کیا شیعہ ہر اُس شخص کو کافر سمجھتے ہیں جو امامت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو؟ Post 2
علماء کے جوابات 👇
1 : ہم سے میرے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سعد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے اسماعیل بن مهران سے، انہوں نے محمد بن سعید سے، انہوں نے ابان بن تغلب سے روایت کی۔
ابان کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا: جو شخص ائمہ کو پہچانتا ہو لیکن اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے، کیا وہ مؤمن ہے؟ امام نے فرمایا: نہیں۔
میں نے پوچھا: کیا وہ مسلمان ہے؟ فرمایا: ہاں۔
اس کتاب کے مصنف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام شہادتین (یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں) کے اقرار کا نام ہے۔ اسی سے جان و مال محفوظ رہتے ہیں، جبکہ ایمان پر ثواب ملتا ہے۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس کا مال اور خون محفوظ ہو گیا، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور اس کا حساب اللہ عزوجل پر ہے۔"
۔
2 : امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
"بے شک حق، قسم بخدا، میرے ساتھ ہے اے ابن قیس، جیسا کہ میں کہتا ہوں۔ امت میں صرف ناصبی، عہد شکن، ضدی، منکر اور معاند ہی ہلاک ہوئے۔ رہا وہ شخص جو توحید کو تھامے رہے، حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اقرار کرے، اسلام پر قائم رہے، ملت سے خارج نہ ہو، ہم پر ظالموں کی مدد نہ کرے، ہمارے خلاف دشمنی نہ رکھے، خلافت کے بارے میں شک میں ہو، اس کے اہل اور والیوں کو نہ پہچانے، ہماری ولایت نہ سمجھے اور نہ دشمنی رکھے — تو ایسا شخص مسلمانِ مستضعف ہے، اس کے لیے اللہ کی رحمت کی امید ہے اور اس کے گناہوں کے بارے میں اندیشہ ہے۔"
۔
3 : بحوث فی شرح العروة الوثقى – سید محمد باقر الصدر
دوسرا: وہ روایات جو مخالف پر "کا/فر" کا عنوان لاگو کرتی ہیں۔ اس پر جواب یہ ہے کہ ان میں ک/فر سے مراد وہ نہیں جو اسلام کے مقابل ہو، بلکہ اس کا وہی مفہوم ہے جو امام کی نافرمانی کرنے والے پر بولا گیا ہے،
جیسا کہ مفضل کی امام کاظمؑ سے روایت میں آیا ہے: "جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے کفر کیا"۔
حالانکہ واضح ہے کہ نافرمانی وہ کفر پیدا نہیں کرتی جو اسلام کے منافی ہو۔ اور یہ معنی اس لیے درست ہے کہ اسلام کا معیار اللہ اور رسولؐ کی تصدیق ہے، اور یہ تصدیق مخالف میں بھی موجود ہے۔
۔
4 : بحوث فی شرح العروة الوثقى – سید محمد باقر الصدر
فقہاء کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ مخالف پاک ہے، کیونکہ ان میں ارکانِ اسلام محفوظ ہیں۔
۔
5 : سید محمد صادق الصدر:
مسئلہ (14): ہم نے سنا ہے کہ مخالف جنت میں داخل نہیں ہوگا، اس بارے میں آپ کا کیا قول ہے؟
بسمہ تعالیٰ: اگر وہ ناصبی نہ ہو اور اہلِ عصمت سے محبت رکھتا ہو تو ممکن ہے کہ وہ ان کی شفاعت سے جنت میں داخل ہو جائے، اور اسی طرح اگر وہ اپنے عقیدے میں قاصر ہو نہ کہ قصداً کوتاہی کرنے والا۔
۔
6: جو بات بھائی حطاب نے سید الخوئی سے مصباح الفقاہة (540/1) میں نقل کی کہ:
> "روایات، دعاؤں اور زیارات سے ثابت ہے کہ مخالفین پر لعنت کرنا، ان سے براءت اختیار کرنا، ان پر زیادہ سبّ و شتم کرنا، ان پر تہمت لگانا، اور ان کی غیبت کرنا جائز ہے کیونکہ وہ اہلِ بدعت و شک ہیں، بلکہ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں"
— اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عبارت سید الخوئی کے درسی نوٹس (تقريرات بحوث) میں آئی ہے، اس لیے اسے براہِ راست ان کی طرف منسوب کرنا درست نہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ جس شاگرد نے یہ نوٹس لکھے، وہ سید الخوئی کی مراد کو صحیح طرح نہ سمجھ سکا ہو، اور اس نے سید الخوئی کے الفاظ کے بجائے اپنا فہم نقل کر دیا ہو۔
اور اگر بالفرض یہ مان بھی لیں کہ سید الخوئی نے ایسا کہا تھا، تو غالب گمان یہ ہے کہ ان کا مراد "مخالفین" سے وہ لوگ ہیں جو اہلِ بدعت و شک ہیں — یعنی جنہوں نے دین میں نئی بدعتیں ایجاد کیں، انہیں پھیلایا، اور ایسی شُبہات ڈالے جن سے کمزور ایمان والے مؤمنین کے عقائد میں شک پیدا ہو۔ یہ مراد تمام مخالفین پر عام نہیں ہوتی، جیسا کہ ان کے بیان کردہ تعلیل سے ظاہر ہے، اور جیسا کہ ان کے مشہور فتاویٰ سے بھی واضح ہے جن میں وہ مخالفین کو مسلمان مانتے ہیں اور ان کے خون، مال اور عزت کو حرام قرار دیتے ہیں۔
بعد ازاں، بھائی حطاب نے شیعہ معاشرے کو فکری طور پر بھرکانے اور اہلِ سنت کے خلاف مشتعل کرنے کے لیے متعدد روایات اور علمائے شیعہ کے اقوال پیش کیے، لیکن ان تمام کا موضوع "ناصبی" تھا، نہ کہ عام مخالف۔
۔
7: (مخالف غیر ناصبی کا حکم)
(باب: کفر کی اقسام)
علی بن ابراہیم، اپنے والد سے، وہ بکر بن صالح سے، وہ قاسم بن یزید سے، وہ ابو عمرو الزبیری سے، اور وہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔
میں نے عرض کیا: آپ مجھے قرآن مجید میں بیان کیے گئے کفر کی اقسام بتائیں۔
آپؑ نے فرمایا:
قرآن مجید میں کفر پانچ اقسام کا ہے:
1. کفرِ جحود
اور جحود بھی دو طرح کا ہے:
پہلا: ربوبیت کا انکار، یعنی یہ کہنا کہ نہ کوئی رب ہے، نہ جنت، نہ دوزخ۔ یہ دہریوں (زمانہ پرستوں) کا قول ہے جو کہتے ہیں: "ہمیں صرف زمانہ ہلاک کرتا ہے"۔ انہوں نے یہ مذہب اپنی خواہش سے، بغیر تحقیق و دلیل کے بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وہ صرف گمان کرتے ہیں" اور فرمایا: "جن لوگوں نے کفر کیا، ان پر برابر ہے، آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے" — یعنی اللہ کی توحید پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ کفرِ جحود کی پہلی صورت ہے۔
دوسرا: حق کو جاننے کے باوجود اس کا انکار کرنا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "انہوں نے انکار کیا، حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے، ظلم اور تکبر کی وجہ سے" اور فرمایا: "وہ پہلے کافروں کے مقابلے میں فتح کی دعا مانگا کرتے تھے، پھر جب وہ (پیغمبر) آگیا جسے وہ پہچانتے تھے تو اس کا انکار کر دیا۔ پس اللہ کی لعنت کافروں پر ہو".
2. کفرِ نعمت
یعنی اللہ کی نعمت کا انکار۔ جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا: "یہ میرے رب کا فضل ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں"۔ اور فرمایا: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے"۔
3. کفرِ ترکِ اوامر
یعنی اللہ کے احکام کو چھوڑ دینا۔ جیسا کہ بنی اسرائیل سے اللہ نے میثاق لیا کہ ایک دوسرے کا خون نہ بہاؤ اور ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالو، مگر انہوں نے اس کا انکار کیا۔ اللہ نے فرمایا: "کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور ایک حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟" پھر فرمایا: "ایسا کرنے والوں کا بدلہ دنیا میں ذلت اور قیامت میں سخت عذاب ہے".
4. کفرِ براءت
یعنی کافروں سے اظہارِ براءت۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم صرف اللہ پر ایمان لاؤ". اور جیسے شیطان قیامت کے دن اپنے پیروکاروں سے کہے گا: "میں اس شرک سے کفر کرتا ہوں جو تم نے پہلے میرے ساتھ کیا تھا".
یہ ہیں کفر کی پانچ قسمیں جو قرآن مجید میں بیان ہوئیں۔
۔
8: پس جو شخص امامت پر اس معنی کے ساتھ ایمان رکھتا ہے جو ہم نے بیان کیا، وہ ان کے نزدیک ایمان کے خاص معنی میں "مؤمن" ہے، اور اگر صرف ان چار ارکان پر اکتفا کرے تو وہ مسلمان اور ایمان کے عام معنی میں "مؤمن" ہے، اس پر اسلام کے تمام احکام لاگو ہوتے ہیں — جیسے اس کے خون، مال اور عزت کی حرمت، اس کی حفاظت کا وجوب، اس کی غیبت کی حرمت اور دیگر احکام۔ یہ نہیں کہ امامت پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہ مسلمان کے دائرے سے خارج ہو جائے (معاذ اللہ)۔ ہاں، امامت پر دیانتداری سے ایمان رکھنے کا اثر قیامت کے دن قرب و کرامت کے درجات میں ظاہر ہوگا، لیکن دنیا میں تمام مسلمان برابر ہیں اور ایک دوسرے کے ہم مرتبہ ہیں۔ البتہ آخرت میں مسلمانوں کے درجات اور منازل ان کی نیتوں اور اعمال کے لحاظ سے مختلف ہوں گے، اور اس کا علم اور فیصلہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سپرد ہے۔
۔
9: اس نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے حماد بن عثمان سے، انہوں نے عبید بن زرارہ سے، انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"اے لوگو! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم سے قتال کروں یہاں تک کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں محمد اللہ کا رسول ہوں۔ جب تم یہ کر لو گے تو تمہارے مال اور تمہارے خون تمہارے لیے محفوظ ہو جائیں گے مگر اس حق کے ساتھ جو (اسلام میں) مقرر ہے، اور تمہارا حساب اللہ پر ہے۔"
۔
تمام 9 اسکین بلترتیب موجود ہیں
Gallery
Tap any image to view full screen