيم بن هاشم,امامی,ثقة
(2)إبراهيم بن هاشم القمي,امامی,ثقة
(3)محمد بن أبي عمير زياد,امامی,ثقة
(4)جميل بن صالح,امامی,ثقة
(5)المفضل:ثقة
(6)جابر بن يزيد الجعفي امامى ثقة
۔
امام اہلسنت حاکم حسکانی حنفی روایت نقل کرتے ہیں ملاحظہ ہوں
أَخْبَرَنَا عَقِيلُ بْنُ الْحُسَيْنِ بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ الْمُقْرِئُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْهُذَيْلِ بْنِ حَبِيبٍ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُقَاتِلٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ: ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فِيهِ يَعْنِي لَا شَكَّ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ نَزَلَ «هُدىً» يَعْنِي بَيَاناً وَ نُوراً «لِلْمُتَّقِينَ» عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الَّذِي لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ، اتَّقَى الشِّرْكَ وَ عِبَادَةَ الْأَوْثَانِ وَ أَخْلَصَ لِلَّهِ الْعِبَادَةَ، يُبْعَثُ إِلَى الْجَنَّةِ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُوَ وَ شِيعَتُهُ-
ابن عباس رض فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ذالک الکتاب لا ریب فیہ" یعنی اس کتاب کا خدا کی طرف سے نازل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، "ھدی (جو کہ ہدایت ہے)"یعنی واضح اور روشن ہے"للمتقین (متقین کے لیے)" علی بن ابی طالب علیہما السلام جس نے پلک جھپکنے کے برابر بھی کبھی شرک نہیں کیا، اپ شرک اور بتوں کی پرستش سے بچے رہے، اور عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، اپ اور اپ کے شیعیوں کو جنت میں بغیر حساب کے بھیج دیا جائے گا۔
(شواہد التنزیل ج1ص86 الرقم:106)