Back to شیعہ خیر البریہ

شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں

شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں
شیعہ ہی کامیاب اور خیر البریہ ہیں

📜 إِنَّ الَّذِینَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُوْلَئكَ هُمْ خَیرُْ الْبرَِیة

 

📃 بے شک وہ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ہی بہترین خلائق میں سے ہیں۔

 

📗 قرآن 

 

تفسیر

اہل سنت اور اہل شیعہ کی اہم حدیثی کتب میں خیر البریہ کی تفسیر علی اور ان کے شیعوں کے ساتھ بیان ہوئی ہے ۔

 

حاكم حسكانی نیشاپوری اہل سنت کے معروف عالم دین نے اپنی معروف کتاب شواہد التنزیل میں 20 روایات کو مختلف اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ ان میں سے بعض روایات کی سند ابن عباس،[1] ابو برزه،[2] و جابر بن عبدالله انصاری[3] تک منتہی ہوتی ہے۔ 

 

مثال کے طور پر ابن عباس سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے حضرت علی (ع) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

 

📜 هو أنت و شیعتک، تأتی أنت و شیعتک یوم القیامة راضین مرضیین[4]

 

📃 اے علی !وہ تم اور تمہارے شیعہ ہو ،قیامت کے روز تم اور تمہارے شیعہ اس حال میں حاضر ہو نگے کہ خدا تم سے راضی اور تم خدا سے راضی ہو گے۔

 

شیعہ اصطلاح

 

اس آیت کے شان نزول سے استفادہ ہوتا ہے کہ شیعہ کا لفظ رسول اللہ کے زمانے میں رائج تھا اور رسول اللہ نے اپنی زبان مبارک سے حضرت علی کے مخصوص پیروکاروں کی طرف اشارہ کیا ہے.

 

انسان کی فرشتوں پر برتری

 

أُولئِكَ هُمْ خَیرُ الْبَرِیةِ (وہ بہترین مخلوق ہیں) اس بات کی بیان گر ہے کہ با ایمان اور نیک عمل انجام دینے والے انسانوں کا مقام فرشتوں سے برتر ہے نیز آیت کا اطلاق تمام مخلوقات سے ان کی برتری کو بیان کرتا ہے ۔[5]

 

حوالہ جات

1: حاکم حسکانی، شواہد التنزیل، ج۲، ص۳۵۸؛ سیوطی، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، ج۶، ص۳۷۹

2: حاکم حسکانی، شواہد التنزیل، ج۲، ص۳۵۹؛ طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۱۰، ص۷۹۵

3: حسکانی، شواہد التنزیل، ج۲، ص۳۶۲؛ سیوطی، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، ج۶، ص۳۷۹؛ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج۲۰، ص۳۴۱

4: حاکم حسکانی، شواہد التنزیل، ج۲، ص۳۵۸.

5: مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج۲۷، ص۲۰۹

 

#تعلیمات_اہلبیتؑ

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38