Back to شیعہ خیر البریہ

شعبہ (راویِ حدیث) امام علیؑ کے فضائل اس خوف سے چھپاتے تھے کہ کہیں لوگ ان فضائل کو سن کر اہلِ بیت کے سچے پیروکار (شیعہ) نہ بن جائیں

شعبہ (راویِ حدیث) امام علیؑ کے فضائل اس خوف سے چھپاتے تھے کہ کہیں لوگ ان فضائل کو سن کر اہلِ بیت کے سچے پیروکار (شیعہ) نہ بن جائیں
شعبہ (راویِ حدیث) امام علیؑ کے فضائل اس خوف سے چھپاتے تھے کہ کہیں لوگ ان فضائل کو سن کر اہلِ بیت کے سچے پیروکار (شیعہ) نہ بن جائیں
شعبہ (راویِ حدیث) امام علیؑ کے فضائل اس خوف سے چھپاتے تھے کہ کہیں لوگ ان فضائل کو سن کر اہلِ بیت کے سچے پیروکار (شیعہ) نہ بن جائیں

شعبہ (راویِ حدیث) امام علیؑ کے فضائل اس خوف سے چھپاتے تھے کہ کہیں لوگ ان فضائل کو سن کر اہلِ بیت کے سچے پیروکار (شیعہ) نہ بن جائیں

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

"بے شک جو لوگ اُن واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جو ہم نے نازل کیں، اس کے بعد کہ ہم نے انہیں کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر دیا —

تو ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے، اور لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں۔"

(سورۃ البقرۃ، آیت 159)۔

 

اور تاکہ منافقوں کو ظاہر کر دے،

جن سے کہا گیا: “آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو یا کم از کم (دشمن کا) دفاع ہی کرو” —

تو وہ بولے: “اگر ہمیں یقین ہوتا کہ جنگ ہوگی تو ہم تمہارے ساتھ نکلتے۔”

 

یہ لوگ اُس دن ایمان کے مقابلے میں کفر کے زیادہ قریب تھے۔

وہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی،

اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔

(سورۃ آلِ عمران، آیت 167)

امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے ابو عبدالرحمن عبداللہ بن احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی المروزی (213–290ھ) روایت کرتے ہیں:

 

شعبہ (بن الحجاج) نے اہلِ کوفہ سے مخاطب ہو کر کہا:

 

"ہم سے حکم نے ابن ابی لیلیٰ کے واسطے سے علیؑ کے بارے میں ایسی بات روایت کی ہے،

کہ اگر میں تمہیں وہ بات سنا دوں تو تم روافض (شیعہ) بن جاؤ گے!

خدا کی قسم! تم اسے کبھی نہیں سنو گے!"

 

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

 

"اگر میں تمہیں وہ بات سنا دوں تو تم خوشی سے ناچنے لگو گے!"

 

مجھے محمد بن عبد اللہ (المُخرّمی) نے بیان کیا،

انہوں نے کہا: ہمیں ابو داود الطیالسی نے روایت کیا،

انہوں نے شعبہ سے،

انہوں نے کہا:

 

"ہم سے حکم نے، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے، علیؑ کے بارے میں ایسی بات روایت کی ہے

کہ اگر میں تمہیں وہ بتا دوں تو تم خوشی سے ناچ اٹھو گے!

خدا کی قسم! تم یہ بات مجھ سے کبھی نہیں سنو گے۔"

 

اور یہی روایت محمود بن غیلان نے بھی اسی طرح بیان کی،

البتہ اس میں الفاظ تھے:

 

“لترفضتم” (یعنی تم سب روافض بن جاؤ گے)۔

 

ابو عبدالرحمن عبداللہ بن احمد بن حنبل نے فرمایا:

 

“یہی روایت (لترفضتم) زیادہ قرینِ صحت ہے۔”

 

(حوالہ: العلل ومعرفة الرجال، جلد 3، صفحہ 354، روایت نمبر 5569، 5570)

 

📃 سید عابد افتخار

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3