Back to شیعہ خیر البریہ

امام شافعی کا کہنا کہ میں رافضی ہوں

امام شافعیؒ نے جب فضائل اہل بیت علیہم السلام بیان کرنے شروع کیے تو انہیں رافضی کہا جانے لگا۔ لہذا تنگ آکر انہیں کہنا پڑا:

 

إن كان رَفْضاً حبُّ آلِ محمدٍ

فَلْيَشْهَدِ الثقلانِ أنی رافضی

 

*ترجمہ:* اگر آلِ محمد سے محبت رفض ہے تو ثقلان گواہ ہیں میں رافضی ہوں۔

 

ایسے ہی لوگوں کی کیفیت کے بارے میں اپنے دیوان میں لکھتے ہیں:

 

اذافی مجلس نذکر علیاؑ

وسبطیہ وفاطمة الزکیة

 

فاجری بعضھم ذکری سواھم

فاُوقِنُ انہ ابن سلقلقیہ

 

اذا ذکروا علیاؑ او بنیہ 

تشاغل بالروایات الدنیة

 

وقال تجاوزوا یاقوم عنہ

فھذا مَن حدیث الرافضیہ

 

برئتُ الی المُھیمن من اناس

یرون الرفض حب الفاطمیة

 

علیٰ آل الرسول صلٰوة ربی 

ولعنتہ لتلک الجاھلیة 

 

*ترجمہ:* جب ہم کسی مجلس میں علی المرتضٰیؑ، حسنین کریمین ع، اور فاطمہ سلام اللہ علیھا کا ذکر کرتے ہیں، توبعض لوگ دوسروں کا ذکر چھیڑ دیتے ھیں، پس میں یقین کرلیتا ہوں کہ بےشک یہ رنڈی کی اولاد ہیں۔

 

جب بھی لوگ علی المرتضٰیؑ یا ان کے فرزندان کا ذکر کرتے ہیں تو کچھ لوگ خسیس (گھٹیا) روایات میں مشغول ہوجاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اے قوم! اس عالم کو چھوڑو یہ رافضیوں والی باتیں کرتا ہے۔

 

میں ایسے لوگوں سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتا ہوں جو سیدہ فاطمہ کی محبت کو رفض گمان کرتے ہیں۔ آل رسول ﷺ پر میرے رب کی رحمت کاملہ ہو، اور ان جاہلوں پر اس کی لعنت ہو۔

 

*(دیوان الامام الشافعی، ص:٤١٢،٤١٣)* 

 

۔

 

حافظ ذہبی نے اپنی سند سے ربیع بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے امام شافعیؒ کے ساتھ حج کیا، وہ ہر جگہ روتے ہوئے اشعار پڑھتے تھے، جن میں سے ایک شعر یہ ہے

 

إِنْ كَانَ رَفْضاً حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ ... فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلانِ أَنِّي رَافِضِي

 

اگر آلِ محمد علیھم السلام سے محبت کرنا رافضیت (شیعیت) ہے تو جن اور انسان گواہ رہیں کہ میں رافضی (شیعہ) ہوں۔

 

(سير أعلام النبلاء: حافظ شمس الدین، ذہبی، جلد 10، صفحہ 58، ناشر: مؤسسة الرسالة، ط3، 1985)

 

امام شافعی رح فرماتے ہیں۔

 

یاأھل بیت رسول اللہ حبُّکم فرض من اللہ في القرآن انزلہ کفاکم من عظیم القدر أنکم مَن لم یصلِّ علیکم لاصلاۃ لہ 

 

اے اہل بیت پیغمبر ۔ص۔ آپ کی محبت کو خدا نے قرآن میں نازل کر کے واجب قرار دے دیا ہے۔ آپ کی قدر و منزلت کے لئے بس یہی کافی ہے کہ جو شخص بھی آپ پر صلوات نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہوتی.